اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمگیر وباء کورونا وائرس رب العزت کی طرف سے عالم انسانیت خصوصاً مسلمانانِ عالم پر ایک ایسی آزمائش ہے جس کی مثال ماضی قریب میں کہیں بھی نہیں ملتی ہے۔ رمضان المبارک میں جہاں جہنم کے تمام دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں لیکن اس بار اس مبارک مہینے کی آمد سے پہلے ہی ہمارے لئے مساجد کے دروازے بند ہوگئے تھے۔لاک ڈائون اور احتیاطی تدابیر کی وجہ سے رمضان المبارک کی رونقیں معدوم ہوکر رہ گئیں، مساجد میں بڑے بڑے اجتماعات، بازاروں کی گہماگہمی اور سحری و افطار کے اوقات کا جوش و خروش بھی کہیں دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ رمضان المبارک میں جہاں ہماری زندگیوں اور مساجد میں بہت سارے معمولات کا اضافہ ہوا کرتاتھا لیکن اس بار ہم ان تمام چیزوں سے محروم ہوکر رہ گئے۔ اس بار ہم دینی مدارس اور درسگاہوں کے اُن نمائندوں کے روبرو بھی نہ ہوسکے جو اس شہرالقرآن کے دوران بہت ہی سرگرمی اور تن دہی کیساتھ اپنے اپنے اداروں کیلئے مالی معاونت طلب کرتے تھے۔ ماہِ مبارک کے دوران لگ بھگ ہر ایک نماز سے پہلے کسی نہ کسی دینی ادارے کا مہتمم، اُستاد، طالب علم یا نمائندہ کچھ دیر تک دین کی بات کرکے اپنے ادارے کیلئے زکوٰۃ، صدقات، نذرانے اور عطیات جمع کرتا تھا۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ لگ بھگ تمام دینی مدارس اور درسگاہ عوامی امداد سے ہی چلتے ہیں اور ماہِ رمضان کے دوران لوگ اللہ کے راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی کوشش کرتے ہیںجبکہ بیشتر لوگ اسی ماہ کے دوران اپنے مال کی زکوٰۃ ، صدقات اور عطیات دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ دینی اداروں کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ ماہِ رمضان کے دوران زیادہ سے زیادہ امداد جمع کی جائے تاکہ سال بھر معمولات پر ہونے والے خرچے کا اچھا خاصہ حصہ حاصل کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ ان دینی مدارس سے سینکڑوں کی تعداد میں حفاظ کرام مساجد میں قرآنی تراویح کی پیشوائی کرتے تھے اور مساجد کے منتظمین اور لوگ ان کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں ہدیہ دیا کرتے تھے۔لیکن اس بار ایسی کوئی بھی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملی۔
ایسے میں اس جانب اپنی اور دوسروں کی توجہ مبذول کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دینی مدارس اور درسگاہیں دین اسلام کا لازم و ملزوم حصہ ہیں۔ انہی دینی مراکز سے تعلیم حاصل کرکے علمائے کرام، فقہائے کرام، مفتی حضرات، محدثینِ کرام، حفاظِ کرام اور اساتذہ حضرات اندھیری گلیاروں کو دین اسلام کے نور سے منور کرتے ہیں اور صحیح دین و قرآن کو گھر گھر پہنچاتے ہیں۔ قرآن و حدیث کی درس وتدریس کا سلسلہ اُتنا ہی پرانا ہے جتنا دین اسلام ہے۔ حضرت محمدؐ مسجد نبوی میں صحابہ کرام کی تربیت فرماتے تھے اور انہیں قرآن و حدیث کا درس دیتے تھے۔ قرآن و حدیث کے درس و تدریس کی تاریخ وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ آقائے دوجہاںؐ کے اس دنیا سے ظاہری تشریف لے جانے کے بعد جیل القدر صحابی حضرت ابوبکر صدیقؓ،حضرت عمر ؐ،حضرت عثمانؐ، حضرات علیؐ اور دیگر عالم اصحاب رسولؐنے یہ سلسلہ جاری رکھا۔ اگرچہ کئی صدیوں تک درس و تدریس کا سلسلہ مساجد میں ہی جاری رہا تاہم بعد میں مختلف وجوہات کی بنا پر اس ان سرگرمیوں کو مساجد سے باہر جاری رکھنے کی ضرورت آن پڑی، جن میں سب سے بڑی وجہ مساجد میں نمازوں اور دیگر عبادتوں میں خلل بتائی جاتی ہے اور مقصد کے حصول کیلئے الگ عمارتوں اورجگہوں کا تعین کیا گیا اور انہیں مدرسوں کا نام دیا گیا۔ کئی صدیوں تک دینی مدرسے حکومتوں اور شاہی سرپرستی میں چلتے تھے اور طلبہ کیساتھ ساتھ اساتذہ کیلئے ہر قسم کی سہولیات اور اخراجات وقت کی حکومتیں ہی برداشت کرتی تھیں۔ مدرسوں کے قیام سے علمِ دین حاصل کرنے والے طلبہ میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور یہ رجحان بڑھتا ہی چلا گیا۔ وقت گذرتا گیا ،حکومتیں بدلیں اور حکمرانوں کی ترجیحات اور پالیسیوں میں بھی تبدیلیاں آتی گئیں اور دھیرے دھیرے حکمرانوں نے دینی مدرسوں سے اپنے ہاتھ کھینچ لئے اور کئی ایسے واقعات بھی ہیں جہاں ظالم حکومتیں مسلط ہوئیں اور انہوں نے مدرسوں کو بند کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی۔
اس طرح سے دینی مدرسوں کا سارا نظام امدادِ باہمی اور عوامی تعاون سے چلنے لگا اور اللہ کے فضل و کرم سے آج تک مسلمانوں نے دینی مدرسوں کی مدد و اعانت میں کوئی کثر باقی نہیں رکھی اور دین اسلام کے درس و تدریس کو اپنے بھر پور اشتراک سے جاری و ساری رکھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ انتہائی سادگی اور قناعت کے ساتھ مدارس نے مسلمانوں کی بے پناہ دینی و علمی خدمات سرانجام دیں اور گھر گھر میں قرآن اور حدیث کی تعلیمات کو پہنچایا۔ کورونا وائرس کی عالمگیر وباء سے جہاں ہر ایک شعبہ متاثر ہوا ہے وہیں اس کا براہ راست اثر دینی مدارس پر بھی پڑ رہا ہے۔ رمضان المبارک میں چندہ جمع نہ کرنے کی وجہ سے بیشتر مدارس، دارالعلوموں اور درسگاہوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ ایسے میں مسلمانوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان دینی اداروں کی بھر پور مالی امداد کریں اور انہیں ہر قسم کا تعاون و اشتراک فراہم کیا جائے۔ مساجد کے دروازے بند ہوئے ہیں لیکن ثواب کمانے اور اللہ سے مغفرت طلب کرنے کے دروازے کھلے ہیں۔ آیئے ہم دینی اداروں کی کھلے دل سے مدد کریں اور اللہ سے اس کی قبولیت کیلئے دعا مانگیں۔بے شک اللہ قبول کرنے والا ہے۔
(مضمون نگار کشمیر عظمیٰ کے سینئر ادارتی رُکن ہیں)