جموں//نئی صنعتی پالیسی کااعلان کئے جانے کے بعد معروف تجارتی اداروں اور کارکانہ داروں نے جموں میں اپنے کارخانے قائم کرنے کیلئے محکمہ صنعت سے رابطہ قائم کیا ہے ۔ محکمہ کے ایک سینئرافسر کے مطابق ملک بھر کے بڑے تجارتی اداروں جن میں بیشتر کارخانہ دار شامل ہیں،نے جموں خطے کے مختلف اضلاع میں اپنے کارخانے قائم کرنے کیلئے محکمہ صنعت سے رجوع کیا ہے تاہم نئی صنعتی پالیسی پر عملدرآمد کیلئے قاعدے ابھی مشتہر نہیں کئے گئے ہیں۔افسرنے دعویٰ کیا کہ وہ خام مال، ادویات، انجینئرنگ کارخانے،سروس صنعت،کے کارخانے قائم کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تواضع شعبے میں ایک معروف کمپنی کٹرہ میں اپنایونٹ قائم کرنا چاہتی ہے جبکہ ایک اورریاسی میں اپنا یونٹ قائم کرنے کی خواہاں ہے ۔اس افسر کے مطابق اس مقصد کیلئے انہوں نے اراضی بینک ان صنعتی بستیوں کیلئے مخصوص رکھے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس پر ردعمل سے خوش ہیں اور مقامی لوگ بھی اس پالیسی سے متعلق آگاہی حاصل کرنے کیلئے محکمہ سے رجوع کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بڑے تجارتی ادارے سیاحتی اور سروس شعبے میں بھی دلچسپی دکھارہے ہیں تاہم اکثریت اپنے کارخانے قائم کرناچاہتے ہیں ۔ادھمپور میں8500کنال اراضی محکمہ صنعت کو منتقل کی گئی ہے اور چنانی،رام نگر،ٹکری،منڈ اور بتل بالیاں میں اراضی کو ترقی دی جارہی ہے ۔ایک افسر نے کہا کہ سانبہ ضلع میں دس کروڑ روپے سے کم کی سرمایہ کاری سے اپنے یونٹ قائم کرنے کیلئے صرف چار مقامی اورغیرمقامیوں نے ہم سے رجوع کیا ہے۔تاہم ہم نوٹیفیکیشن کاانتظار کررہے ہیں ۔ہم نے انہیں لوزامات سے آگاہ کیا ہے جوانہیں محکمہ صنعت اورحکومت ہند کی پالیسیوں سے فراہم ہوسکتی ہیں ۔ایک سینئرافسر نے کہا کہ اسی طرح کٹھوعہ ضلع میں انہیں کوئی بڑا ردعمل نہیں ملا ہے۔قابل ذکر ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے400 28،کروڑروپے کی نئی صنعتی ترقی پالیسی کااعلان کیا تاکہ بلاک سطح پرجموں کشمیرمیں نئی سرمایہ کاری اورصنعتی ترقی کی حوصلہ افزائی کی جائے۔یہ اسکیم نوٹیفیکیشن مشتہر کئے جانے کی تاریخ سے سال2037تک جاری رہے گی۔حال ہی میں انتظامی کونسل کااجلاس لیفٹینٹ گورنرمنوج سنہا کی صدارت میں منعقد ہواجس نے سرمایہ کاروں کو 30سے45روز کے اندر چالیس برس تک زمین پٹے پر دینے کو منظوری دی اوراس مدت میں 99سال تک توسیع کی جاسکتی ہے۔