پیوش گوئل
نئے سال کا آغاز بھارت کے کامرس و صنعت کے منظرنامے میں نئے اعتماد اور امید کے ساتھ ہوا ہے۔ 2025میں کئے گئے فیصلہ کن اقدامات تجارت اور سرمایہ کاری کو تیز کرنے، چھوٹے کاروباروں اور اسٹارٹ اپس کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کو وسعت دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ہر شہری کے لیے زندگی کی آسانی کی خاطر وزیراعظم نریندر مودی کے مشن کو مزید آگے بڑھانے والے ہیں۔
مودی حکومت کی ایک بڑی پہل اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے کی ہے۔ آج بھارت میں حکومت سے تسلیم شدہ اسٹارٹ اپس کی تعداد دو لاکھ سے زائد ہے۔ جیسا کہ وزیراعظم نے اسٹارٹ اپ انڈیا کی دسویں سالگرہ کے موقع پر کہا، ہمارے اسٹارٹ اپس مختلف مسائل کے حل پیش کر رہے ہیں اور ان سے بھارتی معیشت کو مضبوط اور خود کفیل بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
اسٹارٹ اپس کی حمایت مودی حکومت کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اقتصادی ترقی کو تیز کرنا، روزگار پیدا کرنا اور ہر شہری بالخصوص غریبوں کی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
سال 2025وزیراعظم مودی کی فیصلہ کن قیادت میں 2014سے جاری بھارت کے تبدیلی کے سفر میں ایک سنگِ میل سال ثابت ہوا۔ جراتمندانہ فیصلوں اور انقلابی اصلاحات کے ذریعے ہماری حکومت نے کاروباری ماحول کو نئی شکل دی، جبکہ اس بات کو یقینی بنایا کہ ہر پالیسی شہریوں، خصوصاً غریب ترین طبقے کی زندگیوں میں بہتری لانے میں معاون ہو۔
آج بھارت عالمی توجہ کا مرکز ہے اور ایک قابلِ اعتماد اور بھروسہ مند شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ترقی کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے بھارت کی مجموعی برآمدات 25–2024-میں 6فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 825.25ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ برآمد کنندگان کو مزید سہارا دینے کے لیے حکومت نے 25,060کروڑ روپے کے ایکسپورٹ پروموشن مشن کا اعلان کیا۔
جن وشواس اور کاروبار کرنے میں آسانی
ریپیلنگ اینڈ امینڈمنٹ ایکٹ-2025 کے تحت 71فرسودہ قوانین ختم کر دیے گئے، جن میں سے بعض کا تعلق 1886 سے تھا۔ جن وشواس پہل کے تحت مودی حکومت نے متعدد معمولی جرائم سے متعلق فوجداری دفعات کو ختم کر دیا ہے۔ یہ اصلاحات حکمرانی کو بہتر بناتی ہیں، کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیتی ہیں اور اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ بھارت کا قانونی ڈھانچہ جدید معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہے۔ اس عمل کو جاری رکھتے ہوئے رواں سال ایسی سیکڑوں مزید دفعات کا جائزہ لے کر مزید اصلاحات کی جائیں گی۔
گزشتہ سال پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران جہاز رانی اور بندرگاہوں سے متعلق پانچ اہم اور تاریخی بل منظور کیے گئے۔ ان قوانین کے ذریعے دستاویزی کارروائی کو آسان بنایا گیا، تنازعات کے حل کو سہل کیا گیا اور لاجسٹکس لاگت میں نمایاں کمی لائی گئی۔ تجارتی شعبے میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ نے شفاف اور سہولت فراہم کرنے والی پالیسیوں کے ذریعے برآمد کنندگان کی فعال طور پر مدد کی ہے، جس سے کاروبار کرنے میں آسانی میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ اقدامات ہمارے تاجروں، چھوٹے کاروباریوں اور اسٹارٹ اپس کےکار وبار میں آسانی پیدا کررہے ہیں ، جو اب پیچیدہ تعمیلی تقاضوں اور معمولی خلاف ورزیوں پر قید کے خوف کی بجائے اپنے کام پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔
ایف ٹی اے اور ’’لوکل فار گلوبل‘‘
بھارت کی تجارت اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی کا ایک بنیادی اصول مقامی کاروباریوں، بالخصوص چھوٹے کاروباروں، اسٹارٹ اپس، کسانوں اور کاریگروں کی سرپرستی کرنا اور انہیں عالمی سطح پر کامیابی کے قابل بنانا رہا ہے۔ اسی وژن کے تحت بھارت نے گزشتہ سال تین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) طے کیے، جن کے ذریعے بھارتی مصنوعات کو برطانیہ، نیوزی لینڈ اور عمان جیسی ترقی یافتہ منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوئی۔
یہ ایف ٹی ایز اصلاحاتی عمل کا بھی حصہ ہیں۔ اس سے قبل یو پی اے حکومت نے قومی مفاد کو نظرانداز کرتے ہوئے ایسے ممالک کے ساتھ لاپروائی سے معاہدے کیے جو عالمی سطح پر بھارت کے حریف تھے۔ اس کے برعکس مودی حکومت نے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ایف ٹی ایز کو ترجیح دی اور باہمی فائدے پر مبنی معاہدے کیے۔
یہ ایف ٹی ایز روزگار کے مواقع میں تیزی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور پورے بھارت میں چھوٹے کاروباروں، طلبہ، خواتین، کسانوں اور نوجوانوں کے لیے انقلابی مواقع پیدا کریں گے۔ ہر معاہدہ وسیع پیمانے پر شراکت داروں سے مشاورت کے بعد طے کیا گیا، تاکہ متوازن نتائج اور ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ حقیقی باہمی فائدے پر مبنی شراکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
بھارتی مفادات کا تحفظ
ان معاہدوں کے علاوہ، یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ۔جس میں سوئٹزرلینڈ، ناروے، آئس لینڈ اور لیچٹینسٹائن شامل ہیں۔جو 2024 میں طے پایا تھا، اب نافذ العمل ہو چکا ہے۔ تمام ایف ٹی ایز میں ایک مشترک پہلو بھارت کے زرعی اور ڈیری شعبوں کا تحفظ ہے، بشمول ان معاہدوں کے جو نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسے بڑے عالمی ڈیری برآمد کنندگان کے ساتھ کیے گئے ہیں۔
ان تجارتی معاہدوں کے ذریعے بھارتی برآمدات کو فوری یا تیز رفتار ٹیرف خاتمے کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، جبکہ بھارت کی اپنی منڈی کو کھولنے کا عمل متوازن اور بتدریج رکھا گیا ہے۔ نیوزی لینڈ نے آئندہ 15 برسوں میں20 ارب امریکی ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا عہد کیا ہے، جو ای ایف ٹی اے ممالک کے ساتھ بھارت کے ایف ٹی اے میں متعارف کرائی گئی سرمایہ کاری سے منسلک اختراعی شقوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری زراعت، ڈیری، ایم ایس ایم ایز، تعلیم، کھیل اور نوجوانوں کی ترقی میں معاون ہوگی، جس سے ہمہ گیر اور شمولیاتی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
بھارت: عالمی سرمایہ کاری کا اہم مرکز
گزشتہ11 مالی برسوں میں،یعنی 25–2024 تک، بھارت نے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی مد میں748 ارب امریکی ڈالر حاصل کیے، جو اس سے پہلے کے11 برسوں میں موصول ہونے والے 308 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی گنا ہے۔
یہ پیش رفت اس تناظر میں نہایت اہم ہے کہ مودی حکومت کو ایک بدانتظامی کا شکار معیشت ورثے میں ملی تھی، جسے کبھی دنیا کی ’’فریجائل فائیو‘‘ میں شمار کیا جاتا تھا۔ یو پی اے دور میں مسلسل معاشی دھچکوں کے باعث ترقی یافتہ ممالک نے بھارت کے ساتھ تجارتی مذاکرات سے کنارہ کر لیا تھا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے شفاف اور بدعنوانی سے پاک حکمرانی، جرأت مندانہ اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے بھارتی معیشت پر اعتماد بحال کیا اور بھارت کو تجارت و سرمایہ کاری کے لیے ایک ترجیحی منزل کے طور پر ابھارا۔
غریبوں کی فلاح کے لیے اصلاحات
بھارت نے 2025 کا اختتام ایک نمایاں کامیابی کے ساتھ کیا اورجاپان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن گیا، وہیں جرمنی کو بھی پیچھے چھوڑنے کی راہ پر گامزن ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یو پی اے دور کے برعکس، اقتصادی ترقی کے فوائد غریب ترین طبقے تک، بالخصوص دیہی بھارت میں پہنچے ہیں۔
مزدوروں کو زیادہ فوائد فراہم کرنے کے لیے مودی حکومت نے تاریخی لیبر اصلاحات نافذ کی ہیں، جن کے تحت 29 بکھرے ہوئے قوانین کو یکجا کر کے چار جدید ضابطوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ان اصلاحات کا مرکز منصفانہ اجرت، بروقت ادائیگیاں، سماجی تحفظ اور سیفٹی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات افرادی قوت میں خواتین کی زیادہ شمولیت کو بھی یقینی بنائیں گے۔
جی ایس ٹی اصلاحات سے ہر بھارتی شہری کو فائدہ پہنچا ہے، جن کے تحت شفاف دو سطحی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے۔ اس سے گھریلو صارفین، ایم ایس ایم ایز، کسانوں اور محنت پر مبنی شعبوں پر بوجھ کم ہوگا۔
مستقبل کا راستہ
سال 2025،مقامی صنعت اور عالمی طلب کے درمیان، پالیسی اصلاحات اور ڈیجیٹل باختیاربنانے کے درمیان، اور ابھرتے ہوئے چھوٹے کاروباروں اور بین الاقوامی منڈیوں کے درمیان پل تعمیر کرنے کا سال ثابت ہوا۔
آنے والے وقت میں مزید جوش و خروش متوقع ہے۔ نیتی آیوگ کے رکن راجیو گاؤبا کی قیادت میں ایک پینل اصلاحات کے وسیع دائرے کا جائزہ لے رہا ہے، جو وزیراعظم مودی کی ریفارم ایکسپریس کو مزید رفتار دے گا۔ جیسے جیسے بھارت آگے بڑھ رہا ہے، اس کے پاس مسابقتی تجارت، اختراعی صنعت اور مضبوط و خود کفیل معیشت کے ذریعے ایک وِکست بھارت کی تعمیر کا واضح وژن موجود ہے۔ بھارت کے برآمد کنندگان، صنعت کاروں، کسانوں اور خدمات فراہم کرنے والوں کی کامیابی دراصل قوم کی کامیابی ہے۔
بھارت صرف مستقبل کی تیاری نہیں کر رہا ہے ،بلکہ اسے تشکیل دے رہا ہے۔ فیصلہ کن قیادت، جرأتمندانہ اصلاحات اور واضح عالمی حکمت عملی کے ساتھ، ملک کے عزائم کو عملی تقویت مل رہی ہے۔ بھارت دنیا کے ساتھ جو بھی تجارت کرتا ہے، تعمیر کرتا ہے، اختراع کرتا ہے اور روابط استوار کرتا ہے تو وہ یہ سب اپنی شرطوں پر، مضبوط، خود کفیل اور قابلِ اعتماد ملک کے طور پر کرتا ہے۔
(مضمون نگارملک کے کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر ہیں)