بڑھتی عمر کے جسم کی سنیں اور طبی رہنمائی کے ساتھ فیصلہ کریں
طبی آگہی
ڈاکر زبیر سلیم
گزشتہ دنوںایک بزرگ شہری نے مجھے ٹیلی کنسلٹیشن کے لئےفون کیا۔ ان کا سوال سادہ مگر تشویش بھرا تھا’’ڈاکٹر صاحب، روزے کے دوران دن میں میری پنڈلی کے پٹھوں میں درد ہوتا ہے۔ میں پہلے سگریٹ نوشی کرتا تھا۔ کیا مجھے فکر کرنی چاہئے؟‘‘۔ان کی آواز میں وہی کیفیت تھی جو رمضان میں بہت سے بزرگوں کے دل میں ہوتی ہے ، صرف ایک علامت نہیں بلکہ ایک بے یقینی۔
رمضان روحانی بلندی کا مہینہ ہے۔ بہت سے بزرگ گہری عقیدت اور جذباتی مضبوطی کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں۔ مگر بڑھتی عمر کا جسم اپنی الگ فزیالوجی رکھتا ہے۔ جو کام چالیس سال کی عمر میں آسان تھا، وہ ستر سال میں احتیاط چاہتا ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ جہاں روزہ محفوظ ہو وہاں اس سے روکا جائے، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ جسم کب توجہ کا اشارہ دے رہا ہے۔
روزے کے دوران پنڈلی کے پٹھوں میں درد بزرگوں میں عام ہے، خاص طور پر جب روزے کے اوقات طویل ہوں۔ اکثر صورتوں میں وجہ سادہ ہوتی ہے:پانی کی کمی۔ روزے میں سیال مادوں کا استعمال محدود ہوتا ہے اور بڑی عمر میں پیاس کا احساس پہلے ہی کم ہو جاتا ہے۔ دن گزرتے گزرتے پٹھوں میں نسبتاً پانی کی کمی ہو سکتی ہے، جس سے کھنچاؤ، اکڑن یا درد پیدا ہوتا ہے۔
الیکٹرولائٹس کا عدم توازن بھی ایک عام وجہ ہے۔ پوٹاشیم، میگنیشیم یا سوڈیم کی کمی، خاص طور پر جب سحری غذائیت سے بھرپور نہ ہو، دن میں پٹھوں کی تکلیف پیدا کر سکتی ہے۔ جو بزرگ بلڈ پریشر یا دل کی بیماری کے لیے پیشاب آور ادویات (ڈائیوریٹکس) لیتے ہیں، وہ خاص طور پر زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
ہر پنڈلی کا درد پانی کی کمی نہیں ہوتا
بزرگ افراد میں، خاص طور پر جنہیں سگریٹ نوشی، ذیابیطس یا پرانے ہائی بلڈ پریشر کی تاریخ ہو، چلتے وقت پنڈلی کا درد پیری فیرل آرٹیریل ڈیزیز (PAD)کی علامت ہو سکتا ہے۔ اس بیماری میں ٹانگوں کی شریانیں ایتھروسکلروسیس (چکنائی جمنے) کی وجہ سے تنگ ہو جاتی ہیں، جو عموماً ایل ڈی ایل کولیسٹرول بڑھنے سے ہوتی ہے، اور پٹھوں کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے۔اس کی کلاسیکل علامت انٹرمیٹنٹ کلاڈیکیشن ہے، یعنی چلتے وقت پنڈلی میں درد یا کھنچاؤ جو آرام کرنے سے ٹھیک ہو جائے۔ بعض مریضوں کو ٹھنڈے پاؤں، چلنے کی صلاحیت میں کمی، زخموں کا دیر سے بھرنا، سن ہونا یا نبض کمزور محسوس ہونا بھی ہو سکتا ہے۔اکثر اسے عمر کی عام کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ یہ پورے جسم کی خون کی نالیوں کی بیماری کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ بروقت تشخیص، ایل ڈی ایل کو کنٹرول کرنا (اکثر سٹیٹن ادویات کے ذریعے)، باقاعدہ نگرانی میں چہل قدمی، اور خطرے کے عوامل پر قابو پانا بہت ضروری ہے تاکہ بیماری بڑھنے اور پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ایک اور امکان رات کے وقت یا خاص پوزیشن میں پٹھوں کا کھنچاؤ (نائٹ کرامپس) ہے، جو روزے میں سیال اور معدنیات کی کمی کی وجہ سے زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ ہمارے خطے میں وٹامن ڈی کی کمی بھی عام ہے، جو پٹھوں کے درد اور تھکن کا سبب بن سکتی ہے۔
رمضان میں بزرگ ان علامات کو کیسے سمجھیں؟
سب سے پہلے سیاق و سباق اہم ہے۔ اگر پنڈلی کا درد زیادہ تر سہ پہر میں ظاہر ہو، افطار کے بعد پانی پینے سے بہتر ہو جائے، اور عام خشکی یا تھکن کے ساتھ ہو، تو زیادہ امکان پانی کی کمی کا ہے۔لیکن اگر درد مسلسل چلنے سے شروع ہو، پاؤں ٹھنڈے ہوں، نبض کمزور ہو، یا مناسب پانی پینے کے باوجود برقرار رہے، تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں؟
زیادہ تر روزے سے متعلق تکالیف سادہ اور سمجھدار تبدیلیوں سے قابو میں آ سکتی ہیں۔پانی کی مناسب مقدار سب سے اہم ہے۔بزرگوں کو افطار پر ایک ساتھ زیادہ پانی نہیں پینا چاہئے بلکہ افطار اور سحری کے درمیان وقفے وقفے سے پانی پینا چاہئے۔ پانی، ہلکے سوپ اور قدرتی الیکٹرولائٹس سے بھرپور غذائیں بہتر ہیں۔ زیادہ چائے اور کافی سے پرہیز کریں کیونکہ کیفین جسم سے پانی کے اخراج کو بڑھاتی ہے۔
سحری کا معیار بھی بہت اہم ہے
بہت سے بزرگ صرف چائے اور میدے والی اشیاء کھا لیتے ہیں جو کافی نہیں۔ بہتر سحری میں پروٹین (انڈے، دہی، دالیں)، پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس (اوٹس، ثابت اناج) اور پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں جیسے کیلا یا کھجور مناسب مقدار میں شامل ہونی چاہئیں۔ اس سے توانائی متوازن رہتی ہے اور پٹھوں کی تھکن کم ہوتی ہے۔افطار کے بعد اور سحری سے پہلے پنڈلی کے پٹھوں کی ہلکی اسٹریچنگ مفید ہے۔ رات کے کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی خون کی روانی بہتر بناتی ہے۔ دن میں طویل عرصہ ایک ہی حالت میں بیٹھنے یا لیٹنے سے گریز کریں۔
ادویات کے اوقات پر خاص توجہ دیں۔
بلڈ پریشر، پیشاب آور اور ذیابیطس کی ادویات کے اوقات رمضان میں ڈاکٹر سے مشورہ کر کے طے کریں۔ اگر دن میں علامات بار بار ظاہر ہوں تو دوا کے شیڈول کا جائزہ ضروری ہے۔
خطرے کی علامات جنہیں ہرگز نظر انداز نہ کریں
چلتے وقت مسلسل پنڈلی کا درد، ایک ٹانگ میں سوجن، اچانک شدید کھنچاؤ، سانس پھولنا، بار بار چکر آنا۔ایسی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ روزہ کبھی بھی جان کے خطرے کی قیمت پر جاری نہیں رکھنا چاہئے۔
جذباتی پہلو بھی اہم ہے
بہت سے بزرگ طبی وجوہات کی بنا پر روزہ کم کرنے یا چھوڑنے کے مشورے پر احساسِ گناہ محسوس کرتے ہیں۔ یہ احساس غیر ضروری اور نقصان دہ ہے۔ اسلامی تعلیمات واضح ہیں، صحت کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ اگر روزہ نقصان دہ ہو تو شرعاً رخصت موجود ہے اور عبادت کی متبادل صورتوں کا پورا اجر ملتا ہے۔خاندان کا کردار بھی اہم ہے۔ اکثر بزرگ اپنی تکلیف چھپا لیتے ہیں تاکہ اولاد پریشان نہ ہو۔ رمضان میں روزانہ ہلکی سی خیریت دریافت کرنا مسائل کی بروقت نشاندہی میں مدد دے سکتا ہے۔
مجھے فون کرنے والے بزرگ کی آواز میں سب سے نمایاں چیز درد نہیں بلکہ ہچکچاہٹ تھی۔ بزرگ اکثر سوال نہیں کرتے، برداشت کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تکلیف بڑھاپے یا عبادت کی قیمت ہے۔ ایسا نہیں ہے۔
اختتامیہ
مناسب پانی، متوازن سحری، ادویات کا جائزہ اور بروقت طبی مشورے سے زیادہ تر بزرگ، جہاں طبی طور پر اجازت ہو، محفوظ طریقے سے روزہ رکھ سکتے ہیں۔ اور جہاں ممکن نہ ہو، وہاں بھی ان کی عبادت کی قدر کم نہیں ہوتی۔ کیونکہ رمضان کا مقصد کمزور جسم کی حدیں آزمانا نہیں ہے۔