سخن شناس
ڈاکٹر فلک فیروز
میرا اس شہر عداوت میں بسیرا ہے جہاں
لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا بُرا سوچتے ہیں
ادیب اور قلم کار سماج کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو سماج کو اچھائی اور برائی کا آئینہ دکھاتے ہیں ۔سماج میں پیش آنے والے تمام حالات واقعات اور حادثات و سانحات کا ہوبہو آئینہ دکھانا ایک تخلیق کار کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کو یہ اپنے طرز اسلوب سے سامنے لاتے ہیں نیز یہی اسلوب ان کی انفرادی پہچان بناتا ہے ،جس میں جمالیاتی پہلو کے ساتھ ساتھ اطلاع ملتی ہے ۔ ایک ادیب سماج کا حساس و ذہین فرد ہوتا ہے۔ جو سماج میں پنپنے والی بیماریوں کو تلاش کرتا ہے، انہیں لوگوں کے سامنے لاتا ہے، ان کے نشیب و فراز کے بارے میں شعری یا نثری پیکروں میں اپنے سماج کو اطلاعات فراہم کرتا ہے ۔ اس طرح سے یہ سماج کا ایک اصلاح کار بن جاتا ہے ۔حالانکہ واضح سطح پر اصلاح کرنا اس کے بنیادی لوازمات میں شامل نہیں ہے ۔لیکن اپنے احساس جذبوں اور خیالات کو فن کی زبان دے کر لوگوں تک ایسے انداز میں پہنچاتا ہے کہ لوگ اس کوسُن کر پڑھ کر محظوظ بھی ہو جاتے ہیں نیز اس عمل یا بیماری کی دوا کا اہتمام بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔انسانی تہذیب میں کچھ ایسی بھی بیماریاں موجود ہوتی ہیں جن کا کسی بھی شفا خانے میں دوا یا علاج دستیاب نہیں ہوتا ہے، بلکہ ان بیماریوں کا علاج شخص یا فرد کے پاس ہی ہوتا ہے۔ اس کے باہر اور اندرونی زندگی کی الجھن کی گروہوں کو کھولنے سے ہی اس کا علاج ممکن بن جاتا ہے۔ ان تہذیبی بیماریوں سے ایک سماج کو پاک و صاف کیا جاتا ہے۔ان تہذیبی بیماریوں کی نشاندہی مختلف قلم کاروں نے اپنی نگارشات کے ذریعے کی ہے۔ جن میں مشہور زمانہ ادیب شیکسپیئر، ورڈز ورتھ، جان ملٹن، سمیل بکیٹ، اردو زبان کےمیر ،غالب، اقبال، فیض ،منٹو ،احمد فراز، بشیر بدر اور اسی طرح کے مختلف ادیب شامل ہیں ۔احمد فراز نے اپنی شاعری میں انسان اس کی اندرونی ذات اس کے باہر ی وجود اس کے سماج اس کی نفسیات کے حوالے سے مختلف خیالات کو اپنی شاعری کے ذریعے سے حسین پیرائے میں نچوڑ کر پیش کر کے انسان کو اس کی ذات کا کھلا ائینہ دکھایا ہے۔ مذکورہ بالا شعر میں ایک ایسی ہی صورتحال کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس میں شاعر نے انسان کو اپنی بلندی اور معراج سے گرتے ہوئے اسفلین کی حالت تک پہنچاتے ہوئے اس کی ذہنیت، اس کی باطنی زندگی، اس کی روحانی زندگی، اس کے اور اللہ کے درمیانی تعلق، اس کے اعمال اور اس کی نیتوں کے حوالے سے اس کا وہ آئینہ دکھایا ہے، جس سے وہ عصر حاضر کی زندگی میں گزر رہا ہے۔ جہاں اب لوگ اللہ کے پیش کیے جانے والے پاک سجدوں کو بھی اپنی غلط اور خراب نیتوں سے برباد کر ڈالتے ہیں۔ اس شعر کی معنوی تہداری میں ایک ایسے معاشرے ایسے انسان کا حلیہ پیش کیا گیا ہے جو بغض ،عداوت، کینہ پروری، منافقت اور حسد کا شکار ہو چکا ہے اور اپنے پاک سجدوں کو بھی اس نہ بُجھنے والی آگ کی زد میں لا کر انسانیت کی معراج کو تہس نہس کرنے کا کام انجام دے رہا ہے۔ بالخصوص اپنے اندر پنپنے والے ان جذبوں کو، جنہیں علمی زبان میں حسد کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں کم و بیش انسانی معاشرے کا ہر فرد کہیں نہ کہیں ملوث بھی ہے، جسے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ازحد ضرورت ہے۔
خیر اور شر کا عمل ازل سے ہی انسانی زندگی میں موجود رہا ہے۔ خیر پھیلانے سے بانٹنے سے دینے سے حاصل کرنے سے خیر ہی رہتا ہے۔ جو انسانی دل اور دماغ یہاں تک کہ جسمانی قوت کے لیے ہمیشہ سے فائدہ مند تصور کیا گیا ہے ۔جس کی متعدد مثالیں ہمیں مختلف علمی رسالوں میں ملتی ہیں عین مطابق شر ایک ایسی چیز ہے جس کے رہنے سے ہونے سے پھیلانے سے دینے سے بانٹنے سے لینے سے انسان کی ذہنی روحانی سماجی تہذیبی جسمانی قوت بری طرح سے اثر انداز ہو جاتی ہے ۔اکثر و بیشتر ہمیں اخلاقی اسباق میں یہ بات بتائی گئی ہے بتائی جاتی ہے کہ شَر پھیلانے سے باز رہا کرو، کیونکہ شَر پھیلانا بُری سوچ کو جنم دیتا ہے۔ جس کو سماج کی تعمیر کے لیے زہر مانا جاتا ہے۔ اسی طرح سے اس شَر کی ایک صورت حسد ہے ،جس کو پھیلانے سے ،کرنے سے یا جس کے متعلق سوچنے سے مختلف علمی ،تحقیقی ،تنقیدی، اصلاحی نسخوں میں انسانوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ حسد سے دور رہو، کیونکہ حسد ایک ایسی بیماری ہے جو خود حاسدین کے لیے نقصان دہ ہے اور محسود کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
حسد ایک ایسی باطنی بیماری ہے جو خاموشی سے انسان کے دل اور اعمال کو کھا جاتی ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو نہ صرف دوسروں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ سب سے پہلے حسد کرنے والے کے ، سکون اور برکت کو ختم کرتا ہے۔
حسد کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے شخص کی نعمت، کامیابی،کی عزت یا خوشحالی کو دیکھ کر دل میں یہ خواہش پیدا ہونا کہ یہ چیز اس کی پاس نہ رہیں، یا میرے پاس آ جائیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:(تر جمہ ): ’’یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اُس پر، جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی۔‘‘ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ حسد کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ یہ اللہ کی عطا پر اعتراض کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حسد کے اثرات کو سمجھانے کے لیے ہمیں پناہ مانگنے کی دعا سکھائی:’’ تم فرماؤ، میں اس کی پناہ لیتا ہوں جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کی سب مخلوق کے شر سے۔ اور اندھیری ڈالنے والے کےشَر سے جب وہ ڈوبے اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکتی ہیں اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے۔‘‘ کوئی شخص اگر آپ کی کامیابی سے جلتا ہو لیکن صرف دل میں، تو اس وقت تک وہ آپ کو نقصان نہیں دے سکتا۔ لیکن جب وہ حسد کی آگ میں جل کر آپ کے خلاف باتیں کرے، سازش کرے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، تب یہ حسد کھلا ہواشَر بن جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا سکھائی کہ ہم اس وقت بھی اس کے شر سے پناہ مانگیں، جب کوئی حسد کرنے والا حسد پر اُتر آئے۔
حسد کی پہلی مثال ابلیس کا تکبر۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ حسد کی سب سے پہلی جھلک ہمیں کائنات کے آغاز ہی میں ملتی ہے۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ سجدہ کریں۔ سب نے اطاعت کی مگر ابلیس نے انکار کر دیا، کیونکہ اس کے دل میں حسد اور تکبر کی آگ بھڑک اٹھی۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا :(ترجمہ) بولا ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا۔‘‘
دنیا میں سب سے پہلا قتل حسد کی وجہ سے ہوا، جب حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا۔حضرت یوسف علیہ السلام کو اُن کے بھائیوں نے حسد کی وجہ سے کنویں میں ڈال دیا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، بعض یہود نے حسد میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کرنے کی کوشش کی۔یہ تمام واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حسد انسان کے کردار اور ایمان کو برباد کر دیتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو حسد سے ڈرایا اور اس کے سنگین نقصان سے آگاہ فرمایا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔‘‘
انسانوں کی دنیا کے قانون مختلف نرالے ہیں انسان جتنا انسان سازی کے کام کرتا ہے۔ اتنا ہی انسان سوزی کا کام بھی کرتا ہے ۔انسان جہاں خیر اور نیکی کے کام کرتے ہیں ،وہیں انسانوں کے پاس ایسے جذبے بھی موجود ہیں جوبُرائی اور شر کے لیے اُکساتے ہیں۔ انسان کا دوسرے انسان سے حسد کرنا کوئی غیر معمولی عمل نہیں ہے بلکہ یہ عمل معمولی ہے۔ انسانوں کی تربیت اور تشکیل کے حوالے سے جس کی مثالیں ہمیں تاریخ میں جگہ جگہ ملتی ہیں ،تاریخ کے بہت سارے گوشے ہمیں اس کی جانکاری فراہم کرتے ہیں کہ کس طریقے سے انسانوں نے انسانوں کے ساتھ حسد کا اظہار کر کے انہیں نقصان پہنچانا چاہا ہے اور عین مطابق قدرت کا اپنا قانون بھی کام کرتا رہتا ہے۔ حسد دراصل ایک قوی جذبہ ہے جو اس لیے اُبھرتا ہے، کیونکہ حاسدین اللہ کی تقسیم پر راضی نظر نہیں آتے ہیں۔ اس لیے ان کی ذہنیت پر بھاری بوجھ نظر آتا ہے۔اور وہ اس سب کی دراصل خواہشیں رکھتے ہیں لیکن کامیابی نہ ملنے کی صورت میں وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو محسود کے پاس ہے، وہ ان کا حق ہے جو کہ صحیح خیال نہیں ہے ۔مختلف مصنفین ،علماء، ادباء، مبلغین، محققین کی تصانیف میں حسد، حاسدین اور اس کے حوالے سے جو تجربے ملتے ہیں، اُن میں یہی پایا گیا ہے کہ حسد ایک طاقتور جذبہ ہے جو لوگوں کی کامیابیاں قبول نہیں کرتا ہے اور اس کے نقصان حاسدین اور محسود دونوں پر پڑتے ہیں۔
(کالم جاری ہے )
رابطہ۔8825001337 [email protected]