تجلیات ادراک
ڈاکٹر عریف جامعی
ذکر کے لغوی معنی یاد کرنے، ذہن میں لانے، یاد دہانی یا زبان پر لانے کے ہیں۔ عربی اور اردو میں ذکر کے معنی حوالہ دینے کے بھی ہیں۔ تاہم ذکر اصطلاحی طور پر اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی صفات کے ورد کو کہتے ہیں۔ اس اعتبار سے تہلیل (خدا کی توحید کا بیان)، تکبیر (خدا کی بڑائی کا بیان)، تسبیح (خدا کی پاکیزگی کا بیان)، تقدیس (خدا کی تنزیہ یعنی بزرگی کا بیان)، تحمید (خدا کی نعمتوں کا بیان) اور تمجید (خدا کی عظمتوں کا بیان) ذکر ہی کی مختلف اقسام ہیں۔ اس طرح معلوم ہوا کہ ذکر اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان ہے، جس میں بندہ خدا کو مختلف طریقوں سے یاد کرتا ہے۔
میر سید علی ہمدانی ؒ نے اذکار اور اوراد کے کئی رسالے تصنیف فرمائے۔ ان رسالوں میں اوراد فتحیہ (عربی)، اوراد عصریہ (عربی)، رسالۂ اورادیہ (عربی)، رسالۂ ذکریہ صغیر (عربی) اور رسالۂ ذکریہ (فارسی) قابل ذکر ہیں۔ جہاں تک کشمیر کی مساجد اور خانقاہوں کا تعلق ہے تو یہاں اوراد فتحیہ سب سے زیادہ مقبول رہا ہے۔ یہ اوراد آج بھی فجر کے بعد جہراً پڑھا جاتا ہے۔ اس اوراد نے کشمیر کی توحیدی تشکیل میں بہت بڑا اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ کشمیر کی مرکزی مسجد، جامع مسجد سرینگر کے ساتھ ساتھ یہ اوارد اطراف و اکناف کی مساجد میں بھی پڑھا جاتا رہا ہے۔ تاہم اس وقت ہمارے سامنے رسالۂ ذکریہ (فارسی) ہے۔ واضح رہے کہ یہ رسالہ اذکار کا مجموعہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس یہ رسالہ ذکر کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرتا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ذکر کیوں کیا جائے؟ اس کے ساتھ ساتھ رسالے میں ذکر کے آداب بھی بیان کیے گئے ہیں۔
دراصل ذکر توحید کی مختلف جہات کو ذاکر کے ذہن میں اتار کر اس کے قلب کو روشن کرتا ہے۔ میر سید علی ہمدانی ؒ نے ذکر کے اس پہلو کو زور دیکر بیان فرمایا ہے۔ یہ بات نہایت ہی دلچسپ ہے کہ رسالے کی ابتداء نہ صرف اعلی ادب کا شاہکار ہے، بلکہ یہاں پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور نبیؐ کے ذکر خیر کو فلسفیانہ پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے حمد سے رسالے کی ابتداء کچھ اس طرح کی ہے: ’’حمد و ثنا اس پروردگار کے لئے جس نے انسانی بدن کے درختوں کے باغوں میں ارواح قدسی کے میوؤں کے حقائق کو مرتبۂ کمال تک پہنچایا، اپنے جودوکرم سے موجودات کے درخت سے انسانی وجود کا شگوفہ کھلایا۔‘‘ (ص، ۳۹) یعنی سید ہمدانی ؒنے شروعات میں ہی واضح کردیا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے مخلص بندوں پر اپنی کرم نوازیوں کا مینہ برساتا رہتا ہے۔ نبی ؐ کا ذکر سید ہمدانی ؒ کچھ یوں کرتے ہیں: ’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ ، جو شجر وجود کا ثمرہ ہیں اور جود و سخا کے دریا ہیں۔‘‘(ص، ۳۹) مطلب صاف ظاہر ہے کہ سید ہمدانی ؒ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سید الانبیاء قرار دیتے ہیں، جو قرآن کے بیان کے عین مطابق ہے۔ (الانبیاء، ۱۰۷ و القلم، ۴)
سید ہمدانی ؒ انسان کو تین جماعتوں میں تقسیم کرنے سے قبل انسانی وجود کی مختلف جہات کا یوں ذکر کرتے ہیں: ’’قضا کے پہرہ داروں نے سب کو وجود کا خلعت پہنایا، سر پر عقل کا تاج رکھا اور فہم کا کمر بند باندھا اور نفس کے براق پر سوار کردیا اور زمانہ بعد زمانہ انہیں فوج در فوج اور گروہ در گروہ دنیا کے بازار میں بھیج دیا۔‘‘ (ص، ۴۰) سید ہمدانی ؒ کا انسان کو تین گروہوں میں تقسیم کرنا شاید یہیں سے پھوٹتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس کی اندھا دھند پیروی ہی انسان کو اس نتیجے پر پہنچاتی ہے جہاں وہ اس گروہ میں شامل ہوتا ہے جس کے بارے میں سید ہمدانی ؒ فرماتے ہیں: ’’پہلا گروہ پریشان حال سرکش ظالموں اور بے چارے فریب خوردہ غافلوں کا ہے، جو خیالات کے مسخرے پن اور کھیل ۔۔۔۔۔ سے بازار فنا میں فریفتہ ہوگئے اور اپنے خبیث نفسوں کو ۔۔۔۔۔ تاریک حیوانی گڑھے میں محبوس کردیا۔‘‘ (ص، ۴۱) ظاہر ہے کہ یہ بے لگام نفس کی پیروی کا ہی نتیجہ ہے کہ انسان برائی کی ایسی دلدل میں پھنس جاتا ہے، جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے: ’’اور اگر ہم چاہتے تو (اپنی) آیتوں کے سبب اسے بلند مرتبہ کر دیتے، مگر وہ تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کا تابع ہوگیا، تو اس کا حال کتے کی طرح ہے، تو اس پر سختی کرے تو زبان نکالے اور تو اسے چھوڑ دے تو (بھی) زبان نکالے۔ ‘‘(الاعراف، ۱۷۶) تاہم جب انسان فہم و فراست سے کام لیتا ہے، تو اسے ضرور راہ اعتدال کی طرف رہنمائی ہوتی ہے۔ انسانوں کے اس دوسرے گروہ کا ذکر سید ہمدانی ؒ کچھ اس طرح کرتے ہیں: ’’دوسرا گروہ میانہ رو اور اصحاب یمین کا ہے۔ انہوں نے ہمت کا قدم حیوانی چراگاہ سے دور رکھا اور پاک زندگی اور پاکیزہ نعمتوں ۔۔۔۔۔ کی طلب میں گدلے فانی لذات کو ترک کردیا اور چند روز مصائب اور مشقتوں پر صبر کیا۔‘‘ (ص، ۴۱)
معلوم ہوا کہ انسان اپنے آپ کو نفس امّارہ کے ہوا و ہوس سے نفس لوّامہ کی لگام سے بچاتا ہے۔ اس کے بعد ہی ایسا ممکن ہو پاتا ہے کہ وہ نفس مطمئنہ کے اعلی و ارفع مقام کو پا سکے۔ اس مقام پر فائز انسانوں کے تیسرے گروہ کے بارے میں سید ہمدانی ؒ یوں رقمطراز ہیں: ’’تیسرا گروہ ولایت کی صفوں میں آگے رہنے والے اور بارگاہ عنایت کے مقربوں کا ہے، جنہوں نے ۔۔۔۔۔ عالم ناسوت کی تاریک تنگیوں سے لاہوت کے میدانوں کی فضا میں خیمۂ انس گاڑ دیا اور موہوم ہستی کے پروانہ کو جلال احدیت کی شمع کے انوار پر جلا دیا اور وجود فانی کے ننگ سے آزاد ہوکر حقیقت باقی کے ساتھ پیوست ہوگئے۔‘‘(ص، ۴۲)
میر سید علی ہمدانی ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان سے جس سعادت (یعنی دیدار الہٰی) کا وعدہ فرمایا ہے، اس سے کاملین کے علاوہ باقی سبھی (عام) لوگ بے خبر رہتے ہیں۔ سید ہمدانی ؒ کی یہ رائے حق بہ جانب ہے کیونکہ ’’کچھ چہرے اس (قیامت کے) دن تر و تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے۔‘‘ (القیامہ، ۲۲-۲۳)
تاہم اس سعادت کے حصول کے لئے بندے کے لئے پاک ہونا ضروری ہے۔ اور بندے کو یہ پاکیزگی عطا کرنے والا خدا خود ہوگا، بشرطیکہ بندے نے خدا کے ساتھ باندھے ہوئے عہد و پیمان برابر کیے ہوں: ’’بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسمو ں کے بدلے حقیر معاوضہ لیتے ہیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور ان سے اللہ کلام نہیں کرے گا اور قیامت کے دن ان کی طرف نہ دیکھے گا اور انہیں پاک بھی نہ کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ (آل عمران، ۷۷) سید ہمدانی ؒ کا ماننا ہے کہ آخرت میں اس سعادت کا حصول دنیا میں خدا کی کامل معرفت اور خدا کے ساتھ شدید محبت کے بغیر ممکن نہیں۔ تاہم شدید محبت اور کامل معرفت کی تخم ریزی اسی دل کی زمین میں کی جاسکتی ہے جو پاک صاف ہو، تاکہ اس سے پاکیزہ فکر کا شجر طیبہ اگ سکے: ’’محبت حقیقی معرفت کامل سے پیدا ہوتی ہے اور کمال معرفت کے باغ کے دروازے صرف پاکیزہ فکر سے کھلتے ہیں اور فکر کی پاکیزگی نہیں آتی، مگر پاک دل سے جو دنیاوی مشاغل سے الگ ہوا ہو۔‘‘ (ص، ۴۳) پاکیزگی کی صوفیانہ توضیح کرتے ہوئے سید ہمدانی ؒ لکھتے ہیں: ’’آتش عشق کی حقیقت صرف پاک باطن میں ظاہر ہوتی ہے اور جب تک غیر حق کی محبت دل سے باہر نہیں نکلتی، عشق کا بادشاہ اپنا خیمۂ جلال دل کے صحن میں نہیں گاڑتا۔‘‘(ص، ۴۷) دل کی پاکیزگی کے لئے نبی ؐ ’’موت کو کثرت سے یاد کرنے اور تلاوت قرآن کرنے کا نسخہ تجویز فرمایا ہے۔‘‘ (ص، المشکوۃ المصابیح، ۲۱۷۶)
غیر حق کی محبت دل سے نکلنے کی دیر ہوتی ہے کہ انسان کا دل توحید کی تجلّی سے منور ہوتا ہے۔ مختلف قسم کے اذکار سے انسانی دل کے لئے توحید کی بازیافت کا راستہ ہموار ہوجاتا ہے۔ سید ہمدانی ؒ کے بقول: ’’ارادت سالکوں کا پہلا مقام ہے اور مقامات کی گھاٹیوں کو عبور کرنے کا مقصد توحید کے دریائے زلال پر اترنا ہے، جو طالبوں کی امیدوں کی انتہا ہے ۔۔۔۔۔ توحید صادقین کے سکے کی کسوٹی ہے ۔۔۔۔۔ توحید عارفین کی پیشانیوں کا نور ہے۔‘‘ (ص، ۵۲-۵۳) ظاہر ہے کہ نور توحید کے بغیر انسان اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا اور وہ صراط مستقیم پر کبھی قائم نہیں رہ پائے گا۔ یہ اسی نور کی برکت ہے کہ انسان کو ہر طرح کا امن و امان نصیب ہوتا ہے۔ ایسا نہ ہو تو انسان بے یار و مددگار ہوکر رہ جائے گا۔ قرآن کی رو سے: ’’خاص اللہ کے ہو کر رہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔‘‘(الحج، ۳۱)
دراصل توحید وہ مرکزی حقیقت ہے جو ایمان، اسلام اور احسان کے درمیان ایک قدر مشترک کے طور پر جلوہ افروز ہے۔ توحید کے بغیر دین کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اگر دین حق کو ایک بلند و بالا عمارت تصور کیا جائے، تو توحید اس عمارت کے قائم رہنے کا سبب ہے۔ توحید ہی یقین کا وہ اعلی ترین مقام ہے جہاں انسان ایمان، اسلام اور احسان کی وادیوں کو سر کرکے پہنچ جاتا ہے۔ سید ہمدانی ؒ اس حقیقت کو صوفیانہ انداز میں کچھ اس طرح بیان فرماتے ہیں: ’’اس طاعت (بندگی) کا نام، جو جوارح پر جاری ہوئی، اسلام پڑا۔ اور مبارک آگ، جو دل کے عود دان میں روشن ہوتی ہے، اس کی حقیقت کا نام ایمان ہے اور اس نارِ عنایت کے نور کے رخِ جمال کو دیکھنے اور عبیرِ امانت کی خوشبو سے متاثر ہونے کو احسان کہتے ہیں اور نورِ توحید کے ظہور کی حکمت اور عبیرِ امانت کے راز کی حقیقت جاننے کا نام یقین پڑا ہے۔‘‘ (ص، ۵۸)
کلمۂ توحید کی اس حقیقت اور اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے سید ہمدانی ؒ اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ ’’ارباب بصیرت کے نزدیک پسندیدہ ذکر لا الہ الا اللہ ہے۔‘‘(ص، ۶۰) تاہم ذکر کے آداب بیان کرتے ہوئے آپ ذکرِ جہر کو قرآن، سنت اور عقلی دلائل سے منع قرار دیتے ہیں۔ (ص، ۶۱-۶۴) سید ہمدانی ؒ یہ نصیحت بھی فرماتے ہیں کہ ’’حق تعالیٰ کا نام انکساری اور عاجزی کے بغیر نہ لیا جائے۔۔۔ پوری دل جمعی کے ساتھ اس کی عظمت کے ذکر میں مشغول ہونا اور کوشش کرنا، تاکہ زبان سے ذکر کرتے وقت دل میں حق تعالیٰ کے سوا اور کوئی خیال نہ گزرے۔‘‘(ص، ۶۴)
سید ہمدانی ؒ یہ ہدایت بھی فرماتے ہیں کہ ذاکر اپنی زبان کو جھوٹ اور غیبت سے بچائے اور تمام قسم کے خلاف شرع اعمال سے اجتناب کرے۔ (ص، ۶۴)
واضح ہوا کہ یہ ہدایات ایک طرف ذکر کے لئے شرائط ہیں، لیکن دوسری طرف یہ ذکر کا ماحاصل بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا ذاکر راہِ سلوک کا حقیقی راہرو ہوگا۔ اس لئے سید ہمدانی ؒ ایسے سالک کے لئے طہارت، توبہ، توکل اور انصاف کو ارکان سلوک قرار دیتے ہیں۔ (ص، ۶۴) ایسے طالب حق کے لئے سید ہمدانی ؒ نوافل (نماز اور روزہ)، تہجد، تلاوت قرآن اور ذکرِ خفی کی تلقین کرتے ہیں۔ رسالے کا اختتام ایک خاص دعا (ذکر) سے کیا گیا ہے جسے صبح و شام پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
(مضمون نگار محکمۂ اعلیٰ تعلیم، جموں و کشمیر میں اسلامک اسٹڈیز کے سینئر اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
رابطہ ۔ 9858471965
������������������