میم دانش
بھارت کے ۷۴؍ویں یوم آزادی ۱۵؍ اگست ۲۰۲۰ کو وزارتِ سماجی انصاف و اختیار سازی نے منشیات مخالف مہم’’نشہ مکت بھارت ابھیان‘‘ متعارف کرائی۔ اگرچہ بھارت طویل عرصے سے منشیات کے استعمال کے مسئلے سے دوچار رہا ہے لیکن یہ مہم ایک حکمتِ عملی میں تبدیلی کی علامت تھی جس میں ایک منظم تین جہتی حکمتِ عملی آگاہی، طلب میں کمی اور علاج شامل ہیں۔ابتدا میںیہ مہم ۲۷۲؍ اضلاع میں شروع کی گئی جنہیں زیادہ خطرے والے علاقے قرار دیا گیا تھالیکن بعد میں یہ پورے ملک میں پھیل گئی اور ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر گئی جس کا مدعا و مقصد یہ تھا کہ بھارت کے سب سے قیمتی اثاثے یعنی نوجوانوں کو اس بدعت سے بچایا جاسکے۔
نشہ مکت بھارت ابھیان کی حکمتِ عملی جامع ہے اور محض نعروں تک ہی محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات پر مبنی ہے۔ اس مہم کے مقاصد ایک مکمل نظامِ روک تھام اور نگہداشت قائم کرنے کے لئے ترتیب دیئے گئے ہیںمثلاً اعلیٰ تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں اور اسکولوں پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیناتاکہ ممکنہ افراد کی بروقت نشاندہی ہو سکے، نشے کے عادی افراد کی شناخت اور انہیں مدد و علاج کے نظام میں شامل کرنا، ہسپتالوں میں مشاورت، علاج کی سہولیات اور بحالی مراکز کا قیام و فروغ اور خدمات فراہم کرنے والوں اور رضاکاروں کی تربیت تاکہ نچلی سطح پر اس بحران سے نمٹا جا سکے۔
اگرچہ اس مہم کی ملکی سطح پر پہل۲۰۲۰ء میں ہوئی تاہم جموں و کشمیر میں اس کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی۔ قومی آغاز کے چند ہی گھنٹوں کے اندر، ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر نے جموں میں اس کا آغاز کر دیا۔ اسی دن خطے کے دس اضلاع جن میں ڈوڈہ، کشتواڑ، راجوری اور پونچھ شامل ہیںکو ابتدائی ہدفی علاقے قرار دیا گیا۔جموں و کشمیر کا ابتدائی لائحہ عمل جامع تھا جس میں طلبہ کلبوں کا قیام، ہم عمر افراد کی قیادت میں مداخلت کے ذریعے خطرے سے دوچار نوجوانوں کی نشاندہی اور تعلیمی اداروں کے قریب سگریٹ کی فروخت پر سخت پابندی شامل تھی۔ مزید برآں، حکومت نے غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ تعاون کیا تاکہ نشہ چھوڑنے کے مراکز کو براہِ راست پولیس اضلاع سے جوڑا جا سکے اور مؤثر کارروائی ممکن ہوسکے۔نشا مکت بھارت ابھیان کی اس ملک گیر تحریک کے سلسلے میں ۳ مئی۲۰۲۶ء کوسرینگر کے ٹی آر سی فٹبال گرائونڈ میں یہ مہم ایک تاریخی عروج پر پہنچ گئی۔ اتحاد کے شاندار مظاہرے میںیہاں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میںلوگ لال چوک کے تاریخی گھنٹہ گھرمیں جمع ہوئے اور معاشرے کے مختلف طبقات مذہب، ذات اور عقیدے سے بالاتر اس ’’میگا پیدل مارچ‘‘ کا حصہ بنیں ۔اس ریلی کی اہمیت صرف قیادت تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے پیمانے اور شرکاء کی نوعیت میں بھی تھی۔اس پد یاترا میں تقریباًتیس ہزارسے زائد افراد نے رضاکارانہ طور پر شرکت کی۔ سرینگر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے اس بڑی شرکت کی تصدیق کی اور اسے’’منشیات کے خلاف جنگ‘‘ میں عوام کی رضاکارانہ شمولیت قرار دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے اپنی تقریر میں کہا کہ منشیات کی سمگلنگ محض ایک سماجی برائی نہیں بلکہ ایک ’’خاموش دہشت گردی‘‘ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ منشیات سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردانہ سرگرمیوں کی مالی معاونت اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ نشے کے عادی افراد کو صرف متاثرین کے طور پر دیکھنے کے بجائے منشیات کی سپلائی چین کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔عوامی یکجہتی کے اس مظاہرے کے ساتھ ساتھ، انتظامیہ نے سخت کارروائی کا منصوبہ بھی پیش کیاجس میں ۱۱؍ اپریل سے ۲ مئی۲۰۲۶ء کے درمیان ۱۸۴؍ مقدمات درج کئے گئے اور ۸۱۵؍ مشتبہ سمگلروں کو گرفتار کیا گیاہے۔ تین ماہ کا ایکشن پلان جس کا مقصد صرف ڈیلروں کو پکڑنا نہیں بلکہ پورے’’منشیاتی نظام‘‘ کو ختم کرنا ہے جس میں مالی نیٹ ورکس اور جائیداد کی ضبطی بھی شامل ہے۔ سرینگر پولیس نے واضح پیغام دیاہے کہ’’منشیات کا کاروبار چھوڑ دیں، ورنہ سخت کارروائی کا سامنا کریں‘‘۔
’’نشہ مکت بھارت ابھیان‘‘ ایک طویل مدتی جدوجہد ہے۔ سرینگر میں ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اپنی پُر امن ، پُر سکون زندگی اورصاف و شفاف ماحول کو واپس حاصل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جیسے جیسے یہ مہم آگے بڑھ رہی ہے’’وکست بھارت‘‘ کے نعرے پر توجہ برقرار ہے’’ایک ایسا بھارت جو منشیات سے آزاد ہو‘‘۔منشیات فروشوں کے خلاف سخت اقدامات اور عوامی آگاہی میں اضافے کے ساتھ یہ مہم آہستہ آہستہ ایک سرکاری حکم سے بڑھ کر ایک عوامی تحریک میں تبدیل ہو رہی ہے۔