ملک کے سرکردہ مجاہد آزادی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی، صحافی اور دانشور مولانا محمد علی جوہر کی حیات و خدمات پر جتنا لکھا جائے کم ہے۔ لوگوں نے ان پر لکھا بھی ہے۔ لاتعداد مضامین کے علاوہ سیکڑوں کتابیں بھی تصنیف کی جا چکی ہیں۔ کچھ کتابیں عقیدت و محبت سے سرشار ہیں تو کچھ غیر جانبدارانہ انداز لیے ہوئے ہیں۔ شاید ایسی کتابیں کم ہی ہوں جو چشم دید واقعات کی بنیاد پر تحریر کی گئی ہوں۔ لیکن اب ایک ایسی کتاب شائع ہو کر منظر عام پر آگئی ہے جو مولانا کی زندگی کے کچھ خا ص ایام پر ایک کمنٹری ہے۔ یہ کمنٹری ایسی بہت سی باتوں پر روشنی ڈالتی ہے جو تا دم تحریر آنکھوں سے اوجھل تھیں۔ یہ کمنٹری ایک ایسے شخص کی زبانی ہے جو ان کا ہم عمر اور ہم جلیس تو نہیں لیکن جس نے ان کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا۔ جس کو مولانا محمد علی جوہر بطور طالب علم پسند کرتے تھے اور جو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران دہلی میں واقع مولانا کی رہائش گاہ ’’اقبال منزل‘‘ میں مستقل آمد و رفت رکھتا تھا اور مولانا جوہر سے جس کا تعارف اس وقت کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے یہ کہہ کر کرایا تھا کہ ’’یہ ہماری جامعہ کے طالب علم ہیں۔ مرادآباد کے رہنے والے ہیں اور یہ بچپن میں بوڑھے ہو گئے ہیں‘‘۔ میری مراد مولانا محمد عبد الملک جامعی سے ہے۔آگے بڑھنے سے پہلے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’اگر میں اپنے بارے میں کچھ کہوں تو یایہ حقیقت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی حمد و ثنا پر مبنی ہوگا کہ اس نے غیر شعوری طور پر بلکہ غیر شعوری زمانے میں محمد علی کی محبت جو درحقیقت ایک نعمت ثابت ہوئی، عطا فرما کر مجھ پر احسان عظیم کیا۔ اس طرح کہ میری زندگی کے پچاس سال نہیں بلکہ ستاون سال اسی محبت میں گزر گئے۔ 1920 تھا جب مولانا کا شاہانہ جلوس نظر کے سامنے سے گزرا۔ اس کے بعد دوسری چیز جو خوب یاد ہے، وہ بی اماں اور محمد علی کی بجنور تشریف آوری ہے۔ ہم تین میل پیدل چل کر ان کے استقبال کے لیے شہر کے باہر گئے … یہ 1925 کی بات ہے۔ مولانا سے میری وابستگی بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ ان کے محدود ذاتی ذرائع میں بھی اور قومی وملی دائرے میں بھی … 1927 میں مولانا پھر بجنور تشریف لائے تھے۔ 1928 میں وہ سفر میں تھے اور 1929 میں ہم خود دہلی میں فروکش تھے۔ یعنی اتنے مراحل طے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کو آخری سال کے لیے اور آخری آدمی بنانے کے لیے یہاں لانا تھا۔ یہ خدمت اور مصاحبت کا عرصہ تو ایک سال سے زائد نہیں لیکن اس وقت سے آج تک میرا سب سے بڑا موضوع محمد علی کی ذات ہے‘‘۔ گویا مولانا محمد عبد الملک جامعی مولانا محمد علی جوہر کی ذات اور ان کی خدمات کا بچشم خود مشاہدہ کرنے والے آخری آدمی ہیں۔ اب بھلا بتائیے کہ اس شخص نے مولانا کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اسے فرسٹ ہینڈ رپورٹ نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے۔ صرف اتنا نہیں بلکہ مولانا کی وفات کے بعد بھی ان سے ان کا رشتہ اس طرح برقرار رہا کہ وہ تاعمر ان کی اہلیہ اور صاحبزادیوں کے رابطے میں رہے اور ان کی خدمت کرتے رہے۔
انھوں نے مولانا محمد علی جوہر پر سب سے پہلے ایک ڈائری لکھنے کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد مضامین تحریر کیے جانے لگے۔ اس طرح انھوں نے ہزاروں صفحات سیاہ کر دیے لیکن بات تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ تقسیم ملک سے قبل سعودی عرب ہجرت کر گئے اور وہاں بھی وہ مولانا ہی کو سوچتے اور انہی کو لکھتے پڑھتے رہے۔ لیکن ان کے پاس وقت کی کمی اور مشاغل کی زیادتی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنی تحریروں کو کتابی شکل میں شائع نہیں کر سکے۔ شکر ہے کہ ان کے ایک حقیقی بھانجے نے، جو کہ ملک کے ایک نامور صحافی ہیں ان کی منتشر تحریروں کا انتخاب کرکے کتابی صورت میں شائع کر دیا ہے۔ میری مراد معصوم مرادآبادی سے ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ معصوم مرادآبادی کے نانا یعنی عبد الملک جامعی کے والد اور ملک کے مشہور خطاط منشی عبد القیوم خاں نہ صرف یہ کہ مدینہ بجنور سے وابستہ رہے بلکہ انھوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر قرآن کی کتابت کی تھی اور مولانا آزاد انھیں بہت مانتے تھے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کام معصوم مرادآبادی کو ہی کرنا تھا اور انھوں نے اس فرض کی ادائیگی کرکے قوم و ملت کے لیے ایک سرمائے کو محفوظ کر دیا ہے اور دوسری طرف اپنے خاندان کی جانب سے ایک قرض بھی ادا کر دیا ہے۔
حالانکہ مولانا محمد علی جوہر کی سوانح حیات تصنیف کرنے کی ذمہ داری جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ارباب بست و کشاد پر عاید ہوتی تھی لیکن جامعہ نے یہ کام نہیں کیا۔ عبد الملک جامعی کے مطابق ڈاکٹر ذاکر حسین بھی چاہتے تھے کہ جامعہ کی جانب سے مولانا کی سوانح لکھی جائے۔ اس سلسلے میں مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا عبد الماجد دریابادی، قاضی عبد الغفار مرادآبادی، شعیب قریشی، عبد الرحمن صدیقی، مولانا شوکت علی، ڈاکٹر ذاکر حسین اور ڈاکٹر مختار انصاری پر مبنی ایک بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ ہوا لیکن پھر مایوسی چھا گئی۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ہم بڑے خوش تھے کہ اچانک سننے میں آیا کہ اسکیم ملتوی ہو گئی اور فی الحال ایک سادہ سی مختصر کتاب پر قناعت کر لینے کا ارادہ ہے۔ میرے لیے تو یہ خبر سانحہ سے کم نہ تھی۔ استاد گرامی ذاکر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کیا کہ آپ غضب کر رہے ہیں۔ فرمایا کہ ’’اگر آپ مولانا کی ایک مفصل اور مبسوط تاریخ چاہتے ہیں تو وہ پچیس سال پہلے نہیں لکھی جا سکتی۔ کیوں؟ مولانا تھے شمشیر برہنہ، ڈھکی چھپی رکھنا نہیں جانتے تھے۔ برا کہنے پر آگئے تو برملا کہا اور خوب کہا۔ اس وقت ان کے سارے مخالفین زندہ موجود ہیں۔ کتاب لکھی جائے گی تو اس میں سب ہی کچھ لکھا جائے گا۔ جب چھپ کر سامنے آئی گی تو ایک طوفان برپا ہو جائے گا‘‘۔اس دلیل میں کتنی قوت ہے وہ آپ جانیں۔ بہر حال دل پر کٹاری لگی کہ ہائے ہائے‘‘۔ عبد الملک جامعی نے ایک دوسری جگہ ذاکر صاحب کے اس جواب کو سرکاری جواب قرار دیا ہے۔
کتاب میں جو مضامین شال ہیں وہ اپنی نوعیت کے منفرد مضامین ہیں۔ یہ بات عام طور پر سبھی جانتے ہیں کہ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ابوالکلام آزاد کے انداز میں بہت فرق تھا۔ مصنف نے مولانا جوہر کے معاصرین کے باب میں مولانا آزاد کو بھی رکھا ہے۔ اس مضمون کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا کہ مصنف اگر چہ مولانا جوہر سے عقیدت و محبت رکھتے ہیں لیکن وہ نرے عقیدت مند نہیں ہیں کہ مولانا جوہر کی محبت میں سرشار ہو کر مولانا آزاد کے مقام و مرتبے کو گرا دیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’جب مولانا جوہر پچیس برس کے تھے اور مولانا آزاد پندرہ برس کے تو ان کی تقریر پر لڑکا کہہ کر ہی داد دی تھی۔ لیکن صرف پانچ ہی برس بعد آپ دیکھیں تو آسمان صحافت پر یہ شہباز ایسا تیز جا رہا تھا کہ محمد علی کو اس کی گرفت دشوار تھی۔ مولانا آزاد تو میدان خلافت میں محمد علی کا لایا ہوا ہے لیکن عربی طبقہ سب مولانا آزاد کی سحر آفرینی کا مرہون منت ہے … آزاد کو یقین تھا کہ محمد علی ’ہندوستان‘ سے ’مسلمان‘ کی طرف جائے گا۔ ادھر مولانا کو یہ یقین تھا کہ آزاد ’مسلمان‘ سے ’ہندوستان‘ کی طرف لوٹ جائیں گے۔ مگر آزاد کا شرف یہ ہے کہ انھوںنے محمد علی کے بارے میں جب سے زبان بند کی اور یہ بات غالباً 1926-27 کی ہے تو مرتے دم تک ان کے بارے میں کوئی بات کہہ کر ہی نہ دی۔ یہ مولانا کا شرف بھی ہے اور ان کے ضبط کا پیمانہ بھی… ان کے ہاں آدمی کا معیار اتنا بلند ہے کہ اس پر کوئی پورا اترا ہی نہیں۔ میرے خیال میں سی آر داس تنہا خوش قسمت ہیں جن پر ان کے قلم کی جولانیاں خشک ہوئی ہیں ورنہ اقبال تک بھی ان کی داد نہیں پا سکے‘‘۔ اس طرح محمد عبد الملک جامعی نے مولانا جوہر کے حوالے سے مولانا آزاد پر اتنی گہری بات کہہ دی ہے کہ شاید کوئی دوسرا اتنی آسانی سے نہیں کہہ سکتا۔ ان کے مضمون کا یہ پورا حصہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
آخر میں آخری بات کے زیر عنوان مولانا جوہر کی بیٹی گلنار بی بی کی شادی کے تقریب کے موقع پر پیش آنے والے واقعے کے بارے میں ان کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں: ’’جب مغرب کی نماز شروع ہوئی تو گھر بہر حال شادی کا گھر تھا۔ اذان ہوئی، جماعت کھڑی ہوئی۔ اکثر لوگ شامل ہوئے مگر سناٹا تو نہیں تھا۔ امام نے قرأت شروع کی۔ شور باقی تھا۔ رکوع میں گیا تو مولانا نے خاص طور پر تکبیر کہی اللہ اکبر۔ رکوع سے اٹھے تو اس سے زیادہ زور سے اور پھر سجدے میں گئے تو اس سے زیادہ۔ تاکہ کام کرنے والے نماز میں شامل ہوں یا کم از کم شور کم کریں۔ تین رکعت کی نماز تھی۔ پندرہ تکبیریں ہوتی ہیں۔ بس یہی آخری آواز جو آج تک کانوں میں گونج رہی ہے اور اس بات کے کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہی آخری بات تھی۔ السلام علیکم‘‘۔کتاب انتہائی دلچسپ ہے اور اس کا بیانیہ بہت پرکشش ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم کسی کی سوانح نہیں بلکہ کہانی پڑھ رہے ہیں۔ اس میں کتاب کے مرتب معصوم مرادآبادی نے کچھ نادر و نایاب تصاویر اور خطوط بھی شامل کیے ہیں۔ اگر کوئی شخص تاریخ ملت اسلامیہ اور مولانا جوہر سے ذرا بھی دلچسپی رکھتا ہے تو اسے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔کتاب کے لیے رابطے کا نمبر: 9810780563
)رابطہ۔981819592)