فہم و فراست
سبزار احمد بٹ
گھڑی کی ٹک ٹک محض ایک آواز نہیں بلکہ زندگی کے شجر پر لگنے والی وہ کلہاڑی ہے جو مسلسل وار کرتی رہتی ہے، یہاں تک کہ زندگی کا یہ شجر ایک دن گر جاتا ہے۔ اس ٹک ٹک میں ہر انسان کے لیے ایک سبق پوشیدہ ہے کہ وقت بڑی تیزی سے گزرتا ہے اور ایک بار گزر جائے تو پھر کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔اگر وقت کو دنیا کی سب سے قیمتی شے کہا جائے تو یہ ہرگز بے جا نہ ہوگا، کیونکہ دنیا کی ساری دولت خرچ کرنے پر بھی گزرے ہوئے وقت کا ایک لمحہ واپس نہیں لایا جا سکتا۔ اسی لیے وقت کی قدر کرنا ہم سب پر لازم ہے۔ کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے:’’منٹوں کا خیال رکھو، گھنٹے خود اپنا خیال رکھ لیں گے۔‘‘
وقت کی قدر و منزلت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے خود وقت کی قسم کھائی ہے۔ قدرت کا نظام بھی ہمیں وقت کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ سورج کا وقت پر طلوع ہونا اور وقت پر غروب ہونا، دن اور رات کا ایک ترتیب کے ساتھ آنا جانا، موسموں کا چلن وغیرہ ،یہ سب وقت کی پاسداری کی واضح مثالیں ہیں۔
وقت کو سیکنڈوں، منٹوں، گھنٹوں، دنوں، مہینوں اور سالوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں نئے سال کی ابتدا بھی مختلف دنوں سے ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت نے چاند کو پیدا کر کے گویا ایک قدرتی کیلنڈر ہمارے سامنے رکھ دیا ہے، جس سے وقت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی سال ماہِ محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے، جبکہ ہندوستان سمیت مختلف ممالک میں نیا سال جنوری سے شروع ہوتا ہے، جسے عیسوی سال بھی کہا جاتا ہے۔بہرحال، سال کوئی بھی ہو، وقت کا ضیاع سب سے بڑا نقصان ہے۔
2025 میں ہم سب نے بہت کچھ دیکھا۔ کچھ واقعات نے ذاتی طور پر ہمیں متاثر کیا اور کچھ واقعات نے ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنے اچھے بُرے اثرات مرتب کیے۔ بہت ممکن ہے کہ ہمیں تکلیف پہنچی ہو، ہمارا مالی نقصان ہوا ہو، ہمارا کوئی پیارا ہم سے بچھڑ گیا ہو، ہمیں اپنے دوستوں نے دھوکہ دیا ہو، ہمارے خلاف سازشیں کی گئی ہوں، لیکن ہمیں ایک بات مان کر چلنا ہے کہ جو ہوا، ہمارے بھلے اور بہتری کے لیے ہوا ہوگا، بھلے ہی اس میں ہمیں اپنا نقصان ہی نقصان نظر آ رہا ہو اور ہم کسی بھی صورت میں ہمت نہیں ہاریں گے، بلکہ بہتری کی امید رکھیں گے، کیونکہ دنیا امید پر قائم ہے اور ناامیدی کفر ہے،اور وقت ایک ایسا مرہم ہے جو گہرے سے گہرے زخموں کو بھی بھر دیتا ہے ۔
اب سال 2025 اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے اور بہت جلد ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہونے والا ہے۔ اس کی رخصتی پر ہر سال کی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ مختلف انداز سے جشن منائیں گے اور نئے سال کا استقبال کریں گے۔ لوگ رات رات بھر تک جشن کریں گے، آتش بازیاں ہوں گی، شور و غل ہوگا، ہنگامے ہوں گے۔ ممکن ہے ان کے پاس جشن منانے کی کوئی وجہ ہو، لیکن جہاں تک میرا خیال ہے، یہ وقت جشن منانے کا نہیں بلکہ سوچنے اور سنبھلنے کا وقت ہے۔ اپنا محاسبہ کرنے کا وقت ہے ۔دنیا کی سب سے قیمتی شے کے کھو جانے پر بھلا کون جشن مناتا ہے؟
ذرا غور کیجئے۔ اگر کسی انسان کو پچاس سال کی زندگی عطا ہوئی ہو اور سال گزرنے پر اس کی زندگی کا ایک سال اور کم ہو گیا ، تو کیا وہ شخص اس بات پر خوشی منائے گا کہ اس کی زندگی کا ایک اور سال کم ہو گیا؟ ہرگز نہیں۔بظاہر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک اور سال زندگی کا گزار لیا اور ہماری عمر میں اضافہ ہو گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جتنا وقت گزرتا جاتا ہے، اتنا ہی ہم زندگی سے دور اور موت کے قریب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم اس زاویے سے سوچنا نہیں چاہتے یا پھر سچائی کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ نئے سال کی آمد پر جشن منانے سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں۔ ہر انسان کے لیے یہ حکم ہے’’اپنا محاسبہ کرو، اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لے لیا جائے۔‘‘ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سال کے اختتام پر خود سے سوال کریں کہ ہم نے گزرے ہوئے سال میں کیا کیا؟ اپنا وقت کہاں اور کس حال میں گزارا؟ کیا ہم نے اللہ رب العزت کی فرمانبرداری کی؟اگر کی ہے تو یہ سعادت ہے اور اگر نہیں کی تو ہم سے زیادہ بدنصیب شاید ہی کوئی ہو۔کیا ہم نے اپنے والدین کی اطاعت کی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے اپنے بوڑھے والدین کو ناراض کر دیا ہو؟ اور آج جشن کی تیاری کر رہے ہوں۔ کیا ہم نے کسی کے حق پر ڈاکہ تو نہیں ڈالا؟اگر ایسا ہے تو پھر کیسی خوشی اور کیسا جشن؟
اللہ رب العزت نے ہمیں عہدہ دیا، طاقت دی، اختیار دیا،کیا ہم نے ان نعمتوں کا ناجائز فائدہ تو نہیں اٹھایا؟کیا ہم نبی کریمؐ کے اس فرمان کو بھول تو نہیں گئے کہ:’’تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے، اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے اپنے زیرِنگران لوگوں کو ناحق ستایا ہو، ان کے حقوق سلب کیے ہوں یا کسی بھی طرح ان پر ظلم کیا ہو؟اگر ایسا ہے تو ہمارے لیے جشن کا نہیں بلکہ رونے کا مقام ہے، کیونکہ طاقت، جوانی، دولت، زندگی اور عہدے سب عارضی ہیں۔ یہ سب ہمیں آزمانے کے لیے دیے گئے ہیں اور ان سب کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا۔اس لئےبہتر یہی ہے کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنا محاسبہ کرتے رہیں، اپنے خالق سے معافی مانگیں اور جن لوگوں سے ہماری وجہ سے زیادتی ہوئی ہو، ممکن ہو تو ان سے بھی معافی طلب کریں۔اور پھر نئے سال کے آغاز پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے رب کی نافرمانی نہیں کریں گے، اپنے والدین کو ناراض نہیں کریں گے، کسی کا حق نہیں کھائیں گے، اپنی طاقت اور عہدے کا ناجائز استعمال نہیں کریں گے، خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنائیں گے، لوگوں سے نرمی برتیں گے، رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں گے، ہمسایوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے، اپنے گرد و نواح کے غریب اور مفلوک الحال لوگوں کا خیال رکھیں گے اور اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کریں گے ۔ نئے سال میں نئی امید، جوش، جذبے اور ولولے سے زندگی کے سفر کو آگے بڑھائیں گے ۔ جو ہمارے ساتھ برا ہوا اُسے بج بھول جائیں گے اور آئندہ بہتری کی امید رکھیں گے ۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ ’’ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘ ہم اپنے آپ سے یہ عہد کریں گے کہ وقت ضائع نہیں کریں گے ورنہ وقت گزرتا جائے گا اور ہمارے پاس کفِ افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جائے گا۔
7006738436 رابطہ۔ [email protected]