یوںتو دنیا کے ہر انسان کواِس حقیقت سے انکار نہیںکہ پاور ایک ہی ہے، طاقت واحد ہے جس کا سب پر کنٹرول ہے لیکن اتنا جاننے کے باجود بھی انسانیت دم توڑتی ہی جا رہی ہے۔انسان اِس حالت ِ وبا ء میںبھی کوئی عبرت اور سبق حاصل کرنے سے قاصر ہے، موجودہ صورتحال جہاںدم توڑتی انسانیت کو دوام بخشنے کیلئے ایک اہم موقعہ ہے اور یہ کہیں نہ کہیںیہ اُمیدیں بھی جاگ اُٹھی تھیں کہ اب کے انسان کچھ نہ کچھ عبرت و سبق حاصل کرے گا۔لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ’’وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے‘‘انسان اِن سنگین حالات میںبھی اللہ تعالیٰ کو ناراض کئے بغیر نہیںرہ سکتا،انسان حسب ِ معمول اپنی غلطیوںکو دہراتا ہی جا رہا ہے اور اس کے رویہ میں تبدیلی نہیں آرہی ہے۔
گویایہاں یہ بات آئینے کی طرح صاف ہو جاتی ہے کہ انسان توخودہی ایک وباء ہے جو سب وبائوں کے پھیلانے کا باعث بن رہا ہے۔انسان خود ہی ایک قاتل بن کر دندناتا پھر رہا ہے۔ غور سے سمجھنے کی کوشش کی جائے توموجودہ وقت میںخطہ ارض پر انسانی وائرس اور کرونا وائرس کا مقابلہ ہے جس میں انسان کرونا وائرس جیسی مہلک وبا ء کو شکست دینے میںابھی تک کامیاب ثابت ہورہا ہے۔کرونا وائرس انسانوںکو موت کے گھاٹ اُتار رہا ہے اور انسان تو ’’انسانیت واحساس ‘‘کا قتل ِ عام کر رہا ہے۔لمحہ ٔفکریہ تو یہ ہے کہ جس قدر تیزی سے کرونا وائرس اپنے پھیلائو میںاضافہ کر رہا ہے، انسان اُس سے دوگنی رفتار میںانسانیت کا گلہ گھونٹ رہا ہے۔ یہاںانسان کے اِن انسانیت سوز رویوں کی کتنی مثال پیش کی جائیں۔
جہاں جائیں وہا ںانسانیت کے قاتلوںکا سامنا ہوتا ہے، اِن قاتلوںکے مختلف روپ ہیں۔سرکاری سسٹم پر نظر دوڑائی جائے توسرکاری دفاترمیںانسانیت کے قاتل تاک میںہوتے ہیں کہ کب شکار ہاتھ لگے اور ہم اپنی بھوک مٹائیں۔ انتظامیہ عوامی مسائل کے ازالہ کو لیکر کس حد تک سنجیدہ اور ایماندارنہ کردار ادا کر رہی ہے، اُس کی اصلی اور حقیقی تصاویر ایک ایک کر کے منظر عام پر آتی ہی جا رہی ہیں۔سرکاری آفیسران جو لاکھوں اور کروڑوںکے حساب سے تنخواہیں وصولتے ہیں ،سرکار انہیں تعینات کرکے اسی لئے تنخواہیں دیتی ہے کہ وہ عوامی مشکلات کا ازالہ کریں لیکن یہاں ہمارے جموں و کشمیر میں کہانی کچھ الگ ہی ہے ،یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے ،یہاں تو آج تک اُنہی افراد کے مسائل حل نہیں ہوپائے جو سرکاری آفیسران کے چہیتے ہیں، جو کسی بھی قسم کا اثر رسوخ رکھتے ہیں، سرکار و انتظامیہ ابھی تک اپنے ہی منظور نظر لوگوںکو خوش کرنے میںناکام ہے پھر عام انسان کا بھلا کب ہوگا اِس کا کوئی اندازہ نہیںاور نہ ہی کوئی اُمید باقی ہے۔اِدھر جموں میںبیشمار لوگ درماندہ ہوکر بے یار و مدد گار ہیں ،انہیں نہ تو گھر جانے کیلئے اجازت نامہ (PASS)دیا جاتا ہے اور نہ ہی رہنے اور کھانے پینے کیلئے کسی قسم کی مدد کی جاتی ہے۔ ایسے لوگ جو اثرو رسوخ نہیں رکھتے ہیں، انتظامیہ کے سامنے اُن کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، وہ در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں،اُن کا کوئی پرسان حال نہیں، اُن کے پاس پیسہ ہے اور نہ ہی اثر رسوخ۔ انتظامیہ کی دو رنگی پالیسی کے باعث عام انسان جو پہلے سے ہی بے بس ہے مزید بے بسی کا شکار ہو رہا ہے۔ یہی حالت وادی ٔ کشمیر میں درماندہ مسافروں کی بھی ہے وہاںکی انتظامیہ بھی صرف اثر رسوخ رکھنے والوں پر مہربان ہے۔ آج کے اِس مشکل دور میں بھی چاپلوسوں کاراج ہے، عام انسان کا جینا محال ہو گیا ہے۔موجودہ وقت میں انسانیت کے قاتلوںکا سامنا ہر چوک ،ہر نکڑ اور ہر موڑ پر ہوتا ہے۔ یہاںکوئی پولیس اہلکار کسی سادہ اور غریب پر ڈنڈے برسا کرانسانیت کا گلہ دباتا ہے تو وہاں کوئی بیروکریٹ ایک اونچی کرسی پر بیٹھے ایسے پاسز(Passes) پر اپنے دستخط کرتا ہے جو اُس کے چہیتے ہوں ،سفارشی ہوں، جو اُس کے اردگرد گھومتے ہوں۔ مستحق ، مجبور اور بے بس یہاںبھی نظر انداز ،وہ آج بھی قطاروں میںکھڑے ہوکر پولیس کے ڈنڈے کھارہے ہیں اور پسینہ بہار ہے ہیں۔سرکاری دفاترمیں انسانیت کا قتل عام کچھ اِس انداز میںہوتا ہے۔
یاد رکھیئے !جب تک انسانیت کا یوںہی گلہ گھونٹا جائے گاتب تک انسان ایسی مصیبتوں اور وبائوںکے شکار ہوتے رہیں گے۔جس دن انسانیت کو دوام بخشنے کیلئے انسان کے اندر احساس جاگ اُٹھے گا،اُس کا ضمیر اُسے کچھ اچھاکرنے کیلئے جھنجوڑے گا تو اُس د ن تمام وبائوں،بلائوں اور مصیبتوں سے چھٹکارا ملنے کے امکانات روشن ہونگے،لیکن فی الحال اس طرح کی کوئی اُمید نہیںکی جا سکتی کیونکہ موجودہ وقت کا انسان اِس حقیقت کو سمجھنے سے راہ ِ فرار اختیار کیا ہوا ہے ۔یوں کہا جائے کہ انسان ’’انسانیت ‘‘کو زندہ ہونے ہی نہیں دیتا تو بیجا نہ ہوگا۔انسان کے ہاتھوںانسانیت کی موت کا ننگا ناچ اِس طرح بھی کھیلا جا رہا ہے کہ ڈرائیور حضرات اِس نازک اور سنگین صورتحال میںمسافروںکو دو دوہاتھوں لوٹ رہے ہیں۔ ناجائز منافع خوری عروج پر ہے۔ جموںسے سرینگر جانے کیلئے15ہزار تک کا کرایہ مانگا جا رہا ہے، بالکل اسی طرح سرینگر سے جموںآنے کیلئے بھی ڈرائیوروںکا مجبور و لاچار مسافروں کیساتھ ایسا ہی رویہ ہے۔انسانیت کے ایسے ہی دشمن عالمی وبا کرونا کو ختم نہیںہونے دیتے بلکہ ایسی شرمناک حرکات انجام دیکر کرونا سے بھی مہلک کسی وبا ء کو دعوت عام دی جاتی ہے۔یہی حال ہمارے کچھ دوکاندار حضرات کا ہے جو گاہکوںکی چمڑی اُدھیڑنے میںکوئی کسر باقی نہیںرکھتے۔اب فیصلہ خود انسان ہی کرے کہ کرونا کا قہر سب سے زیادہ خطرناک ہے یا انسان کی یہ درندگی جو لمحہ لمحہ انسانیت کا قتل عام کررہی ہے۔ ایسے حالات میںجہاںانسان کو انسان کے کام آنا چاہیے تھا ،ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے تھی، ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ کوسمجھنا چاہیے تھا لیکن انسان ہے کہ انسان کو ہی دُکھی کر رہا ہے، انسان ہی انسان کو ستا رہا ہے، انسان ہی انسان کو نوچ رہا ہے اورپھر یہی انسان اچھے کی اُمید لگائے بیٹھا ہے،سازگار حالات کے خواب دیکھ رہا ہے۔کیا ایسے میںاُمید کی کوئی کرن پھوٹ سکتی ہے ؟جہاںانسان جہالت، نادانی، ظلم و بربریت، ناانصافی،ناجائز منافع خوری، لوٹ مار،اور کدورت و دشمنی جیسی دسیوں برائیوں کے تاریک بادلوں کی اوٹ میں زندگی گزار رہا ہو۔جہاںدوسروں کے حق پر ڈاکہ مارنا انسان کیلئے روز کا معمول بن گیا ہو؟نہیںہر گز نہیں !!ایسی صورتحال میںانسان کبھی بھی معاف نہیںکیا جائے گا، انسان تب تک خسارے میںرہے گا جب تک وہ اپنے اندر انسانیت کو زندہ نہیںہونے دے گا۔
اس لئے دماغ پر زور ڈالئے ، اپنے زنگ آلود ذہنوںکو جھنجوڑیئے، غور کیجئے اورسمجھنے کی کوشش کیجئے، آپ کو یقینامعلوم ہوجائے گا کہ واقعی کرونا وائر س، جسے ہم عالمی وبا ء اور سب سے زیادہ مہلک وبا بھی کہتے ہیں ،سے زیادہ خطرناک انسانوں کاایجاد کردہ یہ وائرس ہے جسے انسان ہی پھیلاتا ہے اور انسان ہی اِس کا شکار ہو رہا ہے۔ کروناسے انسان مر رہے ہیںلیکن جو وائرس رشوت خوری ،ناجائز منافع خوری ، لوٹ مار اور سادہ لوح لوگوںپر مظالم ڈھانے کی شکل میںانسان خود ایجاد کر کے سماج میںپھیلا رہا ہے، اُس سے انسانیت دم توڑ رہی ہے ،ظاہر سی بات ہے کہ جب انسان کے ہاتھوں ’’انسانیت ‘‘کا قتل عام ہوتا ہے توپھر ایسی وبائیں آتی ہیںجو انسانوںکو ختم کر دیتی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ جلال میںآتے ہیںاور ایسا عذاب نازل کرتے ہیںجو انسان کو ہی ختم کر دیتا ہے۔اِس لئے یاد رہے جو قومیںانسانیت سے خالی ہو جاتی ہیںانہیں مٹنے سے کوئی نہیںبچا سکتا،وہ کوڈ 19جیسی بلائوںاور وبائوںکا شکار ہوجاتی ہیں۔اس لئے خدارہ دُکھی انسانیت کوآرام دینے کیلئے اپنے اندر احساس پیدا کیجئے۔شاعر عباس خلشؔ نے کیا خوب کہا ہے ؎
کچھ دُکھی انسانیت کی روح کو آرام دیں
ہم زمانے بھر میں جاکر امن کا پیغام دیں
دیکھ کر ہو جائے گی انسانیت بھی شرمسار
لفظ ِ انساں کوبھی اتنا کرہم نہ بدنام دیں!!
9797110175,7780918848
e-mail:[email protected]