ناموری بھی ایک عجیب شئے ہے جس کو ملی وہ مغرور بن جاتا ہے اور جس کو نہ ملی وہ مفت میں پانے کی کوشش کرتا ہے۔جب انسان کو کردار ،گفتار ،کام کاج اور اطوار سے پہچان نہیں ملتی تو وہ سستی شہرت کی تلاش میں کوئی آسان نشانہ ڈھونڈتا ہے۔ناموری حاصل کرنے کا سب سے آسان نشانہ مذہب ہے کیونکہ اس کی مذمت ہر کوئی دانشور کرتا ہے اگر چہ نفرت کی آڑ میں لوگ شاباشی بھی دیتے ہیں۔دیکھنے میں آیا ہے کہ جس آدمی کی اوقات دو پیسے کی بھی نہیں ہوتی ،وہ سستی ناموری کی بنیاد پر وقت کا لیڈر بن جا تا ہے اور دنیا کے بڑے بڑے حکمران ان کو بعد میں پناہ بھی دیتے ہیں یا سیاسی جماعتیں منا کر اپنی ٹکٹ پر حساس علاقے کا نمائندہ بناتی ہیں۔اس ضمن میں حیرانی کی بات یہ ہے کہ لوگ ان مجرموں کو ووٹ بھی ڈالتے ہیں۔یہ چیزیں ہوتی رہیں گی اور ہو بھی رہی ہیں۔کچھ لوگ اپنے خالق حقیقی کی مخالفت کرتے ہیں تو کچھ لوگ پیغمبروں کی توہین کرکے دنیا میں نام کماتے ہیں۔حال ہی کے پیش آئے واقع نے ایک بار پھر امت مسلمہ کے جزبات کو ٹھیس پہنچائی اور ٹھیس پہنچانے والا کوئی غیر نہیں بلکہ مسلمان ہی تھا۔اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔کیونکہ ہم نے ہدایت کی کتاب کو پس پشت ڈال کر بے ہدایتی کو فروغ دیا ہے۔رہا سوال قرآن مجید کا تو یہ الہامی کتاب ہے، نہ کہ کسی دنیائی شاعر یا فاضل کا کلام۔اس کتاب کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ آج تک کسی نے اس جیسا کلام نہ تخلیق کیا ہے اور نہ ہی تخلیق ہوگا۔اس کتاب کی حفاظت مسلمانوں کے ذمے نہیں ہے کیونکہ باقی الہامی کتابوں کی طرح اس کتاب کو بھی ممکن ہے بدل دیا جاتا۔وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی بصیرت میں اضافہ ہونے کے بجائے کمی واقع ہو رہی ہے۔اسی لئے اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ قدرت کے ہاتھوں میں ہے۔ہمارے خالق و مالک کا فرمان ہے کہ (سورۃ الحجر آیت ۹) یہ ذکر (یعنی قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قرآن کریم آخری آسمانی کتاب ہے جو قیامت تک کے لئے نافذ العمل رہے گی۔اور یہ بات کسی انسان کی نہیں ہے اور یہ گارنٹی کسی دنیاوی طاقت کی نہیں ہے بلکہ اس طاقت کی ہے جس نے تمام قوتوں کو تخلیق کیا ہے۔یہ حفاظت اس محافظ کے ذمے ہے جس کی حفاظت میںساری کائنات ہے۔پوری دنیا مل کر بھی کلام الٰہی کی ایک زیر نہیں مٹا سکتی۔لوگ کاغذ کے ٹکڑے جلا سکتے ہیں یا پھاڑ سکتے ہیں لیکن قرآن مجید کی زبر، زیر یا پیش نہیں بدل سکتے کیونکہ اس کی حفاظت کا طریقہ بینظیر یعنی یونیک ہے۔یہ کتاب نہ صرف مومنوں کے سینوں میں پیوست ہے بلکہ لاکھوں داناؤں اور بصیرت افروز شخصیتوں کی کتب خانوں میں بھی محفوظ ہے۔جیسے سورج کی روشنی سے کوئی تپش الگ نہیں کرسکتا ٹھیک ویسے قرآن مجید سے کوئی ایک لفظ نہیں نکال سکتا۔
قرآن الکریم کو اس عظیم خوبی کے ذریعے دوسری آسمانی کتابوں سے بْلند اور ممتاز کرنے کی حکمت یہ نظر آتی ہے کہ یہ آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے ، آسمانی کتابوں کے سلسلے کو ختم کرنے والی ہے ،لہٰذا خدا تعالیٰ نے اس کی حفاظت کے لئے ایسے اسباب تیار اور مہیا فرمائے جو اس کے علاوہ کسی بھی اور کتاب کے لئے میسر نہیں تھے اور نہ ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر غلط فہمیاں کیوں ؟کیوں کسی الہامی آیت پر اعتراضات کی نوبت آتی ہے ؟۔اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں نے خود کبھی قرآن مجید کو سمجھا ہی نہیں اور نہ ہی آج بھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کمزور ذہانت اور بیرخی نے شمع الٰہی کی روشنی کو محدود رکھا۔الگ الگ فرقوں نے الگ الگ تفسیر بنائیے اور اصل متن کے سوا سب کچھ اپنی فہم کے مطابق بدل ڈالا۔آج بھی قرآن پڑھنا اور پڑھانا ایک چھوٹے سے طبقے کے کندھوں پر ہے۔جب کسی آیت کا پس منظر ہی معلوم نہیں تو سوالات تو اٹھیں گے ہی۔حالانکہ قرآن مجید سب انسانوں کے لئے ہدایت ہے۔یہ عالم انسانیت کی رہبری کے لئے نازل ہوئی ہے نہ کہ کسی ایک طبقے کے لئے۔اس میں امن وسکون کا پیغام ہے۔زندگی گزارنے کا صحیح اسلوب بتایا گیا ہے۔اس میں بھائی چارے کا درس ہے۔حقوق العباد پر زور ہے۔حتیٰ کہ مذہبی آزادی کا بھی ذکر ہے۔قرآن مجید ایک دعوت ہے جبر نہیں۔حفاظت ہے دہشت نہیں۔انصاف ہے ظلم نہیں۔شفقت ہے عناد نہیں۔وحدت ہے انتشار نہیں۔اس کتاب کا ہر ایک پنا دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ ہے۔یہ کتاب قطعی طور پر دہشت گردی کی تاکید نہیں کرتی بلکہ اس کے بجائے تردید کرتی ہے۔دنیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ کم بخت لوگ اپنے مطلب کے لئے کسی بھی حد تک گر جاتے ہیں اور سستی شہرت یا کسی کی نظروں میں آنے کے لئے ایسے قابل مذمت پرچار کرتے رہتے ہیں۔ایسے مردود اور ملعون اشخاص کبھی بھی اور کسی بھی زمانے میں پیدا ہوتے رہیں گے۔قرآن مجید میں صاف صاف فرمایا گیا ہے کہ کسی کے مذہب یا معبود کی توہین مت کرو کیونکہ ایسا کرنے سے آپ کے دین اور معبود پر بھی لوگ توہین آمیز فقرے کہیں گے۔یہ تلقین اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مذہبی منافرت کو فروغ نہیں دینا چاہیے۔قرآن مقدس ایک دعوت ہے عداوت نہیں۔اس کا نزول عالم انسانیت کی بقا کے لئے ہوا ہے تباہی کے لئے نہیں۔نزول کے وقت اس مقدس کتاب کی مقدس آیتیں خیرالبشر کے مبارک سینے میں جمع ہوئیں پھر آپ نے اپنے دہان مبارک سے صحابہ کرام کو سکھایا اور انہوںنے من و عن حافظ کرکے دوسروں تک پہنچایا۔پھر خلیفہ اول کے دور میں اس کو اکٹھے کرنے کا عمل شروع ہوا اور خلیفہ سوم کے ہاتھوں کتابی شکل میں تکمیل پایا۔کتابی شکل میں آنے کے بعد بار بار پڑھنے سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ اس میں کوئی شبہ یا غلطی نہیں ہے اور قرآن پاک کا ہر ایک حرف بالکل ویسا ہی ہے جیسے خدا کے محبوب نے اپنے اصحاب کو سکھایا تھا۔اس کے بعد یہ عمل متواتر پھیلتا گیا اور آج تک من وعن پھیل رہا ہے۔قرآن پاک کا ہر ایک نسخہ ہزاروں حافظوں کی نظرسے گزر کر شائع ہوتا ہے۔اس ضمن میں قابل تحسین بات یہ ہے کہ فرقہ واریت کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑا اور مسلمان متن کے من و عن ہونے پر متفق بھی ہیں اور محتاط بھی۔یہاں فرقہ بندی کا فایدہ یہ ہے کہ قرآن مقدس پر سب کی نظر ہے اور کوئی اس معاملے میں غفلت نہیں برت سکتا۔ہاں آج کل کے زمانے میں جو نسخے انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں ان کو پڑھنے سے پہلے علما کی رائے ضروری لینی چاہیے تاکہ غیر شعوری طور پر ہم غلط نسخہ نہ پڑھ سکے۔بہتر یہی ہے کہ ہم کتابی شکل میں قرآن مجید کی تلاوت کریں اور یقیناً لگاتار تلاوت قرآن اپنے آپ میں ہی اس کی مضبوط حفاظت ہے۔ قرآن مجید دنیا کی وہ واحد کتاب ہے جس کو لوگوں نے مکمل طور پر حافظ کیا اور کرتے رہیں گے۔اس ضمن میں ایک واقع پیش کرتا ہوں۔
ایک دفعہ ایک یہودی مامون الرشید کے دربار میں حاضر ہوا اور مامون کے سامنے کچھ گفتگو کی جو بہت ہی بہترین انداز میں تھی ، اس کے انداز کلام اور علم کو دیکھ کر مامون بہت متاثر ہوا اور اس کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور اسے مال و عطاء کی رغبت بھی دلائی ، لیکن وہ یہودی یہ کہہ کر چلا گیا کہ ’’میرے باپ دادا کا دین ہی میرا دین ہے‘‘ ، پھر اگلے سال یہی یہودی مامون الرشید کے دربار میں آیا اور فقہ کے بارے میں بہت اچھے انداز میں بات کی ، مامون نے اس کی باتیں سن کر کہا"کیا تْم وہی نہیں ہو ؟" یعنی وہی جسے میں نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور اْس نے قبول نہیں کی تھی ،اس نے کہا " جی ہاں میں وہی ہوں "۔مامون نے کہا " تو پھر تمہارے اسلام قبول کرنے کا سبب کیا بنا ؟ "۔اْس نے کہا" میں آپ کے پاس سے نکلا تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ان ادیان کا امتحان کروں ، آپ جانتے ہیں کہ میری لکھائی بہت اچھی ہے ، لہٰذا میں نے یہاں سے جانے کے بعد سب سے پہلے تورات کے تین نسخے لکھے اور اْن میں کمی اور زیادتی کی ، پھر انہیں لے کر گرجا میں گیا اور سب نسخے فروخت کر دیے ،اس کے بعد میں نے انجیل کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی کمی اور زیادتی کی اور پھر انہیں لے کر بیعہ میں گیا اور وہ سب نسخے فروخت کر دیے ،اس کے بعد میں نے قران کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی کمی اور زیادتی کی اور پھر اسے کچھ مسلمانوں کے پاس لے گیا تو انہوں نے ان نسخوں کو لیکر دیکھنا اور پڑھنا شروع کیا اور تھوڑی دیربعد انہوں نے وہ نسخے خریدنے کی بجائے مجھے مارنے کے لیے پکڑ لیا ، کیونکہ انہوں نے ان نسخوں میں میری طرف سے کی گئی کمی اور زیادتی کو فوراً ہی پکڑ لیا تھا ، اس طرح مجھ پر یہ واضح ہو گیا کہ یہی کتاب محفوظ ہے اور یہی اس دین کی حقانیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے ، لہٰذا میں نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمان ہو گیا‘‘۔معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی حفاظت خدا نے ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت کی ہے۔ ہمیں بھی کسی کے بہکاوے میں آکر گمراہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ سوچ سمجھ کر پہلے خود اس مقدس کتاب کو سیکھنا چاہیے اور پھر اپنے اخلاق حسنہ سے دوسروں تک اس کا پیغام پہنچانا چاہیے۔کسی کے مذہب یا معبود کی توہین سے گریز کرنا چاہیے۔ یہی اصل حفاظت ہے اور یہی مرکزی پیغام۔جب ہم خود تلاوت قرآن نہیں کرتے تو دوسروں پر گستاخی کا الزام کیوں ؟۔
رابطہ۔قصبہ کھُل کولگام ،کشمیر