شیخ عابد حسین
ہر ناول نگار کا مقصد ہوتا ہے کہ ناول میں ایسی کہانی کو پیش کیا جائے جس کا تعلق حقیقی زندگی سے ہو تاکہ سماج کو کسی مخصوص خوبی یا خامی کی طرف توجہ دلایا جائے وہی کوشش مرزا ہادی رسوا نے ناول امراو جان ادا میں کی ہے اور اس میں کامیاب بھی ہوئے ہے ناول میں زبان کا استعمال بڑا شاندار ہوا ہے آسان اور روز مرہ کی زبان میں بات کو سماج تک پہچانے کی کوشش کی گئ ہے لفظیات میں سادہ پن مرزا رسوا کی خوبی نظر آرہی ہے شائد وجہ یہ ہے کہ مرزا کا اردو زبان پر کافی گرفت تھی اردو ہی نہیں بلکہ مرزا کو عربی اور فارسی پر بھی کافی عبور تھا. ناول میں آپسی بات چیت کا جو منظر ہے وہ بھی کابل تعریف ہے اس لئے کہ اسے نہ صرف کہانی میں اصلیت کا غلبہ ہوا ہے بلکہ اس بات چیت نے کہانی کے پلاٹ کو بھی مضبوط کیا ہے ناول میں جو پلاٹ ہے اس کو ہلنے نہیں دیا ہے بلکہ زنجیر میں کڑی کی طرح جوڑ کے رکھا ہے ہر کہانی کے ساتھ ساتھ ضمنی کہانیاں بھی بیان کی جاتی ہے ناول میں بھی کچھ جگہوں پر ضمنی کہانیاں بیان ہوئی ہیں البتہ ان میں وسعت نہیں ہیں جس کی وجہ مرزا کا شاندار اسلوب اور پلاٹ ہے جس نے انہیں فراموش کر دیا اور اصل کہانی کو بغیر موجوں کے بہا دیا ۔کہانی میں کردار حقیقی ہے جن کا ناول میں حقیقی ہونا ضروری ہے ناول میں کچھ کردار اسم بامسمی ہے جن میں خانم جان, بسم اللہ جان, بوا حسینی وغیزہ پیدائشی طوائف ہیں کچھ کردار اگرچہ مختلف خصائص کے ہیں مگر سب کے سب نفسیات کے شکار محسوس ہو رہے ہیں ناول میں کچھ کردار کہانی کے آخر تک موجود نہیں ہیں جیسے دلاور خان جس نے امیرن کو اغواء کیا تھا بعد میں اسے فروخت کرتا ہے فروخت کرنے کے بعد وہ کہانی میں دوبارہ شامل نہیں ہے اسی طرح دلاور کا دوست پیر بخش بھی کہانی کے شروعات میں ہی تھا بعد میں پورے ناول میں غائب رہا.حالانکہ شروعات ان ہی سے ہوئی لیکن کہانی میں انوکھا موڑ امراو جان ادا کی فروخت کے بعد آیا ہے. ناول میں شاعرانہ لہجہ استعمال کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ناول نگار اور امیرن دونوں شاعر ہیں اس لئے اس کا استعمال ہوا ہے شاعری کے استعمال سے کہانی میں سخت پن آیا ہے جس کی وجہ سے عام قاری کہانی کو سمجھ نہیں پاتا اکثر شاعری بیانیہ نہیں ہوتی ہے اس میں بات کو گویا کہ کوزے میں بند کردیا گیا ہوتا ہے لہزا ہر کسی کا اس کی گہرائی میں جانا ممکن نہیں ہوتا ہے پھر بھی جو اشعار استعمال کئے گئے ہیں ان کی زبان بھی سادہ ہے جو با آسانی قاری سمجھ سکتا ہے ناول امراو جان ادا اپنی خوبیوں اور خامیوں کے باوحود بھی ایک زندہ ناول ہے.