جموں // وادی ،پیر پنچال اور خطہ چناب میں بجلی کی ابتر صورتحال کے خلاف حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے ممبران نے بجلی وزیر ڈاکٹر نرمل سنگھ کو گھیرتے ہوئے اُن پر الزامات کی بوچھاڑ کی اور بعد میں سوالوں کے جواب سے مطمئن نہ ہو کر ایوان سے ایک ایک کر کے واک آوٹ کیا۔ ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ بجلی کی فراہمی کے حوالے سے وادی کے ساتھ امتیاز سے کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں آواز بلند کرنے پر اپوزیشن کی آوازکا گھلا گھونٹا جا رہا ہے ۔جبکہ ممبر اسمبلی الطاف احمد کلو ، عثمان مجید ،پی ڈی پی رکن عبدالرحیم راتھر ،ممبر اسمبلی مینڈھر جاوید احمد رانا،ممبر اسمبلی اندروال جی ایم سروڑی اور ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے بھی حکومت پر تابر توڑ حملے کرتے ہوئے زبردست تنقید کی ۔الطاف کلو اور عثمان مجید نے کہا کہ وادی کے لوگوں کو 24گھنٹوں میں سے 5گھنٹے بھی بجلی نہیں مل رہی ہے۔ اس دوران اگرچہ سپیکر نے مداخلت کرنے کی کوشش کی تاہم ممبر اسمبلی خانیار اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور اور انہوں نے اسپیکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے وزیر کو ڈھیل دے رکھی ہے اور اُن کو جواب دینے نہیں دیتے۔ جی ایم سروڑی نے کہا کہ چناب میں بھی بجلی کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور آپ کی سرکار اپوزیشن کے سوالوں کے جواب نہیں دے رہے ہے ۔ساگر نے وزیر پر تاپڑ توڑ حملے کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی کشمیر کو اندھیرے میں رکھنے کی پالیسی ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے اسمبلی سے کہا کہ آپ نے بجلی وزیر کو ڈھیل دے رکھی ہے اس لئے بجلی وزیر لوگوں کو بجلی فراہم کرنے میں ناکام ہے ۔انہوں نے اسپیکر سے کہا کہ پتہ نہیں آپ کو کہاں سے ہدایت ملتی ہے اور آپ اپوزیشن کو بات کرنے نہیں دیتے۔وزیر کے جواب سے مطمئن نہ ہو کر عثمان مجید، الطاف کلو ، وقار رسول ، جی ایم سروڑی اور مینڈھر جاوید احمد رانا نے بھی ایوان سے واک آئوٹ کیا ۔