فکرو فہم
منظور الٰہی
منشیات ایک ایسی مہلک لعنت ہے جس نے آج پوری دنیا کی طرح جموں و کشمیر کے سماج کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ زہر نہ صرف انسان کی صحت، عقل، کردار اور شعور کو تباہ کرتا ہے بلکہ خاندانوں کی خوشیاں چھین کر پورے معاشرے کو اندھیروں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ نشہ آور اشیاء نوجوان نسل کے خوابوں، صلاحیتوں اور روشن مستقبل کو برباد کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں جرائم، بے راہ روی، گھریلو انتشار اور معاشرتی بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک صحت مند اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد باشعور، تعلیم یافتہ اور باکردار نوجوانوں پر قائم ہوتی ہے، لیکن منشیات کا ناسور اس بنیاد کو کمزور کرنے کی خطرناک کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کے خلاف سخت، منظم اور مؤثر اقدامات وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکے ہیں۔حکومت، انتظامیہ، علما، اساتذہ، والدین اور سماج کے ہر فرد کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل کو اس تباہ کن لعنت سے بچانے کے لیے آگے آئیں اور اجتماعی سطح پر اس ناسور کے خلاف جدوجہد کریں۔ اسی مقصد کے تحت لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں جموں و کشمیر انتظامیہ نے 11 اپریل 2026ء کو’’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے تحت 100 روزہ خصوصی مہم کا آغاز کیا، جس کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنا اور نوجوان نسل کو تباہی کے راستے سے محفوظ رکھنا ہے۔ اس خصوصی مہم کے تحت جموں و کشمیر پولیس، سول انتظامیہ، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، ٹریفک حکام اور دیگر متعلقہ ادارے مربوط انداز میں مسلسل کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ ایک طرف منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے تو دوسری جانب عوامی بیداری پروگرام، تعلیمی مہمات، سیمینارز اور سماجی شعور اجاگر کرنے کی کوششیں بھی بھرپور انداز میں جاری ہیں تاکہ ایک صحت مند، محفوظ اور باوقار معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں شروع کی گئی اس مہم نے ابتدائی دنوں میں ہی نمایاں نتائج دے کر اس عزم کو مزید مضبوط کیا ہے کہ جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک معاشرہ بنایا جائے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مہم کے ابتدائی صرف 22 دنوں کے دوران جموں و کشمیر پولیس نے منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف زبردست کارروائیاں کرتے ہوئے 481 ایف آئی آر درج کیں جبکہ 518 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ان کارروائیوں کو حالیہ برسوں میں منشیات کے خلاف سب سے بڑی اور منظم مہم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد صرف منشیات فروشوں کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ اس پورے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے جو نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
انتظامیہ نے اس مہم کے دوران منشیات کے کاروبار سے حاصل ہونے والی ناجائز کمائی کے خلاف بھی سخت کارروائی کی۔ حکام کے مطابق 24 ایسی غیر قانونی جائیدادوں، عمارتوں اور تعمیرات کو ضبط یا منہدم کیا گیا جو منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار سے حاصل شدہ رقم سے تعمیر کی گئی تھیں۔ ان ضبط شدہ اثاثوں کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام منشیات فروشوں کے مالی ڈھانچے کو کمزور کرنے اور جرم سے حاصل ہونے والے سرمائے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔اسی طرح ٹریفک اور ٹرانسپورٹ نظام میں بھی سخت نگرانی دیکھنے کو ملی۔ انتظامیہ نے 300 سے زائد ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے جبکہ 325 گاڑیوں کی رجسٹریشن بھی رد کر دی گئی کیونکہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ان گاڑیوں کو منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ حکام کا واضح کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی اپنائی گئی ہے اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
محکمہ صحت اور ڈرگ کنٹرول حکام نے وادی اور جموں کے مختلف اضلاع میں تقریباً 3000 میڈیکل اسٹوروں کا معائنہ بھی کیا تاکہ نشہ آور ادویات کی غیر قانونی فروخت کو روکا جا سکے۔ جانچ کے دوران قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر 107 فارمیسی لائسنس معطل کیے گئے۔ حکام نے واضح کیا کہ میڈیکل شعبے میں غیر قانونی طور پر نشہ آور ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف مستقبل میں مزید سخت کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ جموں و کشمیر پولیس نے مختلف اضلاع میں کئی بڑی کامیاب کارروائیاں بھی انجام دیں جن کے دوران بھاری مقدار میں کوڈین، چرس، ہیروئن اور دیگر نشہ آور اشیاء برآمد کی گئیں۔ متعدد مقامات پر پوست اور دیگر نشہ آور فصلوں کی غیر قانونی کاشت کو تباہ کیا گیا تاکہ منشیات کے پورے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی اور منشیات فروشوں کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ سماجی ماہرین اور عوامی حلقوں نے اس مہم کو ایک مثبت، بروقت اور قابلِ ستائش قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اگر اسی عزم اور شدت کے ساتھ کارروائیاں جاری رہیں تو جموں و کشمیر کی نوجوان نسل کو منشیات کے اندھیروں سے نکال کر ایک محفوظ اور روشن مستقبل فراہم کیا جا سکتا ہے۔ عوامی حلقوں نے والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں پر بھی زور دیا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نوجوانوں میں بیداری پیدا کریں تاکہ معاشرے کو اس خطرناک لعنت سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔ افسوسناک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس مہلک لعنت کا سب سے زیادہ شکار ہماری نوجوان نسل بن رہی ہے، جو کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل سمجھی جاتی ہے۔ آج بے شمار نوجوان وقتی لذت، غلط صحبت اور سماجی برائیوں کے باعث منشیات کے جال میں پھنس کر اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں۔ یہ زہر نہ صرف ایک فرد کی صحت، سوچ اور کردار کو تباہ کرتا ہے بلکہ اس کے پورے خاندان کو ذہنی، معاشی اور سماجی پریشانیوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ایک نشے کا عادی شخص رفتہ رفتہ اپنے والدین کی امیدیں، اپنے بچوں کا مستقبل اور معاشرے کا سکون چھین لیتا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں جاری 100 روزہ “نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان” ایک مثبت، بروقت اور قابلِ ستائش قدم ہے، جس کا مقصد نوجوان نسل کو تباہی کے راستے سے بچانا اور معاشرے کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دینا ہے۔ اگر اسی جذبے، سخت کارروائیوں اور عوامی تعاون کے ساتھ یہ مہم جاری رہی تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب ہمارا معاشرہ منشیات جیسی مہلک بیماری سے پاک ہو کر امن، خوشحالی اور روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوگا۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں اگر کتاب، قلم اور ہنر ہوگا تو ہمارا کل بھی محفوظ ہوگا اور ہمارا سماج بھی ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہوگا۔