ڈاکٹر سید تابش امام
امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس سے محض دو بلاک کی دوری پر 26 نومبر 2025 کی دوپہر تقریباً 2 بج کر 15 منٹ پر نیشنل گارڈز پر ہوا حملہ صرف ایک فائرنگ کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی علامت بن گیا ہے جس نے امریکہ کی داخلی سلامتی، اس کی خارجہ پالیسی اور عالمی دہشت گردی کے خلاف اس کے بیانیہ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔واشنگٹن ڈی سی جو روزانہ ہزاروں سیاحوں، سرکاری ملازمین اور عالمی وفود کا مرکز ہوتا ہے، وہاں اچانک ہونے والے اس حملے کے بعد شہر کی فضا پر ایک خوفناک اور لرزہ خیز سکوت طاری ہو گیا،ایسا سکوت جو دنیا کی طاقتور ترین ریاست کو لمحوں میں غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کرنے کے لیے کافی تھا۔ وائٹ ہاؤس کے نہایت قریب نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر کی جانے والی یہ فائرنگ بظاہر ایک انفرادی کارروائی دکھائی دیتی ہے، مگر اس نے امریکی ریاست کے اعتماد کی گہرائی تک ارتعاش پیدا کر دیا۔ حملہ میں زخمی اسپیشلسٹ سارہ بیکااسٹروم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں، جبکہ اینڈریو وولف (Andrew Wolfe)زخمی حالت میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ دونوں اہلکار انتخابی سرگرمیوں کے دوران خصوصی سکیورٹی پر مامور تھے، اس لیے یہ واقعہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ امریکی انتخابی عمل عالمی معیار کے سخت حفاظتی نظام کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ مگر حملہ اسی مضبوط حفاظتی حصار کو چیرتا ہوا آن پہنچا۔
ابتدا ہی میں اسے ایک واضح دہشت گرد حملہ قرار دیا گیا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فوری طور پر اسے ’’دہشت گردی‘‘ سے تعبیر کیا اور اعلان کیا کہ یہ امریکہ کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔ وائٹ ہاؤس، ایف بی آئی اور ہوم لینڈ سکیورٹی کی مشترکہ پریس بریفنگ میں واضح کہا گیا کہ حملہ آور نے ریاستی اہلکاروں کو ہدف بنا کر فائرنگ کی اور یہ کوئی جذباتی، وقتی یا انفرادی عمل نہیں ہو سکتا۔ اس اعلان میں دراصل ایک غیر اعلانیہ اعتراف بھی شامل تھا کہ واشنگٹن جیسے محفوظ ترین شہر میں ایسا واقعہ امریکی انٹیلیجنس اور داخلی حفاظتی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔
حملہ آور کی شناخت سامنے آتے ہی معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ حملہ آور رحمان اللہ لکنوال (Rahmanullah Lakanwal) نامی افغان شہری وہی شخص ہے جسے 2021 میں کابل سے امریکی انخلا کے وقت خصوصی ویزا پروگرام (SIV) کے تحت امریکہ منتقل کیا گیا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق وہ ماضی میں سی آئی اے کے ایک ذیلی پروگرام کا مقامی معاون رہ چکا تھا۔ طالبان کی واپسی کے بعد اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوا اور اسی بنا پر اسے امریکہ لایا گیا۔ لیکن چار برس بعد بھی نہ اسے مستقل رہائش ملی، نہ روزگار، نہ قانونی تحفظ۔ امریکی وعدے اور عملی حقیقت کے درمیان اس خلیج نے افغان مہاجرین کے پورے طبقہ کو بے چہرہ، بے شناخت اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ رحمان اللہ لکنوال انہی پیچیدہ حالات کا شکار مایوس فرد تھا۔
یقینا ًحملہ جرم ہے، ظلم ہے، ناقابلِ معافی عمل ہے،لیکن اس جرم کی جڑیں محض ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ اس امریکی پالیسی میں بھی پیوست ہیں ،جس نے ہزاروں افغانوں کو امریکہ کی وسعتوں میں بے نام و نشان چھوڑ دیا۔حملہ کے بعد سیاسی الزام تراشی نے خطہ کی پرانی دراڑوں کو ایک بار پھر واضح کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے براہ راست طالبان حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور دعویٰ کیا کہ افغانستان دوبارہ دہشت گرد جماعتوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ طالبان نے یہ الزام پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر ڈال دیا اور کہا کہ حملہ آور ’’پاکستانی شدت پسند سرکل‘‘ کے اثر میں تھا۔ پاکستان نے اس الزام کی سخت تردید کی، مگر اس ردّ و قدح نے افغانستان ،پاکستان ،امریکہ کے درمیان پہلے سے موجود عدم اعتماد کے گرداب کو مزید گہرا کر دیا۔
یہ واقعہ بیک وقت تین بڑے امریکی دعووں کی بنیادیں ہلا گیا:— امریکہ دہشت گردی سے محفوظ ہے، افغان معاونین قابلِ اعتماد ہیں، امریکی اسکریننگ سسٹم ناقابلِ خطا ہے۔
مگر اصل سوال شاید دہشت گردی کا نہیں بلکہ امریکی خود فریبی کا ہے۔وہ خود فریبی جو عالمی طاقت کے زعم میں بنیادی حقائق کو نظرانداز کرنے کی عادت اختیار کر چکی ہے۔
2021 کے افغان انخلا کی بدانتظامی نے ہزاروں افغانوں کو ایک ایسے خلا میں دھکیل دیا، جہاں نہ وہ اپنے وطن میں محفوظ تھے، نہ امریکہ نے انہیں قبولیت اور شناخت دی۔ ایسے ہزاروں افغان آج بھی سوشل سکیورٹی سے محروم، بے روزگار، ذہنی دباؤ میں مبتلا اور شناختی بحران کا شکار ہیں۔ رحمان اللہ لکنوال انہی حالات کا چہرہ ہے۔ جرم کی ذمہ داری فرد پر ہوتی ہے، مگر وہ ماحول جو فرد کو شدت پسندی کی طرف دھکیلتا ہے، وہ ریاستی پالیسیوں کا پیدا کردہ ہوتا ہے۔
امریکہ کی ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا پورا بیانیہ اس حملہ کے بعد نئے زاویہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ بیس برس کی جنگ کے بعد افغانستان دوبارہ طالبان کے ہاتھ میں چلا گیا، پاکستان مسلسل عدم استحکام سے گزر رہا ہے، عراق، شام اور لیبیا کے میدان آج بھی سلگ رہے ہیں، یورپ دائیں بازو کی قوم پرستی کی نئی لہر میں الجھا ہوا ہے اور خود امریکہ میں سفید فام انتہا پسندی خطرناک سطح پر بڑھ چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اتنی عسکری سرمایہ کاری کے باوجود امریکی فوجی واشنگٹن میں گولیوں کا نشانہ بن رہا ہے تو پھر اس جنگ کو کامیابی کہنا خودفریبی نہیں تو کیا ہے؟
یہ حملہ امریکہ کے سماجی ڈھانچہ میں موجود اس گہری دراڑ کو بھی بے نقاب کرتا ہے جہاں نسلی کشمکش، شناختی بحران اور سیاسی تقسیم اپنے نقطۂ عروج پر ہے۔ 6 جنوری کی کیپیٹل ہل بغاوت نے سفید فام قوم پرست گروہوں کی طاقت کو عیاں کر دیا تھا۔ اب ایک افغان نژاد فرد کے ہاتھوں حملہ ہونے سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ افغان کمیونٹی نسلی پروفائلنگ اور نفرت انگیزی کا تازہ ہدف نہ بن جائے۔ افغان مہاجرین پہلے ہی قانونی پیچیدگیوں، سماجی تنہائی اور معاشی عدم تحفظ کے شکار تھے، اس حملے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں مطالبے سامنے آ رہے ہیں کہ افغان مہاجرین کی سخت اسکریننگ کی جائے، ان کے اسٹیٹس کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور SIV پروگرام کو عارضی طور پر معطل کر دیا جائے،یہ وہی غلطی ہے جو امریکہ بار بار دہراتا رہا ہے۔ایک فرد کی غلطی کا بوجھ پوری قوم پر ڈال دینا۔
امریکی حکومت نے فوری ردعمل دکھاتے ہوئے رحمان اللہ لکنوال پر دہشت گردی، قتل اور وفاقی اہلکار پر حملہ کی دفعات عائد کیں۔ اس کے رابطوں پر چھاپے مارے گئے، ڈیجیٹل ڈیٹا کی فرانزک جانچ شروع ہوئی، تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، وائٹ ہاؤس کے قریب اٹھارہ بلاک ہائی الرٹ زون قرار دیے گئے اور نیشنل گارڈ کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ اس تمام ردعمل سے ظاہر ہے کہ واشنگٹن اس سانحہ کو محض داخلی واقعہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کے بڑے نقصان کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ دہشت کی یہ آگ کہاں سے بھڑک رہی ہے؟ کیا اس کی جڑیں افغانستان کی خانہ جنگی میں ہیں؟ کیا یہ پاکستان کی داخلی کشمکش کا تسلسل ہے؟ کیا یہ مشرقِ وسطیٰ کی پراکسی جنگوں کی چنگاریاں ہیں؟ یا یہ وہ زہریلا انتشار ہے جو خود امریکی معاشرتی تقسیم نے پیدا کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب عالمی طاقت کسی خطے میں خلا پیدا کرتی ہے تو اس خلا کو ہمیشہ شدت پسند گروہ پُر کرتے ہیں۔ امریکہ نے متعدد خطوں میں یہی کیامداخلت کی، پھر اچانک دستبردار ہو گیا،اور اب ان فیصلوں کے لرزے عالمی عدم استحکام کی صورت میں امریکہ کے اپنے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔
اگر امریکہ واقعی خود کو عالمی سیاست میں قائدانہ کردار کا اہل سمجھتا ہے تو اسے اپنی سفارتی اور عسکری حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ اسے دوہرے معیارات ترک کرنے ہوں گے، افغان بحران کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی، پاکستان کے ساتھ سکیورٹی شفافیت بڑھانی ہوگی، مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی جنگ کی پالیسی ترک کرنا ہوگی، اور سب سے بڑھ کر،اپنے اندر بڑھتی نسلی نفرت اور سیاسی انتہا پسندی کو روکنا ہوگا۔دنیا طاقتور فوج نہیں،منصفانہ قیادت چاہتی ہے اورقیادت اصولوں، انصاف اور ذمہ داری سے ظہور لیتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والا یہ حملہ دراصل اس حقیقت کی گونج ہے کہ عدم استحکام کی آگ کبھی سرحدوں کے باہر نہیں رہتی، وہ ایک دن واپس آ کر اسی ہاتھ کو جلا دیتی ہے جو اسے بھڑکاتا ہے۔ اگر امریکہ نے اپنی پالیسیوں میں اصلاح نہ کی تو دہشت گردی کے خلاف اس کی عالمی جنگ محض ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ جائے گی، عملی حقیقت کبھی نہیں۔
(رابطہ۔9934933992)
[email protected]