صدائے کمراز
اِکز اِقبال
انسانی تاریخ کا ایک بڑا خواب آسمانوں کو چھونا، ستاروں تک پہنچنا، اور اپنی اس کرۂ ارض کو اوپر سے دیکھنا رہا ہے۔ یہ خواب جب حقیقت بنا تو انسان نے پہلی بار زمین کو ایک نیلے اور خوبصورت سیارے کے روپ میں دیکھا۔ خلا نوردوں کی آنکھوں نے زمین پر بڑے بڑے شہروں کی روشنیاں، صحراؤں کی وسعتیں، پہاڑوں کی شان اور سمندروں کی لہریں دیکھیں۔ انہی نگاہوں نے قدیم دنیا کے عجائبات — اہرامِ مصر کی گمشدہ سریں، چین کی عظیم دیوار کی لمبی لکیر — کو بھی تلاش کیا۔ یہ تمام مناظر انسانی عظمت اور تخلیقی صلاحیت کی داستانیں سناتے ہیں۔ مگر حال ہی میں ایک اور تصویر نے عالمی ذہن کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے: سعودی عرب کے شہر مکہ المکرمہ کی رات کی ایک فضائی تصویر، جس کے مرکز میں مسجد الحرام اور اس کے قلب میں خانۂ کعبہ ایک منفرد روشنی کے مرکز کے طور پر چمک رہا ہے۔ یہ منظر نہ صرف ایک جغرافیائی مقام کی نشاندہی کرتا ہے، بلکہ روحانیت، عقیدت اور جدیدیت کے انوکھے امتزاج کی کہانی سناتا ہے۔
خانۂ کعبہ محض ایک عمارت نہیں، بلکہ تاریخِ انسانی کا وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے گرد لاکھوں دلوں کی دھڑکنیں منظم ہیں۔ اسلامی عقیدے کے مطابق یہ زمین پر اللہ کے لیے بنایا جانے والا پہلا گھر ہے، جس کی بنیاد خود حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے رکھی۔ یہ مربع نما ساخت، جسے “کعبہ” یعنی “مکعب” کہا جاتا ہے، اپنی سادگی میں ایک عجیب ہیبت اور جلال رکھتی ہے۔ اس پر لگا ہوا سیاہ کپڑا، جسے “کسوہ” کہتے ہیں، ہر سال نئے سرے سے چڑھایا جاتا ہے، جو گویا زمانے کے ساتھ اس کی تازگی اور استقامت کی علامت ہے۔
کعبہ مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی کوئی مسلمان نماز پڑھتا ہے، اس کا رخ اسی مربع نما عمارت کی طرف ہوتا ہے۔ یہ یکجہتی، یکسوئی اور عالمی اتحاد کا زندہ نشان ہے۔ سالانہ حج کا اجتماع، جس میں دنیا کے تمام خطوں، رنگوں اور زبانوں کے لاکھوں افراد ایک ہی مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور منظم اجتماع ہے۔ یہ اجتماع ایک طرف تو ایمان کی طاقت دکھاتا ہے، تو دوسری طرف یہ ثابت کرتا ہے کہ انسانی برادری ایک مرکز کے گرد متحد ہو سکتی ہے۔
ناسا کے سائنس دان اور ماہرِ فلکیات ڈونلڈ پیٹٹ نے اپنے 220 روزہ خلائی مشن کے بعد جو تصویر شیئر کی، وہ ایک جدید انسان کی نظر سے مقدس مقام کا مشاہدہ ہے۔ ان کے الفاظ تھے: “مرکز میں روشن مقام اسلام کا مقدس ترین مقام کعبہ ہے۔” یہ جملہ کئی پہلوؤں سے اہم ہے۔ اول، یہ ایک غیر مسلم خلاباز کی طرف سے ایک مقدس اسلامی مقام کی پہچان اور احترام ہے۔ دوم، یہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کا مذہبی مرکز سے ایک غیر متوقع، مگر خوبصورت ٹکراؤ ہے۔
تصویر میں کعبہ کی چمک صرف بجلی کے بلب اور فلڈ لائٹس کا کمال نہیں۔ یہ چمک دراصل ایک ایسے مقام کی ہے جو دن رات زندہ ہے۔ رات گئے تک بھی یہاں عبادت گزار موجود رہتے ہیں۔ طواف کرنے والوں کے ہجوم کبھی ختم نہیں ہوتے۔ دعاؤں کی آوازیں، تسبیح کے ذکر، اور قرآن پاک کی تلاوت کا نور — یہ سب مل کر اس مقام کو روشن رکھتے ہیں۔ جدید فلڈ لائٹس نے اس روحانی روشنی کو محض مرئی بنایا ہے، پیدا نہیں کیا۔
آج جو ہم مسجد الحرام کا وسیع و عریض، جدید اور روشن کمپلیکس دیکھتے ہیں، وہ ایک طویل ارتقائی سفر کا نتیجہ ہے۔ تاریخی طور پر، مکہ ایک خشک وادی میں واقع تھا۔ کعبہ کی روشنی چراغوں اور پٹرولیم کے دیوں سے ہوتی تھی۔ وقت کے ساتھ، خاص طور پر سعودی دور میں، مسجد الحرام میں توسیع اور جدید کاری کا ایک وسیع سلسلہ شروع ہوا۔ آج یہاں جدید ترین روشنی کے نظام، ہوا سے ٹھنڈا کرنے کے انتظامات، اور وسیع گیلریاں موجود ہیں جو لاکھوں نمازیوں کو سہولت فراہم کرتی ہیں۔
رات کے وقت لگائی جانے والی طاقتور روشنیاں نہ صرف عبادت کو آسان بناتی ہیں، بلکہ یہ سلامتی اور رہنمائی کا ذریعہ بھی ہیں۔ یہ روشنی ایک علامت بھی ہے — تاریکی پر نور کی فتح کی، گمراہی پر ہدایت کی۔ جب خلاباز نے اسے دیکھا، تو وہ دراصل انسانیت کی اس مسلسل کوشش کو دیکھ رہا تھا کہ وہ تاریک دنیا میں روشنی کے مینار قائم کرے۔
دنیا قدیم عجائبات میں اہرامِ مصر کو شمار کرتی ہے۔ وہ انسانی ہنر اور ہمت کے عظیم شاہکار ہیں، جنہیں خلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی عظمت ان کی قدیم ترین، بلند ترین اور پائیدار ترین تعمیر میں ہے۔ وہ موت کے بعد کی زندگی کے عقیدے کی سنگین یادگاریں ہیں۔
کعبہ کا معاملہ مختلف ہے۔ اس کی عظمت اس کی بلندی یا فن تعمیر کے کمال میں نہیں (حالانکہ اس کا فن تعمیر بھی منفرد ہے)، بلکہ اس کی زندہ روحانی اہمیت میں ہے۔ اہرام خاموش، سنسان اور میوزیم میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ کعبہ آج بھی زندہ، دھڑکتا ہوا اور روزانہ لاکھوں لوگوں کا مسکن ہے۔ اہرام ماضی کے مقبرے ہیں، کعبہ حال اور مستقبل کا زندہ مرکز ہے۔ اہرام کو دیکھ کر آپ حیران ہوتے ہیں کہ “کیسے بنایا ہوگا؟” کعبہ کو دیکھ کر آپ سوچتے ہیں کہ “کیوں بنایا گیا؟” اور یہ “کیوں” ہی تو ایمان کی بنیاد ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا واقعی کعبہ خلا سے ننگی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے؟ سائنسی طور پر، خلا سے زمین پر کوئی چیز دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بہت بڑی، نمایاں یا انتہائی روشن ہو۔ کعبہ خود ایک نسبتاً چھوٹی عمارت ہے۔ مگر اس کے گرد پھیلی ہوئی مسجد الحرام کا وسیع کمپلیکس، خصوصاً رات کے وقت اس کی تیز روشنیاں، اسے خلائی سٹیشن یا خلائی جہاز سے دیکھے جانے کے قابل بنا دیتی ہیں۔ یہ ایک جدید تعمیراتی اور تکنیکی کامیابی ہے۔
مگر اس سے زیادہ اہم اس کا علامتی پہلو ہے۔ “خلا سے نظر آنا” ایک استعارہ بن گیا ہے کسی چیز کی عالمی اہمیت، شناخت اور شہرت کا۔ جب ہم کہتے ہیں “کعبہ خلا سے دیکھا جا سکتا ہے”، تو ہمارا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ اس کی روشنی خلاباز کی آنکھ تک پہنچتی ہے۔ بلکہ ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس مقام کی اہمیت، اس کی کشش، اور اس کے گرد جمع ہونے والی انسانی توانائی کا اثر اتنا وسیع اور گہرا ہے کہ وہ زمین کی حدود سے نکل کر کائناتی شناخت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ عقیدے کی کائناتی فتح کا اعلان ہے۔
ڈونلڈ پیٹٹ کی شیئر کردہ تصویر کا وائرل ہونا خود ایک قابلِ مطالعہ واقعہ ہے۔ ایک ایسے دور میں جب سوشل میڈیا پر منفی خبریں، جھگڑے اور فرقہ ورانہ مواد عام ہے، ایک ایسی تصویر جس میں ایک مقدس مقام کی خوبصورتی اور احترام کے ساتھ پیش کیا گیا ہو، لاکھوں لوگوں کے دلوں کو چھو گئی۔ مسلمانوں کے لیے یہ فخر کا لمحہ تھا کہ ان کا مقدس ترین مقام پوری دنیا میں اس طرح سراہا جا رہا ہے۔ غیر مسلموں کے لیے یہ مکہ اور کعبہ سے تعارف کا ایک نیا، خوبصورت اور مثبت ذریعہ تھا۔
یہ تصویر اس بات کی بھی عکاس ہے کہ جدید ذرائع ابلاغ مذہبی ہم آہنگی اور باہمی تفہیم کے لیے کس طرح استعمال ہو سکتے ہیں۔ ایک تصویر نے وہ کیا جو ہزاروں لیکچر نہیں کر سکتے تھے — اس نے دنیا کو ایک پرامن، روشن اور متحد مرکز کا نظارہ کرایا۔
خلا سے دیکھی گئی وہ روشنی محض بجلی کی لہر نہیں، یہ ایمان کی لہر ہے۔ یہ ان لاکھوں دلوں کی روشنی ہے جو صدیوں سے اس مقام کی طرف کھنچتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی روشنی ہے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم کی روشنی ہے، ہر حاجی کی آنسوؤں اور دعاؤں کی روشنی ہے۔
جدید انسان جب خلا میں جا کر زمین کو دیکھتا ہے، تو وہ سرخ، نیلے اور سبز رنگوں کا ایک حسین گولا دیکھتا ہے، جس پر سیاہی میں سفید بادل تیر رہے ہوتے ہیں۔ وہ قومی سرحدیں نہیں دیکھ پاتا، نسلی یا لسانی تقسیم نظر نہیں آتی۔ اسے ایک ہی انسانیت نظر آتی ہے۔ اور اس انسانیت کے مرکز میں، اگر وہ غور سے دیکھے، تو اسے ایک چھوٹا سا، مگر انتہائی روشن نقطہ نظر آئے گا — وہ نقطہ جہاں سے ہدایت کی روشنی پھوٹتی ہے، جہاں انسان اپنے خالق سے جا ملتا ہے، جہاں تمام تفرقے مٹ جاتے ہیں اور صرف ایک اللہ کی بڑائی باقی رہ جاتی ہے۔
خانۂ کعبہ خلا سے نظر آئے یا نہ آئے، یہ ہمیشہ سے انسانیت کے دل و دماغ کے مرکز میں موجود رہا ہے۔ اور جب تک یہ زمین پر قائم ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ روشنی ہمیشہ تاریکی پر غالب آتی ہے، اور ایمان کا نور ہر مادی چمک سے زیادہ تابناک ہے۔
(مضمون نگار مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہیں)
رابطہ۔7006857283
[email protected]