احمد کشمیری
سینئرصحافی اور ہفت روزہ کشمیر ٹریولر کے مدیرِ اعلیٰ، جناب نثار پیرزادہ، جو ترال کے معزز رفیقی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، 14جنوری 2025 کو سرینگر کے علاقے نٹی پورہ میں اپنی رہائش گاہ پر انتقال کر گئے۔ ان کی وفات سے جموں و کشمیر کی اردو صحافت، فکری روایت اور سماجی شعور ایک ایسے صاحبِ کردار قلمکار سے محروم ہو گیا، جس کا خلا آسانی سے پُر ہونا ممکن نہیں۔1964 میں ترال میں پیدا ہونے والے نثار پیرزادہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی۔ طالب علمی ہی سے ان میں مشاہدے کی گہرائی، خبر کی پہچان اور حالات کو سمجھنے کی فطری صلاحیت نمایاں تھی۔ یہی اوصاف آگے چل کر ان کی صحافتی زندگی کی بنیاد بنے۔ انہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور بعد ازاں اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (IGNOU) سے صحافت و ابلاغِ عامہ میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ (PGJMC) مکمل کیا۔
نثار پیرزادہ کے نزدیک صحافت محض روزگار نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ اور سماجی امانت تھی۔ انہوں نے طالب علمی کے زمانے سے ہی مقامی اور قومی اخبارات و جرائد کے لیے بطور فری لانسر کام شروع کیا اور دیانت، تحمل اور پیشہ ورانہ شرافت کے ذریعے اپنی معتبر شناخت قائم کی۔طویل علالت کے باوجود انہوں نے زندگی کی جدوجہد ترک نہیں کی۔ جسمانی کمزوری ان کے حوصلے، وقار اور اخلاقی جرأت پر غالب نہ آ سکی۔ وہ خاموش استقامت کے ساتھ صحافت سے وابستہ رہے اور یوں اپنے ہم عصروں اور نو آموز صحافیوں کے لیے صبر، استقلال اور وقار کی عملی مثال بن گئے۔ان کی صحافتی زندگی سیاہ و سفید صحافت کے دور سے لے کر ڈیجیٹل عہد تک محیط رہی۔ انہوں نے سرینگر سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ رہنمائے کشمیر کے مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جو معروف براڈکاسٹر اور سابق ڈائریکٹر دوردرشن جناب اشرف ساحل کی ملکیت تھا۔ انہوں نے کرگل نمبر کے لیے آزاد صحافی بشیر احمد زرگر کے ہمراہ خدمات انجام دے کر لداخ کے دور دراز علاقوں کے مسائل کو اجاگر کیا۔ اس کے علاوہ قومی اردو روزنامہ قومی آواز میں بھی ان کی تحریریں شائع ہوئیں۔
الیکٹرانک میڈیا میں وہ نجی پروڈیوسر اور ریڈیو و ٹیلی وژن کے لیے کیجول نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں، سینئر صحافی جناب ظہور شاعر کے ساتھ مل کر انہوں نے نیوز ایجنسی نیوز ٹوڈے کی بنیاد رکھی، جس نے زمینی اور علاقائی صحافت کو نئی سمت عطا کی۔میرا ان کے ساتھ تقریباً اٹھائیس برس پر محیط تعلق رہا۔ پہلی ملاقات 1999 میں کشمیر یونیورسٹی میں IGNOU کے پہلے PGJMC بیچ کے دوران ہوئی۔ وہ اپنی شگفتہ مزاجی، ملنساری اور لوگوں کو جوڑنے کی غیر معمولی صلاحیت کے باعث سب کی توجہ کا مرکز تھے۔ وہ شاذ و نادر ہی تنہا نظر آتے تھے۔ جناب سید مقبول اکثر ان کے ہمراہ ہوتے، جو ان کی رفاقت نبھانے کی خوبی کا ثبوت تھا۔ نثار پیرزادہ اپنے رشتہ داروں، احباب اور اہلِ علاقہ کا ذکر ہمیشہ عزت اور فخر سے کرتے۔ وہ ڈاکٹر جوہر قدوسی، ڈاکٹر نثار احمد ترالی، بشیر احمد زرگر اور جناب پرویز احمد جیسے علاقائی شخصیات کی خدمات کو سراہتے اور سمجھتے تھے کہ اپنے لوگوں کی قدر کرنا ایک تہذیبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔صحافتی اقدار ان کی شخصیت میں رچی بسی تھیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں وقار تلاش کرتے تھے۔
بقول ِ اُن کےصحافت کا احترام اس کی علامتوں کے احترام سے شروع ہوتا ہے۔ادارت اور رپورٹنگ سے بڑھ کر وہ نوجوانوں کے مخلص رہنما تھے۔ تعلیم، روزگار اور صحافت کے میدان میں جدوجہد کرنے والے درجنوں نوجوانوں کو انہوں نے حوصلہ دیا، رہنمائی کی اور اپنے وسیع، اعتماد پر مبنی تعلقات کے ذریعے انہیں مواقع فراہم کیے۔ اردو زبان اور اس کی تہذیبی شائستگی سے ان کی وابستگی غیر متزلزل رہی۔وہ کشمیر یونیورسٹی میں IGNOU کے پہلے صحافت بیچ کا حصہ تھے، جہاں ان کے ہم جماعتوں میں معروف کالم نگار جناب پرویز سجاد، شبنم تلگامی اور محترمہ سمیرہ بشیر شامل تھیں۔ اس کورس کی تدریس سابق صدر شعبہ جناب ناصر مرزا، جناب شوکت شفیع، محترمہ سیدہ افشانہ اور دیگر سینئر اساتذہ نے کی، جنہوں نے صحافیوں کی ایک پوری نسل کی فکری تربیت کی۔
مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے جناب ناصر مرزا نے انہیں اپنے عہد کا حقیقی صحافی قرار دیا۔ انہوں نے نثار پیرزادہ کی مددگار فطرت، اخلاقی وضاحت اور اردو زبان کی بے لوث خدمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے صحافی خود ایک ادارہ بن جاتے ہیں اور ان کی اقدار ان کے ناموں سے کہیں زیادہ دیرپا ہوتی ہیں۔ان کے انتقال پر مختلف حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ فاتحہ کے موقع پر صحافیوں نے مشترکہ جدوجہد، دیانت دار رپورٹنگ اور صحافتی اصولوں سے وابستگی کو یاد کیا۔ کشمیر یونیورسٹی شعبہ صحافت کے سابقہ صدر ناصر مرزا اور وائس آف کشمیر کے کوآرڈینیٹر شکیل آزاد نے اہل خانہ سے تعزیت کی۔اس موقع پر ایم ایل اے ترال رفیق احمد نائیک، سماجی کارکن فاروق احمد ترالی اور مقامی صحافی سید اعجاز، بشارت رشید اور سید منظور سمیت متعدد شخصیات نے شرکت کی۔ مختلف اخبارات، نیوز ایجنسیوں اور تنظیموں نے اشاعتی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے تعزیتی پیغامات جاری کرکے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔نثار پیرزادہ اگرچہ آج ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر ان کی جرأت، انکساری اور اردو صحافت کے لیے مخلصانہ خدمات زندہ ہیں۔ وہ اس عہد کی نمائندگی کرتے تھے جہاں صحافت سہولت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچی صحافت دیانت، ہمدردی اور اخلاقی استقامت سے جنم لیتی ہے۔