فہم و فراست
مجتبیٰ شجاعی
کشمیر کی وادی کو صدیوں سے حسن، روحانیت اور تہذیبی شائستگی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، مگر آج اسی وادی کے سینے میں ایک ایسا ناسور پل رہا ہے جو خاموشی کے ساتھ ہماری نسلوں کو چاٹ رہا ہے۔ یہ ناسور منشیات کا ہےایک ایسا زہر جو بندوق کی گولی کی طرح فوری آواز نہیں کرتا، مگر اس کی ہلاکت خیزی کہیں زیادہ دیرپا اور گہری ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس تباہی کا نشانہ وہ نوجوان ہیں جن کے کندھوں پر کل کی امید رکھی جاتی ہے۔گزشتہ چند عرصے سے وادی کے مختلف علاقوں سے جو خبریں اور مشاہدات سامنے آئے ہیں، وہ کسی بھی حساس دل کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں۔ نشہ آور اشیاء کی بڑھتی ہوئی دستیابی، کم عمر لڑکوں کا اس لت میں مبتلا ہونا، اور بحالی مراکز کا مسلسل بھرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مسئلہ اب سطحی نہیں رہا بلکہ جڑ پکڑ چکا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق لاکھوں افراد اس دائرے میں آچکے ہیں، اور افسوسناک طور پر ان میں ایک بڑی تعداد نو عمر بچوں کی بھی ہے۔ یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں بلکہ ہر ہندسہ ایک ٹوٹے ہوئے گھر، ایک بے بس ماں اور ایک برباد مستقبل کی کہانی سناتا ہے۔
اس صورتحال کے پس منظر میں اگر جھانکا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ بے روزگاری، ذہنی دباو ، معاشی غیر یقینی اور سماجی بے چینی نے نوجوانوں کو ایک ایسی کیفیت میں دھکیل دیا ہے جہاں وہ وقتی سکون کے لیے نشے کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گھریلو سطح پر والدین کی مصروفیات، بچوں سے جذباتی فاصلے، اور ان کی سرگرمیوں پر نظر نہ رکھنا بھی ایک اہم سبب ہے۔ جب گھر کے اندر رہنمائی کا خلا پیدا ہوتا ہے تو باہر کا ماحول اسے فوراً پُر کر دیتا ہےچاہے وہ ماحول کتنا ہی تباہ کن کیوں نہ ہو۔
تعلیمی ادارے، جو کسی بھی معاشرے کی فکری بنیاد ہوتے ہیں، اس معاملے میں اپنا مکمل کردار ادا کرتے نظر نہیں آتے۔ اگر تعلیم صرف نصاب اور امتحان تک محدود ہو جائے اور طلبہ کی ذہنی و اخلاقی تربیت کو نظر انداز کیا جائے تو ایسے ادارے معاشرے کو باشعور انسان دینے کے بجائے محض ڈگری ہولڈر پیدا کرتے ہیں۔ اساتذہ کا کردار صرف پڑھانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں طلبہ کے رویوں، ان کے مسائل اور ان کی صحبت پر بھی گہری نظر رکھنی ہوگی۔دوسری طرف منشیات کی اسمگلنگ ایک منظم اور خطرناک کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ کوئی انفرادی جرم نہیں بلکہ ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو شعوری طور پر ہماری نوجوان نسل کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایسے عناصر صرف قانون کے مجرم نہیں بلکہ سماج کے دشمن ہیں، اور ان کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی نرمی دراصل آنے والے کل کے ساتھ ناانصافی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کے خلاف کئی کارروائیاں کی ہیں، گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں اور بڑی مقدار میں منشیات ضبط کی گئی ہے۔ یہ اقدامات یقیناً قابلِ تعریف ہیں، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ابھی اس جنگ کو جیتنے کے لیے مزید مستقل مزاجی، سختی اور شفافیت کی ضرورت ہے۔ جہاں حوصلہ افزائی ضروری ہے، وہیں کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔منشیات کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک نوجوان جب اس لت میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی صحت کھو دیتا ہے بلکہ اپنی شناخت، اپنی صلاحیت اور اپنے رشتے بھی کھو بیٹھتا ہے۔ کئی گھروں میں والدین زندہ ہوتے ہیں مگر ان کا بیٹا ان کے لیے اجنبی بن چکا ہوتا ہے۔ معاشرہ ایسے افراد کو یا تو نظر انداز کر دیتا ہے یا مکمل طور پر مسترد، جس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
اس صورتحال میں سب سے زیادہ مؤثر کردار سماج کا ہی ہو سکتا ہے۔ اگر معاشرہ اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کر لے کہ وہ منشیات کے کاروبار سے جڑے افراد کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا، تو یہ ایک مضبوط پیغام ہوگا۔ سماجی بائیکاٹ ایک ایسا دباؤ پیدا کرتا ہے جو کئی بار قانون سے بھی زیادہ کارگر ثابت ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ نشے کے عادی افراد کو مکمل طور پر تنہا نہ چھوڑا جائے بلکہ انہیں بحالی اور واپسی کا موقع دیا جائے، کیونکہ اصلاح کا دروازہ بند کرنا مسئلے کو حل نہیں بلکہ مزید سنگین بناتا ہے۔
قانونی سطح پر بھی سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ منشیات کے بڑے اسمگلروں کے لیے سخت سزائیں، ان کے مالی ذرائع کا خاتمہ اور ان کی جائیداد کی ضبطی جیسے اقدامات نہایت ضروری ہیں۔ یہ صرف سزا کا معاملہ نہیں بلکہ ایک واضح پیغام دینے کا مرحلہ ہے کہ معاشرہ اس جرم کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔اس پورے منظرنامے میں علمائے دین کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کشمیر جیسے مذہبی معاشرے میں مسجد کا منبر ایک طاقتور پلیٹ فارم ہے۔ اگر جمعہ کے خطبات میں مسلسل اور مؤثر انداز میں منشیات کے خلاف آواز بلند کی جائے، اس کے دینی، اخلاقی اور معاشرتی نقصانات کو اجاگر کیا جائے، تو یہ پیغام گھروں تک پہنچ سکتا ہے اور دلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہ محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور دینی امتحان بھی ہے۔آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا ہم اس خطرے کو واقعی سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار ہیں یا اسے بھی دیگر مسائل کی طرح وقتی بحث سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ منشیات کا یہ زہر اگر اسی طرح پھیلتا رہا تو یہ ہماری آئندہ نسلوں کو اس حد تک متاثر کرے گا کہ واپسی کا راستہ مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ جاگیں، اپنے اپنے دائرے میں ذمہ داری قبول کریں اور اس ناسور کے خلاف ایک متحد اور سنجیدہ جدوجہد کا آغاز کریں۔کیونکہ بعض جنگیں ایسی ہوتی ہیں جن میں خاموشی بھی شکست کے برابر ہوتی ہے۔