فکر و ادراک
آصف حسین الکشمیری
موجودہ زمانہ انسانی تاریخ کے اُن ادوار میں شمار ہوتا ہے جہاں تبدیلی کی رفتار نہایت تیز، حالات نہایت پیچیدہ اور فکری فضا نہایت منتشر ہو چکی ہے۔ اس برق رفتار دور میں جہاں سائنس و ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز ترقی کی ہے، وہیں انسان، بالخصوص نوجوان نسل، ایک ایسے گرداب میں پھنستی جا رہی ہے جہاں راستوں کی کثرت کے باوجود منزل کا تعین مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایۂ حیات، امیدوں کا مرکز اور مستقبل کا امین ہوتا ہے، مگر جب یہی نوجوان فکری، اخلاقی اور سماجی بحرانوں کا شکار ہو جائے تو پوری قوم کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔آج کا نوجوان بیک وقت کئی محاذوں پر برسرِ پیکار ہے۔ اس کے سامنے ایک طرف جدید تہذیب کا سیلاب ہے تو دوسری طرف اپنی شناخت کو بچانے کی جدوجہد۔ ایک طرف ترقی کے بے شمار مواقع ہیں تو دوسری طرف ان مواقع تک رسائی کے لیے سخت مقابلہ اور غیر یقینی کیفیت۔ یہی کشمکش اس کے ذہن، کردار اور زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
سب سے پہلا اور بنیادی چیلنج فکری و نظریاتی انتشار ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ، انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کے پلیٹ فارموں نے معلومات تک رسائی کو بے حد آسان بنا دیا ہے، مگر اس آسانی کے ساتھ ایک خطرناک پہلو بھی وابستہ ہے، اور وہ ہے غیر مصدقہ، گمراہ کن اور متضاد معلومات کا سیلاب۔ نوجوان بغیر تحقیق کے ہر بات کو قبول کرنے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے عقائد، نظریات اور سوچ میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ نہ مکمل طور پر مشرقی اقدار کو اپنا پاتا ہے اور نہ مغربی تہذیب میں خود کو ڈھال پاتا ہے، نتیجتاً ایک فکری خلا جنم لیتا ہے۔اس کا حل یہ ہے کہ نوجوانوں میں تنقیدی و تحقیقی فکر کو فروغ دیا جائے۔ تعلیمی اداروں میں محض معلومات کی فراہمی کے بجائے تحقیق، تجزیہ اور استدلال کی صلاحیت کو پروان چڑھایا جائے۔ دینی و اخلاقی تعلیم کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے پیش کیا جائے تاکہ نوجوان اپنے عقائد پر مضبوطی سے قائم رہ سکیں اور ہر فکری یلغار کا مقابلہ کر سکیں۔دوسرا بڑا چیلنج تعلیمی نظام کی خامیاں اور بے روزگاری ہے۔ موجودہ تعلیمی نظام زیادہ تر نظریاتی معلومات پر مبنی ہے، جبکہ عملی زندگی میں کامیابی کے لیے ہنر، تجربہ اور تخلیقی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان ڈگریاں تو حاصل کر لیتا ہے مگر عملی میدان میں خود کو غیر مؤثر محسوس کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزگار کے محدود مواقع اس کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرتے ہیں، جس سے مایوسی، بے چینی اور بعض اوقات منفی سرگرمیوں کی طرف رجحان بڑھتا ہے۔اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہنر پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ نوجوانوں کو فنی تربیت، عملی مہارتیں اور جدید ذرائع کے مطابق تربیت فراہم کی جائے۔ حکومت اور نجی ادارے مل کر ایسے پروگرام شروع کریں جو نوجوانوں کو خود کفیل بنائیں۔ اس کے علاوہ کاروباری شعور کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نوجوان ملازمت کے بجائے روزگار فراہم کرنے والے بن سکیں۔
تیسرا اہم چیلنج ڈیجیٹل لت اور وقت کا ضیاع ہے۔ سمارٹ فون، انٹرنیٹ اور سماجی ذرائع نے نوجوانوں کو اس قدر اپنی گرفت میں لے لیا ہے کہ وہ حقیقی دنیا سے کٹتے جا رہے ہیں۔ قیمتی وقت فضول سرگرمیوں میں ضائع ہو رہا ہے، نیند کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔اس کا حل یہ ہے کہ نوجوانوں میں ڈیجیٹل نظم و ضبط پیدا کیا جائے۔ وقت کے درست استعمال کی تربیت دی جائے، سماجی ذرائع کے استعمال کو محدود کیا جائے اور مثبت سرگرمیوں جیسے مطالعہ، کھیل اور تخلیقی مشاغل کی طرف راغب کیا جائے۔ والدین اور اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ خود عملی نمونہ پیش کریں اور نوجوانوں کی رہنمائی کریں۔چوتھا چیلنج اخلاقی و سماجی انحطاط ہے۔ مادہ پرستی، خود غرضی، بے راہ روی اور بے حیائی نے نوجوانوں کے کردار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں پھیلائی جانے والی غیر اخلاقی چیزیں نوجوانوں کی سوچ کو مسخ کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں برداشت، رواداری اور اخلاقی اقدار کمزور پڑ رہی ہیں۔اس کا حل یہ ہے کہ نوجوانوں کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اسلامی تعلیمات، سیرتِ نبویؐ اور اکابرین کی زندگیوں کو عملی نمونہ بنا کر پیش کیا جائے۔ تعلیمی نصاب میں اخلاقیات کو شامل کیا جائے اور معاشرے میں ایسے ماحول کو فروغ دیا جائے جہاں اچھے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔پانچواں چیلنج خاندانی نظام کی کمزوری ہے۔ والدین کی مصروفیات، گھریلو ناچاقیاں اور بچوں کو مناسب وقت نہ دینا نوجوانوں کی شخصیت پر منفی اثرات ڈال رہا ہے۔ نوجوان جذباتی طور پر تنہا ہو جاتا ہے اور اپنی رہنمائی کے لیے غلط ذرائع کا سہارا لیتا ہے۔اس کا حل یہ ہے کہ خاندان کو مضبوط بنایا جائے۔ والدین اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں، ان کی بات سنیں، ان کے مسائل کو سمجھیں اور ان کی مثبت رہنمائی کریں۔ گھر کا ماحول محبت، اعتماد اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ نوجوان خود کو محفوظ اور مطمئن محسوس کرے۔چھٹا اہم مسئلہ ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل ہیں۔ تعلیمی دباؤ، مقابلے کی فضا، معاشی مشکلات اور سماجی توقعات نوجوانوں کو ذہنی طور پر کمزور کر رہی ہیں۔ مایوسی، بے چینی اور احساسِ کمتری جیسے مسائل عام ہو رہے ہیں۔
اس کا حل یہ ہے کہ نوجوانوں کی ذہنی و نفسیاتی صحت پر توجہ دی جائے۔ تعلیمی اداروں میں رہنمائی و مشاورت کا نظام قائم کیا جائے، کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے، اور نوجوانوں کو اپنی بات کھل کر بیان کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت بھی ذہنی سکون کے لیے نہایت اہم ہے۔ساتواں چیلنج مقصدِ حیات سے دوری ہے۔ بہت سے نوجوان اپنی زندگی کا کوئی واضح مقصد نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے وہ ادھر ادھر بھٹکتے رہتے ہیں۔ جب انسان کے سامنے کوئی واضح ہدف نہ ہو تو اس کی صلاحیتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔اس کا حل یہ ہے کہ نوجوانوں کو احساسِ مقصد دیا جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ زندگی کا ایک اعلیٰ مقصد ہے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو اسی مقصد کے حصول کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اساتذہ اور رہنما حضرات کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں ایک واضح سمت فراہم کریں۔
مزید برآں، موجودہ دور میں ایک اور نہایت اہم چیلنج تقلیدِ بے جا اور شخصیت کا بحران ہے۔ آج کا نوجوان اکثر دوسروں کی چکاچوند زندگیوں سے متاثر ہو کر اپنی اصل شناخت کو فراموش کر بیٹھتا ہے۔ سماجی ذرائع پر دکھائی جانے والی مصنوعی کامیابیوں نے ایک ایسا غیر حقیقی معیار قائم کر دیا ہے جس کے حصول میں نوجوان اپنی حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے، اور نتیجتاً احساسِ محرومی اور خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔اس کا حل یہ ہے کہ نوجوانوں میں خود شناسی کو فروغ دیا جائے۔ انہیں یہ باور کرایا جائے کہ ہر انسان اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے منفرد ہے۔ کامیابی کا کوئی ایک پیمانہ نہیں بلکہ ہر فرد اپنی محنت اور مستقل مزاجی سے اپنی راہ متعین کرتا ہے۔اسی طرح جسمانی صحت کا پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ غیر متوازن غذا، ورزش کی کمی اور بے ترتیب معمولات نے نوجوانوں کو جسمانی طور پر کمزور کر دیا ہے، جو بالآخر ذہنی اور جذباتی کیفیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اس کا حل یہ ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی اپنایا جائے۔ ورزش، متوازن غذا اور مناسب نیند کو معمول بنایا جائے، اور تعلیمی اداروں میں کھیلوں کو فروغ دیا جائے۔مزید یہ کہ قیادت کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں مگر رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ منتشر ہو جاتی ہیں۔اس کا حل یہ ہے کہ نوجوانوں کو قیادت کے مواقع فراہم کیے جائیں، انہیں ذمہ داریاں دی جائیں اور عملی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کر سکیں۔
آخرکار یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ اگر معاشرہ خود فکری اور اخلاقی لحاظ سے کمزور ہو تو اس کے اثرات لازماً نوجوانوں پر بھی پڑتے ہیں۔ لہٰذا اصلاحِ نوجوان کے ساتھ ساتھ اصلاحِ معاشرہ بھی ضروری ہے۔
خلاصہ یہ کہ موجودہ دور کے چیلنجز اگرچہ پیچیدہ ہیں، مگر ان کا حل ممکن ہے، بشرطیکہ سنجیدگی، حکمت اور مستقل مزاجی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا جائے۔ اگر آج کا نوجوان علم، کردار اور عمل کی روشنی سے اپنی زندگی کو منور کر لے تو وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ پوری قوم کو ترقی اور عروج کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتا ہے۔ یہی نوجوان کل کے معمار ہیں اور انہی کے ہاتھوں میں ایک روشن، مستحکم اور باوقار مستقبل پوشیدہ ہے۔
رابطہ ۔9797888975