جامع تبصرہ
محمد عرفات وانی
اردو زبان و ادب کی تاریخ میں کشمیری پنڈتوں اور کائستھوں کا کردار ایک تابناک کہکشاں کی مانند ہے، جس نے نہ صرف زبان کی تزئین کی بلکہ اس کے ادبی افق کو تہذیبی روشنی سے منور کیا۔ اس روشن فہرست میں دو گروہ نمایاں ہیں، ایک وہ ادیب جو کشمیر سے باہر نکل کر لکھنؤ، دہلی اور دیگر شہروں میں اپنا ادبی مسکن قائم کرتے ہیں جیسے پنڈت دیا شنکر نسیم، رتن ناتھ سرشار اور چکبست اور دوسرا وہ قلمکار جو اپنی مٹی اور اپنی جڑوں سے منسلک رہتے ہوئے اردو کی خدمت میں لگے رہے۔ تاہم 1990ء کے ہولناک حالات نے اس چھوٹی مگر مخلص قوم کو وادی سے ہجرت پر مجبور کیا، جن میں پریم ناتھ پردیسی، ڈاکٹر برج پریمی اور ویریندر پٹواری جیسے نام قابل ذکر ہیں، جنہوں نے جلاوطنی کے دکھ کو اپنے فن کا حصہ بنایا۔ویریندر پٹواری اردو ادب کے اس سلسلے میں ایک معتبر اور نمایاں نام ہیں جنہوں نے 1965ء سے اپنی تخلیقات کے ذریعے ادبی افق پر اپنی الگ پہچان قائم کی۔ سوپور کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے پٹواری صاحب نے اپنے والد پنڈت پریم ناتھ پٹواری سے ادب کی گہری اور پختہ وراثت حاصل کی۔ پیشے کے لحاظ سے سول انجینئر ہونے کے باوجود ان کی تخلیقی روح نے ہر آزمائش کو پیچھے چھوڑ دیا حتیٰ کہ ایک حادثے کے بعد جسمانی معذوری اور ہجرت کے کٹھن مراحل بھی اُن کے قلم کی روانی کو روک نہ سکے۔ ان کی تحریریں نہ صرف کشمیر کی خوشبو اور وہاں کے بدلتے سماجی مناظر کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ انسانی روح کے اندر چھپے کرب اور احساسات کو بھی بڑے نفیس انداز میں بیان کرتی ہیں۔
ان کا مجموعہ کہانیاں ’’میری کشتی لوٹا دو‘‘ داخلی درد، جڑوں سے وابستگی اور اپنی شناخت کی تلاش کا ایک بھرپور ادبی آئینہ ہے۔ اس عنوان میں چھپی پکار اور تڑپ محض ایک فرد کی نہیں بلکہ اس نسل کی داستان ہے جو اپنی ماضی کی بازیافت اور اپنی ثقافت کی حفاظت کی خواہاں ہے۔ پٹواری صاحب کی کہانیاں انسانی تعلقات کی نزاکت، ہجرت کے المیے اور مشکلات کے باوجود زندگی کی جدوجہد کو دردمندی اور باریکی سے پیش کرتی ہیں۔ ان کا فن قاری کو یہ شعور دلاتا ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی ناہموار کیوں نہ ہوں، سچا ادیب اپنے الفاظ کے ذریعے اپنی زمین اور تہذیب کو ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔
ویریندر پٹواری اردو ادب کے ممتاز ہم عصر ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 1965ء سے انہوں نے اردو، ہندی، انگریزی اور کشمیری میں افسانے، ناولٹ، شاعری اور ڈرامے تخلیق کئے۔ ان کی ادبی کاوش کے نتیجے میں اب تک 300 سے زائد افسانے برصغیر کے معتبر رسائل جیسے آج کل، بیسویں صدی، ایوان اردو اور شیرازہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی افسانے نگاری کا اسلوب منفرد، پر اثر اور فلسفیانہ گہرائی سے معمور ہے جو مختصر کہانی میں بھی معنوی وسعت اور جذباتی شدت پیدا کر دیتا ہے۔ان کی تخلیقات میں 10 افسانوی مجموعے شامل ہیں:فرشتے خاموش ہیں (1981)، دوسری کرن (1986)، بے چین لمحوں کا تنہا سفر (1988)، آواز سرگوشیوں کی (1995)، ایک ادھوری کہانی (2002)، افق (2003)، دائرے (2010)، آٹھوں کے دور میں (2011)، لالہ رخ (2013) اور تماشائی (2022)۔اس کے علاوہ دو ڈراموں کے مجموعے (آخری دن 1983 اور انسان 2006)، ہندی ناولٹ کب بھور ہوگی (2000) اور کشمیری افسانوں کا مجموعہ علم (2007) بھی شامل ہیں۔ ان کے کریڈٹ پر 16 ریڈیو ڈرامے، 7 ٹی وی پلیز، 6 اردو ٹی وی فلمیں اور 18 اردو ٹیلی سیریز (تقریباً 100 اقساط) شامل ہیں۔ ان کے فن پر جموں یونیورسٹی میں ایم فل کے دو تحقیقی مقالے بھی لکھے جا چکے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات اور انعامات سے نوازا گیا ہے جن میں شیریشٹھا سمان (ہارمنی انڈیا 2022)، اردو اکادمی بہار، دہلی اردو اکادمی اور جموں و کشمیر اردو اکادمی شامل ہیں۔
نامور ادیب دیپک بدکی ویریندر پٹواری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان کا اسلوب منفرد اور جاذب نظر ہے جس میں کشمیر کی مٹی اور وہاں سے ان کی محبت صاف جھلکتی ہے۔ دیپک بدکی کے مطابق پٹواری صاحب کی تحریریں قناعت، دردمندی اور انسانیت دوستی کی عکاس ہیں اور ان کے قلم کی روانی ہر حالت میں برقرار رہی۔
ویریندر پٹواری کا تازہ مجموعہ کہانیاں ’’میری کشتی لوٹا دو‘‘ اردو ادب میں ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ یہ کتاب محض کہانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ مصنف کے مشاہدات، گہرے فنی شعور اور انسانی تجربات کا نچوڑ ہے۔ 140 صفحات پر مشتمل یہ کتاب جی۔ این۔ کے پبلیکیشنز کی شائع کردہ، ترتیب اور پیشکش میں بے حد متاثر کن ہے۔ اس کا عنوان خود ایک فلسفیانہ گہرائی رکھتا ہے جو ماضی کی یادوں، کھوئی ہوئی شناخت اور انسان کی باطنی کشمکش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اس کتاب میں کل 40 کہانیاں شامل ہیں جو انسانی زندگی کے مختلف رنگوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے عنوانات میں، میں فاتح ہوں، ہوک، سودا، طوطا، انجام، نا جانے کیوں، جمود، اچانک، بود نابود، دھوئیں کی لکیریں، عجوبہ، سوال، اور اگر، جواز، انوکھا کھیل، اجنبی دوست، معصوم، یہ دیش کون ہے، ایک ہی راستہ، دشمن، بلاعنوان، مگر کب، تماشائی، وجود، سزا، فریاد، ایک انوکھی عدالت، گرداب، کچھ میری سنو، کہیں یہ وہ تو نہیں، خاموشی، تلاش، ہمارے اپنے محسن جی، وصیت، پکار، ڈرپوک، برف، مینا بازار، کروٹ اور میری کشتی لوٹا دو شامل ہیں۔ ہر کہانی اپنے اختصار کے باوجود قاری کو گہرے انسانی جذبات، سماجی شعور، سیاسی الجھنوں اور باطنی کشمکش کی ایک نئی دنیا میں لے جاتی ہے۔
ویریندر پٹواری کی تحریروں کی سب سے بڑی خوبی ان کا سادہ مگر پر اثر اسلوب ہے۔ وہ بڑی بات کو کم سے کم الفاظ میں بیان کرنے کے ماہر ہیں، جو جدید افسانچہ نگاری کا بنیادی تقاضا ہے۔ دیپک بدکی نے انہیں صوفی منش قلمکار قرار دیا ہے اور یہ صفت ان کی تحریروں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ ہر کہانی اپنے اندر ایک فلسفہ، ایک سوال، اور ایک انسانی تجربہ رکھتی ہے۔ مجموعے کے آخری باب میری کشتی لوٹا دو میں مصنف نے اپنے خیالات اور مشاہدات کا ایسا عکس پیش کیا ہے جو قاری کے ذہن پر دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔
کہانیاں مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں جیسے کرونا وبا، انسانی رشتے، سماجی بے حسی، معاشرتی انتشار، تاریخی و سیاسی حالات، اخلاقی سوالات اور والدین و بچوں کے تعلقات۔ مثال کے طور پر، سیکشن 27 ایک انوکھی عدالت میں ملزم کی خاموشی اور اخلاقی فیصلہ، سیکشن 29 کچھ میری سنو میں جگری یادیں اور خاندانی محبت، سیکشن 32 تلاش میں ہجرت کے اثرات انسانی زندگی اور جذبات کی پیچیدگیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ ’’وصیت‘‘، ’’پکار‘‘ اور ’’ڈرپوک‘‘ جیسے ابواب انسانی نفسیات، ہمدردی اور اخلاقی شعور کو بے باک انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ’’برف‘‘ اور ’’مینا بازار‘‘ میں فرقہ وارانہ نفرت، انسانی برداشت اور تباہ شدہ معاشرتی ڈھانچوں کی منظر کشی ہے۔ ’’کروٹ‘‘ میں غیر متوقع بحران کے باوجود عزم اور اجتماعی کوشش انسانی ارادے کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔
ویریندر پٹواری کا فنی سفر محض لفظوں کا کھیل نہیں بلکہ اس تہذیبی نوحے کی آواز ہے جو ہجرت کے تپتے صحراؤں میں اپنی جڑوں کی نمی تلاش کر رہا ہے۔ عمر کے اس ڈھلتے پڑاؤ اور ضعیفی کے عالم میں بھی، جہاں عام انسان اپنی گرتی ہوئی صحت اور شخصی آسائشوں کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے، پٹواری صاحب کا کمال یہ ہے کہ انہیں اپنی صحت سے زیادہ اردو ادب کی ترویج و بقا کا خیال رہتا ہے۔ ان کا یہ تازہ مجموعہ میری کشتی لوٹا دو محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ایسی جلاوطن روح کی پکار ہے جو ماضی کے شفاف پانیوں میں اپنی کھوئی ہوئی شناخت اور انسانیت کے گم گشتہ رشتوں کی بازیافت چاہتی ہے۔ پٹواری صاحب کا فن یہ ثابت کرتا ہے کہ جب زمین پاؤں سے نکل جائے تو سچا ادیب اپنے الفاظ کے ذریعے ایک ایسی کائنات تخلیق کر لیتا ہے جہاں یادوں کے جزیرے اور امید کے سائبان کبھی مسمار نہیں ہوتے۔ ان کی یہ ادبی ہمت اور اردو سے بے لوث عشق نئی نسل کے قلم کاروں کے لیے ایک روشن مشعل راہ ہے۔میری رائے میں، یہ مجموعہ نہ صرف اردو افسانچہ نگاری کے لیے ایک ممتاز اضافہ ہے بلکہ انسانی زندگی، سماجی شعور اور فلسفیانہ گہرائی کے تناظر میں بھی ایک لازوال شاہکار ہے۔ ویریندر پٹواری نے اپنی کہانیوں کے ذریعے نہ صرف معاشرتی و سیاسی مسائل کو نمایاں کیا بلکہ انسانی رشتوں، اخلاقی اقدار اور امید کی روشنی کو بھی بے باک انداز میں قاری کے سامنے رکھا۔ ہر منظر، ہر کردار، ہر تمثیل اور ہر استعارہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط اور مکمل محسوس ہوتا ہے۔
ویریندر پٹواری کا مجموعہ کہانیاں میری کشتی لوٹا دو اردو ادب میں ایک نہایت سنجیدہ، فکری اور ادبی اہمیت کا حامل شاہکار ہے۔ یہ کتاب قاری کے سامنے انسانی تجربات، اخلاقی شعور، سماجی تضادات اور سیاسی پیچیدگیوں کی ایک جامع تصویر پیش کرتی ہے اور ہر منظر میں انسانی جذبات اور فلسفیانہ گہرائی کی نفیس جھلک دکھاتی ہے۔ اس شاندار مجموعے کے ذریعے ویریندر پٹواری نے اپنی کہانی نویسی اور افسانچہ نگاری میں مہارت کا لوہا منوایا ہے اور اردو ادب کے دامن کو ایک نئی مالا سے آراستہ کیا ہے۔ میں، وانی عرفات اپنی طرف سے ویریندر پٹواری اور ان کی اس شاندار ادبی تخلیق ’’میری کشتی لوٹا دو‘‘ پر دلی اور دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ مجموعہ ہر اردو کے شائق کے لیے ایک قابل قدر تحفہ اور فکری روشنی کا سرچشمہ ہے۔
(رابطہ۔9622881110)
[email protected]