مفتی شیخ نعمان
دین اسلام اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانیت کے لیے آخری اور مکمل دین ہے۔قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت کے لیے آخری کتاب ہدایت ہے۔اس کتاب ہدایت کے لیے اللہ تعالی سورۃ البقر ہ آیت۲،۳میں فرماتا ہے کہ:’’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک وشبہے کی گنجائش نہیں‘‘۔
اس کتاب ہدایت میں جس طرح صحابۂ کرامؓ کے لیے ہدایت کا سامان تھا ،اسی طرح آج کے انسان کے لیے بھی ہدایت کا سامان موجود ہے۔اس کی آیات کے معانی میں غور وفکر کرکے جس طرح ابتدائی زمانے کے لوگ کہہ اٹھتے تھے کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے، اسی طرح آج کا تعلیم یافتہ،تحقیق پرست انسان بھی جب قرآن کی آیات میں غور و فکر کرتا ہے تو یہ کہہ اٹھتا ہے کہ یہ اللہ کے کلام ہی کی شان ہے کہ اس کے الفاظ و معانی آج کی جدید تحقیقات کے لیے بھی تر و تازہ ہیں۔
اللہ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے:سورۃ البقرہ کی آیت 276ایسی ہی آیات میں سے ایک ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے سودی معاملات اور صدقات کے بارے میں فرمایا ہےکہ سودجس کے لغوی معنیٰ ہیں بڑھنا اور بظاہر گنتی میں سود بڑھتا ہوا نظر بھی آتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سود کومیں کم کرتا ہوں اور دوسری جانب صدقات میں مال خرچ ہوتا ہےاور مال کم ہوتا ہوا نظر آتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ اسے میں بڑھاتا ہوں۔
یہ وہ صورت حال ہے کہ ہم قرآن پر ایمان رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ بالکل جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے تو یہ بات ہی ٹھیک ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے، چاہے ہمیں بظاہر سود کے ذریعے مال میں اضافہ نظر آئے اور صدقات سے مال کم ہوتا ہوا نظر آئے، لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ جب قرآن نے کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ سود کو کم کرتا ہے تو سود کم ہی ہوگا اور صدقہ بڑھاتے ہیں تو صدقہ بڑھے ہی گا ،یہ ہم قرآن پر ایمان کی وجہ سے مانتے چلے آتے ہیں، لیکن جدید معاشی نظریات کا مطا لعہ کریں تو اس قرآنی نظریے کی وضاحت کرتے نظر آتے ہیں۔ توآئیے جدید معاشی نظریات کی روشنی میں اس قرآنی دعوے کی وضاحت دیکھتے ہیں۔
جدید معاشی نظریہ برائے کساد بازاری:
1930 کی دہائی میںعالمی کساد بازاری نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیاتھا،اس کساد بازاری سے معیشت کو نکالنے کے لیے مختلف ماہرین نے لائحۂ عمل پیش کیا، لیکن ان میں جان لارڈ کینز کے نظریات کو زیادہ پذیرائی ملی۔انہوں نے معیشت کو کساد بازاری سے نکالنے کے لیے جو حل پیش کیا، اس کا حاصل یہ تھا کہ اگر ہم معیشت سے کساد بازاری ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں صارفین کی جانب سے اشیاء و خدمات کی طلب کو بڑھانا ہوگا، اس کے لیے حکومتوں کو منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔اس نظریے کے آنے کے بعد ہی معیشت کو کنٹرول کرنے اور مستحکم کرنے کے لیے مالیاتی پالیسی اور زری پالیسی کے نام سے باقاعدہ پالیسیاں بنائی جانے لگیں۔اسی نظریے پر عمل کرتے ہوئے آج بھی معیشت میں کساد بازاری آتی ہے تو حکومتیں مختلف طریقوں سے صارفین کی طلب بڑھاتی ہیں۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کیے گئے جس سے معیشت کا پہیہ رک گیا اور اب معیشت کو چلانے کے لیے اکثر حکومتیں بجٹ کی تیاری میں اسی نظریے پر عمل پیرا ہیں۔جب صارفین کی طلب بڑھتی ہے تو یہ طلب کا بڑھنا ہی رسد میں اضافے کا سبب بنتا ہے اور رسد میں اضافے کے ساتھ ہی معیشت کا پہیہ چلنے لگتاہے۔
بُرے معاشی حالات میں اسلام نے مال داروں کی ذمے داری قرار دی کہ وہ صدقہ وخیرات کے ذریعے غریبوں کا خیال رکھیںاور اس عمل کی اہمیت پر قرآنی آیات اور احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ صدقات معیشت میں وہی کام کرتے ہیں، جسے جدید معیشت دان کساد بازاری سے نکالنے کے لیے بیل آؤٹ پیکج کہتے ہیں،لیکن صدقات زیادہ بہتر انداز اورتیزی سے معیشت کو کساد بازاری سے نکالتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے۔جب حکومت معیشت کو کساد بازاری سے نکالنا چاہتی ہے تو اس کے لیے ایسے منصوبے لاتی ہے جس سے ملک کے سرمایہ دار طبقے کو مراعات فراہم کی جائیں، جس سے ان کی جانب سے اشیا ء وخدمات کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور معیشت کا پہیہ چل پڑتا ہے۔اس طریقے سے عموماًاشیائے سرمایہ کی طلب میں پہلے مرحلے میں اضافہ ہوتا ہے، پھر اشیائے صرف(جو حقیقتاً اشیائے ضرورت ہیں)کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشی نمومیں بہتری کا عمل نسبتاً آہستہ ہوتا ہے۔جب کہ صدقات کے ذریعے غریب طبقے کی براہ راست مدد ہوتی ہے جس سے غربت پر فوراًاچھے ثرات پڑتےہیں اور پھر اشیاء وخدمات کی طلب میں اضافے کے ساتھ معاشی نمو کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔
اب ہم بات کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ‘’’ اللہ صدقات کو بڑھاتا ہے‘‘ یہ کس طرح مجموعی معیشت پر اثرات کے حوالے سے معاشی ترقی میں کردار ادا کرتا ہے؟بات یہ ہے جیسا کہ کینز کے نظریات کی روشنی میں جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ معیشت میں جتنے زیادہ صدقات ہوںگے، مؤثر طلب کے بڑھنے کے ساتھ ہی رسد میں اضافہ ہوگا جس کا نتیجہ معاشی نمومیں اضافے کی صورت میں ہوگا۔ جب مجموعی طور پر معیشت ترقی کرے گی تو اس کے اثرات معیشت میں موجود فرد پر پڑتے ہیں۔
معاشی ترقی کے ساتھ ہی روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں،اشیاء کی طلب میں اضافے سے اشیا ء کی اچھی قیمتیں ملتی ہیں،مارکیٹ کے حجم میں اضافہ ہوتا ہے،پیمانہ پیداوارمیں اضافے کے نتیجے میں تاجروں کو جدیدٹیکنالوجی کے استعمال سے کفایتیں ہوتی ہیں۔اس طرح صدقات ایک مسلم معاشرے کی معاشی ترقی،پھلنے پھولنے کا باعث بنتا ہے۔جب معیشت پھلتی پھولتی ہے تو یقیناً اس شخص کو بھی فائدہ ہوتا ہے ،جس نے صدقات دیے ہوتے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کے صدقے کو اس دنیا میں ہی بڑھا دیتا ہے، باقی آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔
اب جائزہ لیتے ہیں کہ سود کیسے کم ہوتا ہے؟توجدید معاشی نظریات کے مطابق شرح سود جتنی زیادہ ہوگی، سرمایہ کاری اتنی کم ہوگی اور یہ بات بھی جدید معاشی نظریات کے مطابق ہے کہ سرمایہ کاری کا براہ راست اثر معاشی نمو پر پڑتا ہے، جس کا منطقی نتیجہ یہ ہےکہ شرح سود کے بڑھنے کے ساتھ ہی سرمایہ کاری کم ہونا شروع ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں عمل پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہےاور معیشت کا پہیہ رکنا شروع ہوجاتا ہے۔جسےمعاشی کساد بازاری کہاجاتا ہے۔
جب معیشت میں کساد بازاری آتی ہے تو جس طرح مجموعی سطح پر معیشت متاثر ہوتی ہے ، اسی طرح معیشت میں موجود افرادپر بھی اس کے اثرات پڑتے ہیں۔ کساد بازاری کے نتیجے میں افراط زر،بے روز گاری اور معاشی ترقی میں کمی جیسے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔اس طرح اللہ کا فرمان :’’اللہ سود کو گھٹاتا ہے‘‘ سچا ہوتا نظر آتا ہے کہ شرح سود میں اضافے کے نتیجے میں سود پر قرض دینے والا تو یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ میرا مال بڑھ رہا ہے، لیکن مجموعی معاشی صورتحال کے خراب ہونے کی وجہ سے حقیقتاً اس دولت میں اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ کمی ہوجاتی ہے۔ آج بھی معیشت بُری طرح متاثر ہے۔ حکومتی اقدامات تو جدید معاشی نظریات کے زیر اثر یہی ہیں کہ شرح سود کم کردی جائے، مختلف انڈسٹریز کو بیل آؤٹ پیکج دے دیا جائے۔ دوسرا ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں حقیقی مستحقین کو دیکھیں اور خاموشی سے ان کی مدد کریں، ضروری نہیں یہ بہت بڑی رقم ہو، اللہ ہماری نیتوں کو دیکھتا ہے، مال کو نہیں، مزید یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر ایک کی صدقے سے مدد کریں، کچھ وہ بھی ہوں گے جنہیں عارضی مدد کی ضرورت ہوگی،اپنا کاروبار دوبارہ مستحکم کرنے کی، ہم ان کی غیر سودی قرض سے مدد کرسکتے ہیں۔ اگر ہم کسی کی خود مدد نہیں کرسکتے، لیکن ان کی راہنمائی کرسکتے ہیں، تو یہ بھی کریں۔ ان مشکل حالات میں ایک دوسرے کو تھامے رکھیں ۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا اور پھر اچھا وقت آئے گاکیونکہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔