فکر انگیز
جی کیو کامران
زمین پر جنت کہلانے والی وادی کشمیر اس وقت شدید موسمیاتی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ حال ہی میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایس کے ای سی سی (SKICC) میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران موجودہ موسمیاتی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں درجہ حرارت میں قبل از وقت اضافہ روایتی موسمیاتی سائیکل کو تیزی سے متاثر کر رہا ہے انھوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے پیڑوں میں شگوفے قبل از وقت پھوٹ پڑے ہیں اور ایشیا کا سب سے بڑا ٹولپ گارڈن جو عام طور پر اپریل میں سیاحوں کے لیے کھولا جاتا تھا، اس سال پھولوں کی قبل از وقت کھلنے کے باعث مارچ کے وسطہ میں ہی کھولنا پڑا۔صدیوں سے یہ خطہ فطرت کے ساتھ ایک نازک توازن برقرار رکھے ہوئے تھا۔ لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ، برفباری اور بارشوں میں نمایاں کمی، اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل نے نہ صرف یہاں کے ماحولیاتی نظام کو درہم برہم کیا ہے بلکہ زرعی شعبے کے بقا پر بھی سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔
مرکزی محکمہ موسمیات کی تازہ رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر کو مسلسل ساتویں بار غیر معمولی خشک سالی اور بارشوں و برفباری میں مجموعی طور پر 65 فیصد تشویشناک کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رواں برس مارچ کے اوائل میں ہی گرمی کی شدت نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے اور درجہ حرارت معمول سے 10 تا 12 ڈگری سیلسیس تک تجاوز کر گیا۔ اسی موسمیاتی بگاڑ کے باعث سری نگر میں فروری کا تاریخ ساز گرم ترین دن 21 فروری 2026 کو ریکارڈ کیا گیا، جب پارہ 21.0 ڈگری تک جا پہنچا، بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC) کی رپورٹ کے مطابق کشمیر کے ہمالیائی سلسلے عالمی اوسط کے مقابلے میں تیزی سے گرم ہو رہے ہیں۔جس سے یہاں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار تیز اور برف باری کے تناسب میں تشویشناک حد تک کمی آگئی ہے۔ خطے کو اب نہ صرف طویل خشک سالی بلکہ شدید لو (Heatwaves) جیسے واقعات کا بھی سامنا ہے، جو یہاں کے نازک ماحولیاتی نظام کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
ناسا(NASA) کے سٹیلائٹ مشاہدات اور تجزیوں نے واضح کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی انسانی مداخلت کے باعث وادی کے آبی ذخائر تیزی سے سکڑ رہے ہیں اسکے علاوہ ہوا کے معیار میں تشویشناک حد تک ابتری آرہی ہے۔اسی تناظر میں انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (ICIMOD) کی رپورٹ کے مطابق کشمیر سمیت ہندوکش ہمالیہ کا خطہ عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے موسمیاتی بگاڑ کے باعث آنے والی ان تبدیلیوں سے نہ صرف دریا بلکہ زیر زمین پانی کے قدرتی چشمے بھی خشک ہورہے ہیں جس سے زرعی سرگرمیوں کے علاوہ قدرتی ماحول بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ خطے کا حیاتیاتی تنوع Biodiversity کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا ہو رہے ہیں۔
کشمیر کا کولاہوئی گلیشیئر، جو کبھی منجمد برف کی ایک عظیم الشان علامت تھا موسمیاتی تبدیلی کی زد میں آکر گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ہولناک حد تک سکڑ چکا ہے۔ ناسا (NASA)کے خلائی مشاہدات کے مطابق یہ گلیشیر ہر سال 15 میٹر کی رفتار سے پگھل رہا ہے ہزاروں سال پرانی برف کے ذخائر اب تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہاں گلیشیائی جھیلیں بن رہی ہیں اور پہاڑوں کی قدرتی ہیئت ننگی چٹانوں میں تبدیل ہو رہی ہے۔کشمیر میں موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی تپش نے یہاں کے قدیم زرعی اور ماحولیاتی توازن کو درہم برہم کر دیا ہے۔ وقت سے پہلے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے نہ صرف کاشتکاری کے روایتی موسموں میں خلل ڈالا ہے بلکہ برف کے ذخائر میں کمی کر کے پانی کی قلت کے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے وادی کے باغات میں قدرت کا نظام بدلتا دکھائی دے رہا ہے بادام کے بعد اب خوبانی اور آلوبخارا کے درختوں پر بھی شگوفے معمول سے کہیں پہلے نمودار ہو گئے ہیں، جس نے کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق، جو شگوفے مارچ کے اواخر میں پھوٹتے تھے، ان کا قبل از وقت نمودار ہونا موسمیاتی عدم توازن کی علامت ہے۔ اگر اب درجہ حرارت میں اچانک کمی یا سردی کی لہر آتی ہے، تو یہ نازک شگوفے بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے میوہ جات کی مجموعی پیداوار کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
کشمیر کی زرعی معیشت کا اہم ستون اور یہاں کی شناخت، ‘زعفران کی کاشت بھی اس وقت طویل خشک سالی اور موسمیاتی تغیر کے بے رحم تھپیڑوں کی زد میں ہے۔ پلوامہ اور بڈگام کے کسان جو زعفران کی کاشت سے وابستہ ہیں کا کہنا ہے کہ طویل خشک سالی نے زمین کا سینہ چاک کر دیا ہے، اور رہی سہی کسر کو بے وقت اور شدید بارشیں پوری کر دیتی ہیں جو بچی کھچی فصل کو بھی بہا لے جاتی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار اس المیے کی گواہی دے رہے ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں میں زعفران کی پیداوار میں 65 فیصد کی ہولناک کمی واقع ہوئی ہے۔ 1990 میں جو پیداوار 15.95 ٹن تھی، وہ اب سکڑ کر محض 2.6 ٹن رہ گئی ہے۔ اسی طرح، زعفران کا زیرِ کاشت رقبہ بھی 5707 ہیکٹر سے گھٹ کر صرف 2387 ہیکٹر رہ گیا ہے، جو اس قدیم تہذیبی فصل کے مٹنے کا ایک سنگین اشارہ ہے۔
کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے سیب کے باغات بھی اب بدلتے موسم کی بے رحمی کے شکار ہو رہے ہیں موسم سرما میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی وجہ سے سیب کے درختوں کو مطلوبہ سرد درجہ حرارت کے اوقات (Chilling Hours) میسر نہیں ہو پا رہے ہیں جس کی وجہ سے شگوفے کم اور غیر ہموار طریقے سے پھوٹتے ہیں۔کہیں خشک سالی تو کہیں ژالہ باری کی زد میں آکر فصل کی پیداوار اور معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے اسکے علاوہ گرمی کی لہروں نے نہ صرف درختوں کے صحت بلکہ پھلوں کے معیار اور پیداوار کو بھی گرا دیا ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی تپش کے سائے اب کشمیر کی بنیادی فصلوں اور سبزیوں پر بھی گہرے ہونے لگے ہیں۔ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت نے نہ صرف بیجوں کے اگاؤ (Germination) کو مشکل بنا دیا ہے بلکہ مجموعی پیداوار میں بھی نمایاں گراوٹ پیدا کی ہے۔ فصلوں کی بڑھوتری کے اہم مراحل پر درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اور مٹی میں نمی کی کمی (Moisture Stress) براہِ راست پیداواری صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے۔ اس ماحولیاتی بگاڑ کے نتیجے میں ہوا میں نمی اور تپش کا ایسا تناسب پیدا ہوا ہے جس سے کیڑے مکوڑوں (جیسے ایفیڈز اور مائٹس) اور مہلک بیماریوں (جیسے الٹرنیریہ اور بلائٹ) کے حملوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جو کسانوں کی سال بھر کی محنت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن گیا ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی کے رکن اور ماحولیاتی امور کی کمیٹی کے چیئرمین محمد یوسف تاریگامی نے خطے کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی منظرنامے کو ایک بڑا ترقیاتی چیلنج قرار دیتے ہوئے علیحدہ ‘موسمیاتی بجٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کی پائیدار ترقی کا دارومدار یہاں کے ماحولیاتی تحفظ پر ہے، جو اس وقت شدید خطرات کی زد میں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محض روایتی اقدامات کے بجائے موسمیاتی مطابقت (Climate Adaptation) کے لیے ٹھوس پالیسیاں وضع کی جائیں اور اس مقصد کے لیے بجٹ میں باضابطہ فریم ورک فراہم کیا جائے۔
طویل خشک سالی اور بڑھتی ہوئی تپش کی وجہ سے وادی کے جنگلوں میں آگ کے واردات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان حادثات کی وجہ سے جہاں ایک طرف قیمتی عمارتی لکڑی اور نباتات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، وہیں دوسری طرف جنگلی حیات کی بقا بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ‘سبز سونے کی یہ بربادی خطے کے ماحولیاتی نظام (Ecosystem) کو تباہ کر رہی ہے۔
عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں پر کانفرنسیں اور مباحثے اپنی جگہ، لیکن اب وقت ‘عالمی سطح پر سوچنے اور مقامی سطح پر عمل کرنے ( Think Globally, Act Locally) کا ہے۔ کشمیر کے تناظر میں، یہ بحران ایک ایسی کثیر الجہتی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے جو ہمارے ماحولیاتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اس حوالے سے زرعی یونیورسٹی کشمیر (SKUAST) کی حالیہ ہدایات کلیدی اہمیت کی حامل ہیں، جن میں زمین کے اندر نمی کو برقرار رکھنے کے لیے نامیاتی ملچنگ (Organic Mulching)، آبپاشی کے لیے ڈرپ سسٹم اور تپش سے بچاؤ کی تدابیر شامل ہیں۔ کسانوں کے لیے ان سائنسی طریقوں کو اپنانا اب انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن گیا ہے
بقا کی اس جنگ میں ہمیں قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری، جنگلات کا آہنی تحفظ، اور فضلہ بردگی (Waste Management) کے پائیدار نظام کو اپنی طرزِ زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ کلیدی اقدامات کے طور پر، عوامی اشتراک سے شجرکاری، آبی ذخائر کی بحالی اور ماحولیاتی قوانین کا سختی سے نفاذ ناگزیر ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اب محض ایک سائنسی بحث نہیں بلکہ ایک عالمی حقیقت ہے، جس سے نمٹنے کے لیے انفرادی اور مقامی سطح پر اٹھایا گیا ہر قدم اہمیت رکھتا ہے۔ آئیے، اپنی زمین کو ناقابلِ تلافی نقصان سے بچانے اور زندگی کی بقا کے لیے ایک سازگار ماحول کی فراہمی میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔