شیخ امین
گزشتہ دو دہائیوں میں نجی ٹی وی چینلز کی بھرمار کے ساتھ جو ڈرامے اور ٹاک شوز پیش کئے گئے، انہوں نے اسلامی تصورِ معاشرت کے برخلاف اخلاقی بے راہ روی، خاندانی تقدس کی پامالی، محترم رشتوں کی حد بندی کو توڑنے، گفتگو اور طرزِ عمل میں بے احتیاطی، فحاشی اور اباحیت کو معمول بنا کر پیش کیا۔ ایک شادی شدہ عورت کا اپنے شوہر کے بھائی سے یا شوہر کا اپنی بیوی کی بہن سے قریبی تعلق اس انداز میں دکھایا گیا گویا یہ کوئی قابلِ قبول، روزمرہ اور اخلاقی رویہ ہو،جوکہ خاندانی نظام پر کاری ضرب کے مترادف ہے۔ اسی طرح اسلام کے اخلاقی اور خاندانی تصور کو یا تو لاعلمی کی بنیاد پر یا دانستہ طور پر ’’مذہب‘‘ کا مذاق اُڑانے کے لیے ابلاغِ عامہ میں پیش کیا جاتا ہے کہ غیر اخلاقی رویّوں کو برداشت کے نام پر جائز ثابت کیا جائےاور حرام کو حلال کے قالب میں ڈھال دیا جائے۔ یہ ابلاغی نفسیات عالمی سطح پر سرگرمِ عمل ہے۔ اخلاق اور قانون جو کسی بھی معاشرے کی بقا کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، آج شدید مجروح ہو چکے ہیںاورمغرب کی اندھی تقلید، فکری غلامی اور دینی اقدار سے دوری نے ہمارے معاشرے کووہاں لا کھڑا کیا ہے جہاں انتشار غالب اور اصلاح نایاب ہوتی جا رہی ہے۔اصلاحِ احوال کا دوسرا بنیادی محاذ گھر سے باہر تعلیمی ادارے ہیں۔جس کے لئے ناگزیر ہے کہ چھٹی جماعت سے دسویں جماعت تک کے تعلیمی نصاب میں ایک بااخلاق، معتدل، بامروت اور محبت آمیز خاندان کے واضح خدوخال شامل کئے جائیں۔ خاندانی زندگی کی اہمیت، اس کا تقدس اور ایک پُرسکون گھر کے نتیجے میں معاشرے میں پیدا ہونے والا توازن، برداشت، صبر و استقامت اور تشدد سے اجتناب ان سب کو محض مضامین نہیں بلکہ کردار سازی کے اصول کے طور پر تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ تعلیم اگر صرف روزگار کی تیاری بن جائے اور زندگی کی تعمیر سے خالی ہو، تو وہ قوموں کو ڈگری تو دے سکتی ہے کردار نہیں۔تیسرا نہایت اہم کام ملک کے ابلاغِ عامہ، خصوصاً برقی اور ڈیجیٹل میڈیا، کا بے لاگ اور معروضی جائزہ ہے۔ ضروری ہے کہ علمی، تحقیقی اور دستاویزی شہادت کے ساتھ ایسے تصورات پیش کئےجائیں جو آنے والی نسلوں کو مغربی سامراجی تسلط، ذہنی غلامی، ثقافتی نقالی اور اخلاقی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکیں ۔ فحاشی و عریانی کے فروغ کے بجائے حیا، عصمت اور عفت پر مبنی ڈرامے، نغمے، مکالمے اور مباحثے پیش کئے جائیں اور ابلاغِ عامہ کے اس مثبت کردار کو اس کی درجہ بندی کا بنیادی معیار بنایا جائے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آج ڈیجیٹل میڈیا سب سے زیادہ بے حیائی، مغربیت اور غلامانہ ذہنیت پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اردو زبان میں بھی رومن رسم الخط کا بے دریغ استعمال اور گفتگو میں انگریزی الفاظ کی ایسی آمیزش عام ہو چکی ہے کہ اکثر اوقات تین چوتھائی کلام انگریزی اور ایک تہائی اردو پر مشتمل نظر آتا ہے ۔چوتھا بنیادی اور فیصلہ کن فریضہ ان افراد کا ہے جو خود کو تحریکِ اسلامی کی فکر سے وابستہ سمجھتے ہیں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ دیانت داری سے یہ جائزہ لیں کہ ان کے گھر، ان کے پڑوس اور ان کے محلے کا ماحول کیا واقعی اسلامی اقدار کا عکاس ہے یا وہ بھی بلا شعور مغرب کی اباحیت پسند تہذیب سے مستعار لیا گیا ایک نمونہ بن چکا ہے؟ کیا ان کا طرزِ فکر، رہن سہن، گفتگو اور عملی زندگی دین کی تعلیمات کی ترجمان ہے یا محض نعروں اور دعوؤں تک محدود؟ یاد رکھنا چاہیے کہ وہی بات اثر رکھتی ہے جو انسان کے عمل سے جھلکتی ہو۔ الفاظ کتنے ہی فصیح و بلیغ کیوں نہ ہوں، اگر کردار اور قول میں مطابقت نہ ہو تو ابلاغ ادھورا رہتا ہے۔ تحریکی گھرانہ ایسا ہونا چاہیے جو دیکھنے والے کے لیے صحیح اسلامی طرزِ حیات کا عملی نمونہ ہو، ایسا نمونہ جو دین کی کتابی تشریح نہیں بلکہ زندہ تفسیر بن کر سامنے آئے۔اس مقصد کے لیے تحریکِ اسلامی کو اپنے ہر گھر میں ایک مثالی خاندان کا نقشہ رائج کرنا ہوگا تاکہ گھر کا ہر فرد اخلاقی اور معاشرتی انقلاب کا نمائندہ سپاہی بن سکے اور اس کی گفتگو، سوچ اور عمل قرآن و سنت کی عملی ترجمانی کر رہا ہو۔ اگر خدانخواستہ تحریکی گھرانوں میں فکری انتشار، مغرب کی اندھی نقالی اور نظریاتی کمزوری پائی جائے تو پھر چاہے گھر کا سربراہ علمی مقالات لکھ لے یا خطیبِ عصر کہلائے، اس کی بات میں کوئی تاثیر باقی نہیں رہے گی۔
[email protected]