نرسنگ یعنی تیماداری کے افضل وپاکیزہ کام کی تاریخ اسی دن سے شروع ہوتی ہے جب بابا آدم نے دنیا میں تشریف رکھا۔اسی زمانے سے بیماروں کی خبر گیری اور ان کے دکھ درد میں شامل ہونے کا پتہ ملتا ہے۔ ہر سال12مئی کو عالمی نرسنگ ڈے منایا جاتا ہے۔اس شعبے سے منسلک افراد کی تاریخ کا جب بھی مطالعہ کرتے ہیں تو سونے کے حروف سے قلمبند باب نظر آتے ہیں جو اس پیشے کی عظمت اور کامیابی کی مکمل دلیل ہے۔آج کے دور میں نرسنگ سے وابستہ افراد کے بغیر شعبہ میڈیکل سائنس بے روح ہے اور یہ شعبہ ان قوم کے خیرخواہوں کے بغیر کام نہیں کر سکتا ہے۔اگرچہ زمانہ قدیم میں بھی بیماروں کی دیکھ بال کرتے تھے لیکن رفتہ رفتہ سماجی ترقی کے ساتھ اس چیز نے ایک علم اور فن کی شکل اختیار کی، جس کو پانے اور عملی دنیا میں بروئے کار لانے کے لیے مخصوص لوگوں کا قافلہ سامنے آ یاجنہوں نے اپنی قابلیت اور جذبے سے صحت کے لیے راحت کا پیغام سنایا۔میڈکل شعبے میں آلات کتنے ہی قیمتی کیوں نہ ہو ں،ہسپتالوں کا مقام کتنا بڑا کیوں نہ ہو،لیکن یہ سب کچھ شفا خانوں میں اُس وقت تک بے سودہے جب تک نہ اس عمل میں قابل اور تربیت یافتہ نرس کی شمولیت نہ ہو۔
نرسنگ ایک قابل قدر اور عظمت سے ملبوس پیشہ ہے جس سے منسلک لوگ ہر طبقے کے لیے ایک اْمیدکی کرن ہوتے ہیں۔نرس اس نیک صفت خصلت کا نام ہے جو ہسپتال کی چار دیواری میں درد کے مارے بے بس بیمار کو صحت مند زندگی کا پیغام بااخلاق الفاظ سے دیتی ہے۔مسکراتے لبوں اور باہمت الفاظ سے یہی لوگ بستر مرگ پر پڑے لوگوں کو حوصلے دے کر جینے کا پیغام سناتے ہیں۔ ان کا پیشہ وہی ہے جس کی تربیت ہمیں اسلام سے براہ راست ملتی ہے، یعنی خدمت خلق۔ انسان ان کا کام اور کارکردگی دیکھ کر ہی اس شعبے سے متعارف ہوجاتا ہے۔بغیر رنگ و نسل ،ذات و مذہب ،امیر و غریب کے یہ لوگ انسانی زندگی کی سلامتی اور خیرخواہی کے لیے کمر بستہ ہوتے ہیں۔جہاں اس شعبے سے منسلک لاکھوں ایسی مثالیں ہیں جو قابل تقلید ہیںمگر ان کے کام کا جائزہ موجودہ حالات میں لیا جائے تو دل سے بے ساختہ نکل جاتا ہے کہ آپ کہ عظمت کو سلام۔ سب لوگ اس بات سے آشنا ہیں کہ اس وقت ساری دنیا کورونا وائرس کی گرفت میں ہے اور اس جنگ میں ہر اول دستے میں یہی لوگ اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہیں۔اس عالمی وبا میں جو کام نرسنگ شعبہ انجام دے رہا ہے، وہ خدمت خلق کی تاریخ کا حسین باب قرار دیا جائے گا۔ہم سب اس بات سے باخبر ہیں کہ بہت لوگ جو اس پیشے سے منسلک تھے ،نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرکے اپنے وجود کوہماری بقا کے لیے فنا کیا ہے۔بہت سارے لوگ جو اس پیشے سے وابستہ ہیں، کئی ماہ سے اپنے گھر والوں کے رابطے سے منقطع ہیں اور کئی کئی راتوں سے بیدار ہیں، فقط اس لیے کہ دوسروں کی سانسیں چلتی رہیں۔یہی ان کی عظمت کی دلیل ہے اور عالمی نرسنگ ڈے پر یہی پیغام ہے۔ایک نرس ہر مریض کوبے بسی کی حالت میں یہ ہمت دیتی رہتی ہے کہ وہ جلد از جلد شفا یاب ہوسکتا ہے۔مرض کتنا بھی شدید کیوں نا ہو،نرس اُس کو ٹھیک ہو نے کی نوید سناتی رہتی ہے۔ایک نرس اپنے فن اور تجربے سے اسپتال میں ایسا روحانی اور طبی ماحول پیدا کرتی ہے کہ بیمار جس نے زندگی کی امید چھوڑی ہوتی ہے، کو بھی نئے سحر کی کرنیں نظر آتی ہیں۔
دنیا بھر میںکورونا وائرس کی مصیبت میں اس پیشے سے منسلک افراد نے قابل تحسین کام انجام دیا اور اب بھی اس جنگ میں بہادری کے ساتھ مریضوں کی صحت یابی کے لیے کمر بستہ ہیں۔کئی لوگوں نے دوسروں کی زندگی بچاتے بچاتے اپنی زندگی موت کے حوالے کردی ہے۔وادی میں رہنے والے نرسنگ شعبہ کے افراد بھی مثال بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔طبی سامان یا دیگر سہیولیات کی عدم موجودگی کے باوجود بھی یہ لوگ اپنی قابلیت کی بنیاد پر مریضوں کی راحت اور خدمت کے لئے چوبیس گھنٹے موجود رہتے ہیں۔اگرچہ وادی کے ان سپوتوں نے پہلے بھی عالمی سطح پر قوم کا نام روشن کیا لیکن اس کووڈ۔19 نامی وبا میں جو کام ان لوگوں نے انجام دیااور دے رہے ہیں، اس کے لیے قوم ان کی عظمت کو سلام پیش کرتی ہے۔اس پیشے سے وابستہ کئی لوگوں نے اپنے فن کا لوہابھی منوالیا ہے جس کی مثال محترمہ حسینہ پروین نامی بہن کی ہے، جس نے نیشنل فلورینس نائٹ اینگل انعام انڈین قومی نرسنگ کونسل سے حاصل کیا ہے۔صدر ہندوستان کے ہاتھوں یہ تمغہ پانے والی اس بہن نے نہ صرف اس شعبے کو بلکہ کشمیریت کو بھی عزت بخشی۔نرسنگ شعبے کی ترقی اور اس سائنس میں ایک نئی جان ڈالنے کے لیے اس عقل سلیم رکھنے والی خاتون نے بہت جذبے اور استقلال کامظاہرہ کیا۔ اس شعبے میں قدم رکھنے والی اس باہمت خاتون نے آج تک تھکنے کا نام نہ لے کر پر جوش انداز میں بے شمار جانوں کو صحت یابی کی اطلاع دی ۔اس محترمہ کی زیر نگرانی بہت سی نرسوں نے کام کیا اور اس نے کئی عہدوں پر کام کرکے کارواں کو آگے بڑھایا۔بقول پروینہ اس نے موت اور زندگی کے بے شمارمناظربہت قریب سے دیکھے ہیں،خاص کر ان لوگوں کے جو گولیوں کا شکار ہوتے تھے ۔پروینہ نے مشکلات میں جینے کا مزاج نہ صرف خوداپنایا بلکہ جتنے بھی باقی لوگوں کواس کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا ،وہ بھی قوم کے لیے ثمر آور ثابت ہوئے۔پروینہ کے دل میں خدمت خلق کا جذبہ موجود ہے، اس نے بے بسوں اور مسکینوں کی مدد کے لیے ایک بینک اکاونٹ بھی کھولا ہے جس کے لیے وہ لوگوں سے امداد حاصل کرکے بے سہاروں پر صرف کرتی ہے۔محترمہ اور اس کے کئی ساتھیوں نے کئی بار خون کا عطیہ بھی پیش کیا۔محترمہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ انسانیت کی خدمت کے لیے وہ آخری سانس تک اپنی خدمات پیش رکھے گی۔
اس شعبے میں ابھی بہت باہنر اور باہمت لوگوں کی ضرورت ہے جو اس قوم کی خیرخواہی اور صحت مند ی کے لئے خدمت انجام دے سکتے ہیں۔عالمی نرسنگ ڈے کے حوالے سے حکومت کو اس بات پر سنجیدہ ہونا ہے کہ یہ شعبہ ہر سطح پر فعال اورمضبوط بن جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو نرسنگ شعبے میں آکر خدمت ِ خلق کا مزاج پیدا کرنا چاہیے۔اپنی اس وادی کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ ہر دور میں یہاں کا سرکاری نظام ہر معاملے کی طرح اس معاملے بھی مثبت نہیں رہا۔جس کے نتیجہ میں اس شعبہ سے وابستہ لوگوں کو اپنے جائز مطالبات کے لئے سڑکوں پر آنا پڑتاہے۔اس شعبے کے لوگ نہ صرف اسپتال کی چار دیواری میں خدمت خلق انجام دیتے ہیں بلکہ کئی مرحلوں میں یہ گھر گھر جاکر صحت کے حوالے سے قوم و ملت کے بچوں کی صحت کے حوالے انہیں رہنما اصولوں سے باخبر کرتے رہتے ہیں۔افسوس کہ آج بھی نرسنگ سے منسلک افراد کئی پریشانیوں کے شکار ہیں جن کی طرف حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ایک طرف اس شعبے میں افرادی قوت کی کمی ہے اور دوسری طرف سرکار نے کئی افراد کو برطرف کردیا ہے کیا جو کہ شعبہ صحت کے ساتھ ایک مذاق دکھائی دے رہا ہے۔
رابطہ :بہرام پورہ کنزر، بارہمولہ
موبائل نمبر:8082706173