سنجیدہ سوال
تجمل قادری
ہر ملک اور ہر ریاست میں حکومت بنانے سے قبل سیاسی جماعتیں اپنا انتخابی منشور عوام کے سامنے رکھتی ہیں۔ ان منشوروں میں ایسے وعدے شامل کیے جاتے ہیں جو بظاہر وقت کی ضرورت بھی ہوتے ہیں اور عوامی جذبات کو بھی گہرائی سے اپیل کرتے ہیں۔ مقصد یہی ہوتا ہے کہ عوام کے دلوں میں امید جگائی جائے، ان کا اعتماد حاصل کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ ووٹ لے کر اقتدار تک پہنچا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ منشور میں اکثر ایسے اعلانات کیے جاتے ہیں جو سننے میں خوش کن اور دل کو لبھانے والے ہوتے ہیں۔جموں و کشمیر میں بھی ہر انتخاب کے موقع پر یہی روایت بار بار دہرائی جاتی ہے۔ سال 2024 میں حکومت سازی کی کوششوں کے دوران نیشنل کانفرنس نے بھی اپنا انتخابی منشور پیش کیا، جس میں عوام سے کئی بڑے بڑے وعدے کیے گئے۔ ان وعدوں میں سب سے زیادہ توجہ خواتین کے لیے مفت بس سروس کے اعلان نے حاصل کی۔ اس وعدے کو خواتین کی سہولت، ان کی خود مختاری اور روزمرہ سفر کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے نام پر پیش کیا گیا، جس نے خاص طور پر خواتین کے دلوں میں امید پیدا کی۔
اپریل 2025 میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت نے باضابطہ اعلان کیا کہ آر ٹی سی اور اسمارٹ سٹی بسوں میں سفر کرنے والی خواتین سے کوئی کرایہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ ابتدا میں یہ سہولت محدود دائرے میں نافذ کی گئی، مگر بعد میں آہستہ آہستہ پورے جموں و کشمیر میں تمام خواتین کے لیے اس کا اطلاق کر دیا گیا۔ اس اعلان کے بعد عوامی سطح پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور بڑی تعداد میں خواتین نے اس سہولت سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔
یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں کہ مفت بس سروس نے خواتین کو فوری راحت فراہم کی ہے۔ طالبات ہوں، گھریلو خواتین ہوں یا کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والی محنت کش عورتیں، سب کے لیے یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہیں رہی۔ روزانہ کے سفر پر آنے والے اخراجات کم ہوئے، مشکلات میں کسی حد تک کمی آئی اور زندگی کچھ آسان محسوس ہونے لگی۔ مگر اسی خوشی کے ساتھ ایک سنجیدہ اور تلخ سوال بھی جنم لیتا ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق اس مفت بس سروس پر حکومت کو ہر ماہ کم از کم دو کروڑ روپے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔
یہاں رُک کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ خطیر رقم اسی طرح خرچ ہونی چاہیے یا اسے کسی زیادہ اہم اور بنیادی شعبے میں لگایا جا سکتا ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ حکومت اس سوال پر کھل کر بات کرتی ہے اور نہ ہی عوام اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔ وقتی خوشی اپنی جگہ، مگر پالیسی بناتے وقت صرف آج نہیں بلکہ آنے والے کل کو بھی سامنے رکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔اگر یہی رقم تعلیم کے شعبے پر خرچ کی جاتی تو اس کے نتائج کہیں زیادہ مثبت، مضبوط اور دیرپا ہو سکتے تھے۔ آج جموں و کشمیر کے کئی سرکاری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ کہیں اساتذہ کی کمی ہے تو کہیں اسکول کی عمارتیں خستہ حال ہیں۔ بہت سے اداروں میں نہ لائبریری موجود ہے، نہ لیبارٹری اور نہ ہی جدید تعلیمی وسائل۔ ایسے حالات میں معیاری تعلیم کا خواب صرف ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی اصل بنیاد ہوتی ہے۔ اگر کروڑوں روپے اسکولوں کی بہتری، نئے اساتذہ کی بھرتی، بہتر کلاس رومز اور غریب و مستحق بچوں کے لیے اسکالرشپس پر خرچ کیے جائیں تو اس کا فائدہ صرف آج تک محدود نہیں رہتا بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے مستفید ہوتی ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان بہتر روزگار حاصل کر کے اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا ہے اور اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ معاشرے کی مجموعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
مفت بس سروس بلاشبہ ایک وقتی سہولت ہے، مگر یہ مستقل حل نہیں۔ اس کے برعکس تعلیم انسان کو خوددار بناتی ہے، اسے محتاج نہیں بلکہ باوقار زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔ بہتر تعلیم لوگوں کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جہاں وہ خود اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں، جن میں سفر کے اخراجات بھی شامل ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری صرف سہولتیں فراہم کرنا نہیں بلکہ مضبوط بنیادیں رکھنا بھی ہے۔ اگر عوامی سہولتوں کے ساتھ ساتھ بنیادی شعبوں، خصوصاً تعلیم، کو حقیقی ترجیح دی جائے تو جموں و کشمیر کا مستقبل زیادہ مضبوط، روشن اور خود کفیل بن سکتا ہے۔ یہ فیصلہ آج ہوگا تو اس کے اثرات آنے والی نسلیں محسوس کریں گی۔