مسعود محبوب خان
اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کہیں خاندان کی بنیاد کمزور ہوئی، وہاں معاشرے میں اخلاقی انتشار، نفسیاتی بے چینی اور تمدنی زوال نمایاں ہونے لگا۔ اسی لئے اسلام نے نکاح میں آسانی، سماجی رکاوٹوں کے خاتمے اور ازدواجی زندگی کی ترغیب کو ہمیشہ معاشرتی اصلاح کا بنیادی ذریعہ سمجھا ہے۔ آج کی جدید دنیا، خصوصاً ترقی یافتہ معاشروں میں، ہم اس کے بالکل برعکس رجحان دیکھتے ہیں۔ شادیوں میں کمی، خانگی زندگی سے گریز اور نئی نسل میں ذمّہ داریوں سے بچنے کا عمومی رویّہ۔ اس کے نتیجے میں ایسی ریاستیں جو کبھی آبادی کے دباؤ کا سامنا کرتی تھیں، اب گھٹتی ہوئی پیدائشوں، خالی گھروں اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی سے پریشان ہیں۔ اسی تضاد نے کئی معاشروں کو نکاح اور خاندان کی اہمیت پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ چین کی حالیہ پالیسی بھی اسی عالمی تغیر کا حصّہ ہے، وہ ریاست جو کبھی آبادی پر قابو پانے کی کوششوں کے لیے مشہور تھی، آج اپنے شہریوں کو شادی اور بچّوں کی پیدائش کی ترغیب دینے کے لیے نئے راستے تلاش کر رہی ہےاور جدید انسان کو فطرت کی طرف واپسی اور خاندانی نظام کی ناگزیر اہمیت پر زور دے رہی ہے۔ ماہرین ِ عمرانیات کے مطابق نوجوان نسل میں خاندان کی تشکیل سے گریز کے پیچھے بنیادی اسباب وہی ہیں جن کی بازگشت دنیا کے دیگر ترقی یافتہ معاشروں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ بچّوں کی نگہداشت کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگی تعلیم، مسابقت اور ملازمت کے شدید دباؤ اور اقتصادی عدمِ اطمینان۔ان حالات میں نِنگبو کی مقامی حکومت نے ایک نرم مگر مؤثر حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ اعلان کے مطابق نوبیاہتا جوڑے آٹھ خصوصی مالی واؤچرز حاصل کر سکتے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 141؍ امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ یہ رقم بظاہر قلیل سہی، لیکن اس علامتی تعاون میں ایک بڑا پیغام پوشیدہ ہے۔ بادی النظر میں یہ اقدام شاید ایک چھوٹی سی کوشش معلوم ہو، مگر معاشرتی سطح پر اس کے دور رس اثرات متوقع ہیں۔ یہ پالیسی صرف شادیوں کی تعداد بڑھانے کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سماجی مہم کا حصّہ ہے، جس کا مقصد چینی معاشرے میں خاندانی نظام کے استحکام اور آبادی کے توازن کو بحال کرنا ہے۔ 1979ء سے 2015ء تک نافذ رہنے والی ’’ایک بچّہ پالیسی‘‘نے چین کی آبادی کی ساخت کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں شدید صنفی عدم توازن پیدا ہوا اور چین میں تقریباً 34؍ ملین مردوں کی تعداد خواتین سے زیادہ ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں شادی کے قابل خواتین کی کمی محسوس ہونے لگی اور لاکھوں نوجوان مرد Bare Branchesکے نام سے جانے جانے لگے، یعنی وہ افراد جن کے لیے مناسب رشتے دستیاب نہیں رہے۔اس پالیسی نے صرف مرد و زن کے تناسب کو ہی نہیں بگاڑا بلکہ ایک اور سماجی مسئلہ بھی جنم دیا۔ چونکہ ہر خاندان میں عام طور پر ایک ہی بچّہ پیدا ہوتا تھا، اس لیے پوری عمر کی توقعات، دباؤ اور ذمّہ داریاں اسی ایک فرد پر مرکوز ہو گئیں۔ یہ تمام عوامل مل کر چین کی demography میں ایک گہرا بحران پیدا کر گئے، جس کے اثرات آج ملک بھر میں شادیوں کی کمی، تاخیر اور خاندانی نظام کی کمزوری کی صورت میں نمایاں ہیں۔ اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ رہی ہے، لیبر فورس سکڑ رہی ہے، فوجی افرادی قوت کے امکانات کم ہو رہے ہیں اور سماجی بہبود کا پورا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ دنیا کے کئی جدید اور ترقی یافتہ معاشرے اسی نوعیت کے بحران سے گزر رہے ہیں، جہاں شادیوں میں کمی، خاندانی زندگی سے گریز اور پیدائش کی گرتی شرحیں ایک بڑے سماجی چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ جاپان اس مسئلے کی نمایاں مثال ہے۔ ملک میں شادیوں کی تعداد تاریخی حد تک گر چکی ہے، جب کہ شرحِ پیدائش 1.25؍ سے بھی کم ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومت بھاری رقوم خرچ کر رہی ہے۔ شادی یا بچّے کی پیدائش پر لاکھوں ین کے سبسڈیز کا اعلان کیا جاتا ہے۔ Parenting Support Centers کےقیام کے باوجود جاپان اب تک اپنی آبادی میں کمی کے رجحان کو روک نہیں سکا۔دنیا میں سب سے کم پیدائش کی شرح صرف 0.7؍ جنوبی کوریامیں ریکارڈ کی گئی ہے، جو demography کے میدان میں خطرے کی آخری سرخ لکیر سمجھی جاتی ہے۔ حکومت نے بڑے اقدامات کئےہیں، بچّوں کی پیدائش پر 1000؍ ڈالر سے زائد birth grants، مفت day-care، نوجوانوں کو شادی کی طرف مائل کرنے کے لیے قومی سطح کیcampaigns، اس کے باوجود آبادی میں اضافہ کسی طرح نہیں ہو پا رہا۔یورپ کے کئی ملک خصوصاً اٹلی، اسپین اور جرمنی بھی اسی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ شرح پیدائش اتنی کم ہے کہ حکومتی بجٹ کا بڑا حصّہ child benefits، parental leave اور خاندانوں کو مالی طور پر مستحکم رکھنے پر صرف کیا جا رہا ہے۔پھر بھی ان ممالک میں بھی نوجوان نسل کی ترجیحات بڑی حد تک بدل چکی ہیں۔ ان عالمی مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک یا تہذیب تک محدود نہیں بلکہ جدید دنیا کی اجتماعی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے جہاں خاندانی نظام دباؤ کا شکار ہے اور ریاستیں اسے سنبھالنے کے لیے بے مثال اقدامات کرنے پر مجبور ہیں۔جدیدیت، شہری زندگی کے دباؤ اور تیز رفتار معاشی ترقی نے نوجوان نسل میں individualism کو فروغ دیا ہے۔ اب نئی نسل ذاتی آزادی، کیریئر، سفر، نجی زندگی اور خود مختار رہنے کو زیادہ اہمیت دیتی ہے، جب کہ خاندان، شادی اور بچّوں کی ذمّہ داریوں کو بوجھ یا رکاوٹ سمجھا جانے لگا ہے۔ اس تبدیلی نے مختلف ممالک کی معاشرت کے روایتی خاندانی ڈھانچے کو متزلزل کر دیا ہے۔خیر اب انسانی تاریخ ایک مرتبہ پھر ُاسی ابدی حقیقت کی طرف لوٹ رہی ہے کہ خاندان اپنی مضبوط بنیادوں، باہمی محبت، ذمّہ داری اور نسلوں کی تربیت کے ساتھ معاشرے کی عمارت کا وہ ستون ہے، جس کے بغیر تہذیبیں کھڑی نہیں رہ سکتیں۔ اسلام نے چودہ صدی قبل حقیقت واضح الفاظ میں بیان کر دی تھی۔ قرآنِ کریم نکاح کو سکونِ قلب، محبت اور رحمت کا سر چشمہ قرار دیتا ہے اور رسولِ اکرمؐ نے فرمایا کہ: ’’نکاح میری سنّت ہے، پس جو میری سنّت سے روگردانی کرے، وہ مجھ سے نہیں۔‘‘ (صحیح بخاری و مسلم)
یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خاندانی زندگی نہ صرف انسانی ضرورت ہے بلکہ روحانی تقاضہ بھی ہے۔ جب معاشرے اس سنّت سے دور ہو جاتے ہیں، تو ان پر وہی بحران طاری ہوتا ہے جو آج جدید دنیا کے سامنے کھڑا ہے۔ تنہائی، عدمِ تحفّظ، ذہنی دباؤ، اور آبادی کے عدمِ توازن جیسے مسائل۔ چین کی موجودہ کوششیں اسی حقیقت کی طرف رجوع کا اشارہ ہیں۔ تاہم اسلام کی نظر میں نکاح صرف معاشرتی ضرورت نہیں، بلکہ ایک مقدّس بندھن ہے جو دو افراد کو نہیں بلکہ دو نسلوں کو جوڑتا ہے۔ اسی لیے اسلامی معاشرہ نکاح میں آسانی، اخلاص، سادگی اور باہمی ذمّہ داریوں کو بنیاد بناتا ہے۔یہ لمحہ ہمارے لیے بھی قابلِ تذکّر ہے کہ ہم اپنی تہذیبی وراثت اور اسلامی اصولوں کو سینے سے لگائے رکھیں۔ اگر دنیا کے غیر مسلم معاشرے، تجربوں اور مشکلات کے بعد نکاح اور خاندان کی ناگزیر اہمیت کو سمجھنے پر مجبور ہو رہے ہیں، تو ہمیں اس نعمت کی قدر دوچند کرنی چاہیے جسے ہمارا دین ابتداء ہی سے اساسِ معاشرت قرار دیتا آیا ہے۔ خاندان محفوظ ہو تو معاشرہ محفوظ ہے، نسلیں محفوظ ہوں تو تہذیبیں محفوظ رہتی ہیں۔ اسلام ہمیں اسی سنہرے اصول کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے۔ دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو خاندانی نظام کی عظمت پہچاننے، اسے مضبوط کرنے، اور آنے والی نسلوں تک اس روایت کو بحسن و خوبی پہنچانے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
رابطہ۔ 09422724040
[email protected]