’’بابا آپ بہت گندے ہو ، آپ نہ ہی اب میرے لئے بازار سے چیزیں(کھلونے) لاتے ہو اور نہ ہی جانی جانی (یو ٹیوب)دیکھنے دیتے ہو، آپ نے شیئر اِٹ بھی ڈیلیٹ کردیاہے اور مجھے گیم بھی کھیلنے کیلئے نہیں دیتے، میں صرف دس پندرہ ٹائم فون چلائوں گی پھر واپس دے دوں گی،اگر آپ مجھے گیم دیتے تو میں خوش ہوجاتی‘‘۔یہ وہ الفاظ ہیں جو مجھے اگست2019کے بعد سے اب تک اپنی 4سالہ بچی(سیدہ بنین فاطمہ)سے روزانہ باربار سننے پڑتے ہیں۔پچھلے سال اگست سے قبل اس کا الگ رویہ تھا لیکن اب اس میں بعض اوقات غصہ اور چڑچڑا پن ظاہر ہوتاہے جو یقینی طور پر ایک پریشانی کا باعث ہے۔ پچھلے سال اس کا داخلہ پلے سکول میں کروایا لیکن بدقسمتی سے 2ماہ ہی گزرے تھے کہ پہلے 5اگست کو جموں وکشمیر کے خصوصی تشخص کی تنسیخ اور ریاست کے درجہ کی تنزلی کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والے حالات اوراب کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے نافذ کئے گئے لاک ڈائون نے سکول جانے کا سلسلہ بالکل ہی منقطع کردیاجس کے نتیجہ میں صبح جاگتے اور رات کو سوتے وقت بھی موبائل فون میری بیٹی کی پہلی پسند بن چکاہے اورماں بیٹی کا روزانہ اسی بات پہ جھگڑارہتاہے۔کبھی کبھار اسے ٹیلی ویژن پر کارٹون دیکھنے کا شوق بھی پیدا ہوتاہے لیکن جو رغبت موبائل فون کے ساتھ قائم ہوچکی ہے، اس کا ٹوٹنا کافی مشکل نظر آرہاہے۔
موجودہ وقت میں یہ ایک گھر ہی کی پریشانی نہیں بلکہ لگ بھگ ہر گھر میں حالات ایسے ہی ہیں اور بچے پورا دن موبائل فون کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ نہ ہی ان کا دل پڑھائی میں لگتاہے اور نہ ہی وہ جسمانی نشو ونما کیلئے کھیل کود سرگرمیوں میں حصہ لینے میں دلچسپی دکھاتے ہیںبلکہ زیادہ تر گھروں کے بچے اپنا سارا وقت موبائل فون پر گیمز، یوٹیوب یا ٹیلی ویژن پر ہی گزار دیتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی جسمانی بلکہ ذہنی نشو نما بھی متاثر ہورہی ہے۔طبی ماہرین بھی لاک ڈائون سے بچوں کی جسمانی و ذہنی صلاحیت کے متاثر ہونے کا الارم بجارہے ہیں اور عالمی ادارہ صحت، یونیسف ،ورلڈ اکنامک فورم سمیت ہر ایک ملک کی حکومت کی طرف سے ایڈوائزریاں تک جاری کرکے یہ بتایاگیاہے کہ ان مشکل ایام میں بچوں کو کس طرح سے دبائو اور ذہنی پریشانی سے دور رکھاجاسکتاہے۔یہاں جموں وکشمیر میں بھی اس سلسلے میں ایڈوائزری جاری کی گئی ہے جبکہ بچوں کو تدریسی عمل سے جوڑے رکھنے کیلئے آن لائن کلاسز کی شروعات کی گئی اور ساتھ ہی مڈ ڈے میل کاکھانا گھر گھر بچوں تک پہنچایاجارہاہے۔تاہم آن لائن کلاسز سے جہاں کچھ حد تک بچوں کو تعلیمی طور پر فائدہ ہواہے وہیں وہ براہ راست فون سے بھی جڑ گئے ہیں اور چونکہ والدین کو اپنے فون انہی کیلئے مخصوص رکھنے پڑتے ہیں جس سے بھی ان کی فون کے تئیں رغبت بڑھ گئی۔وہ کلاسز کے ساتھ ساتھ وقت ملنے پر یوٹیوب اور گیمز وغیرہ پر بھی ہاتھ مار لیتے ہیں۔
حال ہی میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ بتایاگیاہے کہ اگرچہ زیادہ تر بچے کورونا وائرس سے محفوظ رہے ہیں لیکن سماجی و اقتصادی اثرات دنیا بھر کے کروڑوں بچوں پر پڑسکتے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیاہے’’ہر عمر کے تمام بچے اور تمام ممالک متاثر ہیں تاہم کچھ بچوں کو بھاری قیمت چکانی پڑسکتی ہے‘‘۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گویٹرس نے اس رپورٹ کو جاری کرتے ہوئے تمام والدین اور مملکتوں کے سربراہان پر زور دیاہے کہ وہ بچوں کو کورونا وائرس کے اثرات سے محفوظ رکھیں۔
بچوں کی ذہنی و جسمانی صلاحیت سے متعلق غیر سرکاری تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘کی طرف سے امریکہ میں ایک سروے کیاگیا۔اس سروے کے مطابق امریکہ میں 94فیصد سکول بند پڑے ہیں اور52فیصد بچوں نے یہ بتایاہے کہ وہ گھروں میں رہ رہ کر اکتاچکے ہیں جبکہ 49نے کورونا پرتحفظات کا اظہار کیا۔اسی سروے میں بتایاگیاہے کہ 34فیصد بچے خوفزدہ ہیں،27فیصدبے چین ہیں،24فیصد تذبذب میں مبتلا جبکہ 23فیصد ذہنی دبائو کاشکار اور22فیصد ناخوش ہیں۔سروے کے مطابق’’یہ ملک اور دنیا کیلئے ایک غیر معمولی وقت ہے اور ایسے وقت میں ہمیں بچوں کی مدد کرکے انہیں بچاناچاہئے،وہ سکولی سرگرمیوں سے دور ہیں اور اپنے دوستوں کی کمی محسوس کررہے ہیں‘‘۔
اسی طرح سے ورلڈ اکنامک فورم نے اپنی رپورٹ میں بتایاہے کہ دنیا کے 99فیصد بچے کورونا وائرس کی وجہ سے عائد کردہ پابندیوں میں رہ رہے ہیں جبکہ 1.5ارب بچے سکولوں سے دور ہیں۔فورم نے کہاکہ یہ بچوں کیلئے دردناک مرحلہ ہے، خاص طور پر ان بچوں کیلئے جن کی غذائیت کا دارومدار سکولی غذائی پروگراموں پر ہے۔فورم نے رپورٹ میں اس خدشہ سے آگاہ کیاہے کہ کم عمر بچے دبائو اور آئیسولیشن کی وجہ سے شدید متاثر ہونے کے خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں اوراس سے ان کی ذہنی ترقی متاثر ہوسکتی ہے جس کے طویل مدتی نتائج ثابت ہوں گے۔
موجودہ پابندیوں اور لاک ڈائون سے بچوں کی صحت پر پڑنے والے اثرات سے عالمی ادارہ صحت بھی فکر مند ہے۔ادارے کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ یہ واقعی ہم سب کے لئے ایک غیر معمولی وقت ہے ، خاص طور پر ان بچوں کے لئے جو اپنی زندگی میں ایک بہت بڑی رکاوٹ کا سامنا کرتے ہیں،ممکنہ طور پر بچوں کو پریشانی ، دبائو اور خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اور اس میں خوف کی وہ اقسام بھی شامل ہوسکتی ہیں جو بڑی عمر کے افرادکو بھی لاحق ہوتی ہیں،جیسے مرنے کا خوف ، اپنے رشتہ داروں کے مرنے کا خوف ، یا طبی معالجے کیحصول کا خوف۔ اگرچہ اسکول احتیاطی اقدامات کے ایک حصے کے طور پر بند ہوچکے ہیں لیکن بچوں کے پاس اب اپنے دوستوں کے ساتھ رہنے کا موقعہ نہیں ہے اور نہ ہی انہیں معاشرتی طور پر وہ تعاون مل رہاہے جو ان کی ذہنی صلاحیت کیلئے ضروری ہے۔چھوٹے بچے معمر افراد کی طرح چڑچڑاپن اور غصے کا اظہار کرسکتے ہیں اور اپنے والدین سے مزید تقاضے کرسکتے ہیں جس سے کچھ والدین بھی غیر مناسب دبائو کا شکار ہوسکتے ہیں۔صحت کا عالمی ادارہ اس بات پر زور دیتاہے کہ والدین کو تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعہ اپنے بچوں کے دبائو کو کم کرنے کے طریقہ تلاش کرناچاہئے اوراگرممکن ہوتوانہیں اس کیلئے ڈھانچہ فراہم کرناچاہئے ،نہیں تو ایسے حالات میں جب وہ سکول نہیں جارہے،وہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ان کیلئے دماغی صحت اور نفسیاتی مدد کی خدمات دستیاب ہونی چاہئیں اور بچوں کے تحفظ کی خدمات اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ بات یقینی بن سکے کہ ابھی بھی بچوں کیلئے ان کی دیکھ بھال کاسامان دستیاب ہے۔
متذکرہ بالا رپورٹوں اور سروے سے یہ نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ کورونا وائرس بچوں کی ذہنی و جسمانی نشو نما کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ بن کر سامنے آیاہے جس سے آج نہیں تو کل ضروربرے نتائج ملنا شروع ہوجائیں گے۔دنیا کی طرح ہمارے ہاں بھی بچوں کے متاثر ہونے کے خدشات بہت زیادہ ہیں کیونکہ کورونا وائرس اور لاک ڈائون کا جو اثر عالمی سطح پر ہے،ویسے ہی اثرات جموں وکشمیر میں بھی ہیں،یہاں سکول کورونا وائرس شروع ہونے کے بعد ہی نہیں بلکہ پہلے سے ہی بند پڑے ہیں اور دیگر سرگرمیاں بھی پوری طرح سے ٹھپ ہیں۔تاہم بچوں میں پائے جارہے چڑچڑے پن اور غصہ کیلئے صرف موجودہ حالات کو ہی ذمہ دار نہیں ٹھہرایاجاسکتابلکہ ہماری اپنی لاپرواہیاں اور تربیت ،اولاد کے تئیں کوتاہیاں بھی اس کی ذمہ دار ہیں۔