خورشید ریشی
وادی کشمیر میں موسمِ سرما کا آغاز ہوتے ہی والدین کے کندھوں پر مزید بوجھ بڑھ جاتا ہے،کیونکہ گھریلو اخراجات میں بڑھوتری ہو جاتی ہے اور اشیائے خوردنی کی چیزوں کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ ہو جاتا ہے۔مہنگائی کے اس دور میں والدین کی مشکلات میں کافی حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔ان حالات میں بھی اخراجات میں کمی کرکے اور اپنا خون پسینہ ایک کرکے والدین اپنے عیال کی کفالت کرتے ہیں۔والدین کے نزدیک موسم سرما میں ان تمام چیزوں سے بڑھ کر جو چیلنج ہوتا ہے، وہ اپنے بچوں کی پڑھائی ہوتی ہے۔کیونکہ سرمائی تعطیلات کے دوران تعلیمی ادارے بند ہوتے ہیں اور بچوں کے لیے ٹیوشن کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔پچھلے کئی برسوں سے والدین نے اس حوالے سے راحت کی سانس لی تھی، کیونکہ سرمائی تعطیلات کے دوران WINTER TUTORIALS کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ،جسے والدین اور بچوں میں اُمید کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی، مگر رواں سال بہت سے نادار بچوں کے لیے یہ اُمید بے یقینی میں لپٹی ہوئی ہے۔ جہاں برسوں سے سرمائی ٹیوٹوریلز ان بچوں کے لیے ایک سہارا بنے ہوئے ہیں، جو انہیں مفت تعلیم فراہم کرتے اور اپنے ہم عمر بچوں کے شانہ بشانہ آنے کا موقع دیتے رہے ہیں،اور والدین پر بوجھ بننے کے بجائے اُن سرمائی سینٹروں سے بچوں اور والدین کے کندھوں سے بوجھ ہلکا ہوتا ہوا نظر آرہا تھا اور ایک امید کی کرن پیدا ہو گئی تھی کہ تمام بچوں کو اب یکساں ماحول میں معیاری تعلیم میسر ہو رہی ہے اور چلہ کلاں کی شدید سردی میں بھی طلبہ و طالبات ان سرمائی ٹیٹوریلز کا رُخ کرتے ہوئے نظر آتے تھے اور سماج میں ایک مثبت سوچ جنم لے رہی تھی ۔لیکن اس سال یہ ٹیٹوریلز تاحال شروع نہیں ہو سکے، جس کی وجہ سے یہ بچے ایک اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہیں۔
ماضی میں سرمائی ٹیٹوریلز نے پسماندہ بچوں کی مدد میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ٹیٹوریلز ان بچوں کے لیے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ایک مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہوئے ہیں اور انہیں خوشحال طبقے کے بچوں کے ساتھ تعلیمی فاصلے کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ بے شمار بچوں نے ان ٹیٹوریلز سے فائدہ اٹھا کر اپنی تعلیم میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی۔
اگرچہ رواں سال مفت درسی کتابوں کو وقت پر بچوں میں تقسیم کیا گیا جو ایک خوش آئند قدم ہے اور یہ عمل مکمل بھی ہو چکا ہے، بچے جوش و خروش کے ساتھ اپنی پڑھائی شروع کرنے کے منتظر ہیں۔ مگر سرمائی ٹیوٹوریلز کے بغیر لاکھوں بچے ایسے ہونگے جنہوں نے اپنی کتابوں کے اوراق ابھی تک کھولے نہیں ہونگے، جو ادھورے خوابوں اور دیے ہوئے امکانات کی علامت بن چکی ہیں۔ بچوں کے ذہن سیکھنے کے لیے تیار ہیں، مگر ان کا تعلیمی سفر رکا ہوا ہے۔
والدین ،جو پہلے ہی اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں، اب مزید تشویش میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور ان کے لیے نجی کوچنگ سینٹروں میں بھاری فیس ادا کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اس دورِ مہنگائی میں، جہاں والدین بمشکل دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر پاتے ہیں، مہنگی ٹیوشن کلاسیز میں بچوں کو بھیجنا ایک خواب بن چکا ہے۔ ان کی قلیل آمدنی روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے میں ہی صرف ہو جاتی ہے، تعلیم کے لیے کچھ بچتا ہی نہیں۔ ایسے میں سرمائی ٹیٹوریلز ہی ان کے لیے آخری اُمید کی کرن ہیں جو بغیر کسی مالی بوجھ کے ان کے بچوں کو سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
یہ صورتحال نادار بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی میں درپیش مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔ اگرچہ کتابوں اور دیگر وسائل کی فراہمی کی کوششیں کی جا رہی ہیں، مگر سرمائی ٹیٹوریلز جیسے منظم تعلیمی مواقع کے بغیر ان بچوں کی تعلیمی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ یہ معاملہ محض نصابی تعلیم کا نہیں بلکہ ذہنوں کی آبیاری اور فکری نشوونما کا ہے۔ یہ بچوں کو غربت کے چکر سے باہر نکالنے اور ایک بہتر مستقبل کی راہ دکھانے کا سوال ہے۔
حکام کو اس سنگین صورتحال کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا اور فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ سرمائی ٹیٹوریلز کا آغاز محض ایک رسمی عمل نہیں، بلکہ ان بچوں کے مستقبل کی تشکیل کا معاملہ ہے۔ ہر گزرتا دن ایک ضائع شدہ موقع ہے۔ حکومت اور محکمۂ تعلیم کو مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ یہ ٹیٹوریلز بلا تاخیر شروع کیے جائیں، تاکہ ان بچوں کو وہ تعلیم مل سکے جس کے وہ حق دار ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ مزید تاخیر کے بغیر سرمائی ٹیٹوریلز کا آغاز کیا جائے۔ تاکہ ان بچوں کو اپنے خواب پورے کرنے کا موقع دیاجائے، ان کی امیدوں کو جلا بخشیں اور ایک روشن، باوقار اور پُرامید مستقبل کی تعمیر میں ان کا ساتھ دیں۔