جموں//پشو و بھیڑ پالن ، ماہی پروری اور ٹرانسپورٹ کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے کہا ہے کہ ریاست میں لائیو سٹاک بریڈنگ پالیسی کی عمل آوری سے مویشیوں سے تیار ہونے والی مختلف اشیاء کی خود انحصاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔انہوں نے ان باتوں کا اظہار ایک میٹنگ کے دوران لائیو سٹاک بریڈنگ پالیسی اور پولٹری پالیسی کا جائزہ لینے کے دوران کیا۔ سپیشل سیکرٹری انڈسٹْریز اے ایس چب ، ڈائریکٹر پشو پالن جموں ، ڈائریکٹر پشو پالن کشمیر اور کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔ڈاکٹر سامون نے دس لاکھ گائیوں کو مصنوعی تخم ریزی کے دائرے میں لانے کے لئے وقت کا فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ریاست میں مویشیوں کی پیداوار اور پیداواریت میں اضافہ کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ مویشیوں کے شعبے کو فروغ دینے کے لئے مویشیوں کے لئے بہتر طبی سہولیات بہم کرانا لازمی ہے ۔انہوں نے تمام اقسام کے مویشیوں کی بہتری کے لئے لائیو سٹاک بریڈنگ پالیسی کی مؤثر عمل آوری پر بھی زور دیا۔ پرنسپل سیکرٹری نے فیڈنگ مراکز کو بحال کرنے کی ہدایات دیں اور کہا کہ اس کے لئے ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا جانا چاہیئے ۔انہوںنے ریاست میں پولٹری فارمروں سے جڑے کئی دیگر معاملات کا بھی جائزہ لیا۔سپیشل سیکرٹری انڈسٹریز نے انہیں جانکاری دی کہ یہ معاملات پہلے ہی محکمہ خزانہ کے ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔ڈاکٹر سامون نے کہا کہ پالیسیاں مرتب کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پشو و پالن کے شعبے کو ترقی کے راستے پر گامزن کرایا جاسکے اور لوگوں کی سماجی و اقتصادی ترقی بھی ممکن ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ گوشت کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور ہربرس ریاست کو باہر سے پانچ لاکھ بھیڑ درآمد کرنے پڑتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ اس شعبے میں روزگار کے کافی وسائل موجود ہیں اور ریاست کی اقتصادی منظر نامے میں اسے ریڈھ ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔انہوںنے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پیداواریت میں اضافہ کرنے اور زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لئے مویشیوں سائنسی طرز طریقے پر پالا جاسکے ۔