ڈاکٹرمحمد مہدی شرافت
پوری دنیا کی نگاہیں اس وقت مشرق وسطی پر مرکوز ہیں۔ ایران کے پڑوسی اور خطے کے سبھی ممالک تشویشن کے ساتھ اس خطرناک صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ امریکا ایران کے خلاف کوئی محدود یا ٹارگیٹیڈ جارحیت کرسکتا ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کو اس بات کا ادراک ہے کہ امریکی جارحیت کے نتیجے میں انتہائی تباہ کن جنگ شروع ہوسکتی ہے۔جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ میں ایران نے دنیا پر ثابت کردیا ہے کہ ایران جنگ پسند نہیں ہے لیکن جارحیت کو بغیر جواب کے چھوڑنے والا بھی نہیں ہے اور اس بار یہ جنگ زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے اور اس کے تباہ کن اثرات سے پوری دنیا بالخصوص علاقے کے ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
ایران سے امریکی دشمنی کی بنیاد
گیارہ فروری 1979کو انقلاب کے نتیجہ میںنیا ایران دنیا کے افق پرظاہرہوا ۔ دنیا کی مشرقی اورمغربی، امریکا اورسویت یونین، دونوں سپرطاقتوں کی نفی اس کا بنیادی عنصر تھا۔ نئے ایران کا یہی وہ بنیادی عنصر تھا جو دنیا کے لئے حیرت انگیز ہونے کے ساتھ ہی، عالمی تجزیہ نگاروں اور ماہرین کے اذہان میں اس کی بقا کے بارے میں شکوک و شبہات بھی پیدا کررہا تھا ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس دور میں یہ تصور بھی محال تھا کہ دونوں سپر طاقتوں میں سےکسی ایک سے وابستگی کے بغیر کوئي ملک اورنظام باقی بھی رہ سکتا ہے۔ اگرچہ ناوابستہ تحریک کےنام سے ایک تنظیم اس وقت بھی موجود تھی لیکن اس تحریک کے اراکین کتنے نا وابستہ تھے ،یہ محتاج بیان نہیں ہے۔
امریکا اورسوویت یونین نے دنیا کو آپس میں تقسیم کررکھا تھا اور دنیا کا ہر ملک مشرقی بلاک میں تھا یا مغربی بلاک میں ۔ ان حالات میں دونوں سپر طاقتوں کی نفی کی بنیاد پرایران میں انقلاب کے بعدنئی حکومت قائم ہوئی تو دنیا کی دونوں سپر طاقتیں متحد ہوکر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئيں ۔ عراقی صدر صدام کےذریعے جو جنگ مسلط کی گئي، اس میں دونوں سپر طاقتیں نئے ایران کے مقابلے میں تھیں۔ ایران پر انواع و اقسام کی پابندیوں کا اعلان کیا گيا، اقتصادی ناکہ بندی کی گئي ، باہر سے جنگ مسلط کرنے کے ساتھ ہی ایران کے اندر دہشت گردی کا بازار بھی گرم کیا گیا۔
راقم اس وقت انقلاب ایران کےبعد کی تاریخ دوہرانا نہیں چاہتا بلکہ صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ آج ایران کو دنیا میں جوحیثیت اور پوزیشن حاصل ہے، وہاں تک پہنچنے کے لئے اس کو کن مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ آٹھ برس کی مسلط کردہ جنگ، دہشت گردی ، سخت ترین اقتصادی ناکہ بندی اور انواع و اقسام کی پابندیوں کےباوجود دونوں سپر طاقتیں مل کرنئے ایران کو اس کے راستے سے نہ ہٹاسکیں اور نہ ہی شکست دے سکیں اوربیسویں صدی کا آخری عشرہ شروع ہونے سے پہلے ہی سوویت یونین کی شکست وریخت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
ایران کی مقاومت
بیسویں صدی کا آخری عشرہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کا عشرہ تھا۔ جس کے بعد دنیا نےیقین کرلیا کہ اب یک قطبی نظام (یونی پولر سسٹم) چلے گا اور دنیا میں وہی ہوگا جوامریکا چاہے گا۔ لیکن نیا ایران امریکا کی مرضی کے خلاف اپنے راستے پر چلتا رہا۔جنگ ختم ہونے کے بعد ایران نے تعمیر نو کےساتھ ہی اقتصادی اور معیشتی بنیادوں کے استحکام پر تیزرفتاری کے ساتھ کام کیا اورسائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف میدانوں میں حیرت انگیز ترقی کرکے دنیا پر ثابت کردیا کہ قوم میں عزم جزم ہو اور “یقیں محکم” اور”عمل پیہم ہو” تو تن تنہا کسی کی مدد اور تعاون کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے اوردنیا کی کوئي بھی طاقت اس کی ترقی و پیشرفت کو نہیں روک سکتی۔
نئے ایران کی توانائي اور پوزیشن کو سمجھنے کے لئے یہی کافی ہے کہ اس نے پابندیوں اور ناکہ بندی کے دورمیں تن تنہا سائنس و ٹیکنالوجی کےدیگر میدانوں میں خود کفالت کے ساتھ ہی پر امن جوہری میدان میں بھی وہ مرحلہ سرکرلیا کہ دنیا کی چھے بڑی طاقتوں نے اس کے ساتھ اس کی شرائط پرمعاہدہ کیا ۔اگر یہ معاہدہ ایران کی شرائط کے بجائے امریکا کی شرائط پر ہوا ہوتا تو ٹرمپ اس معاہدے سے کبھی نہ نکلتے ۔
ایران شروع سے ہی دنیا کے یک قطبی نظام میں تبدیل ہوجانےکا مخالف تھا ۔ اس نےہمیشہ یہ کہا ہے کہ یک قطبی (unipolar)نظام دنیا کے لئے خطرناک ہے اوراس کے مقابلے میں کثیر قطبی نظام کی ضرورت ہے۔یک قطبی نظام کی خطرناک کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے ایران نے سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد سے ہی کام شروع کردیا تھا ۔ایشیا میں امریکا اور نیٹو کی جارحانہ مداخلت کا راستہ بند کرنے کے لئے ایک ایسے مضبوط ایشیائي بلاک کی ضرورت ہے جس میں کوئی بھی طاقت دوسروں پر حکمرانی کی فکر میں نہ ہو بلکہ سبھی پورے ایشیا کو امریکا اور نیٹو کے اثرورسوخ سے پاک کرکے اجتماعی ترقی و پیشرفت کے بارے میں سوچیں ۔ روس، چین، پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ ہر میدان میں روابط اور تعاون کے فروغ اور مختلف علاقائي تنظیموں کی تقویت کے لئے ایران کی مساعی کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اس وقت جو صورتحال وجود میں آئی ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ ایران میں 28دسمبر2025کوتاجر برادری نے مہنگائی اور ملک کی کرنسی کی قدر میں گراوٹ کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ایران کی حکومت نے احتجاج اور مظاہرے کو عوام کا حق قرار دیا اور ان کے مطالبات پرغور کرنے کا وعدہ کیا۔ شروع کے دو تین دن تک مظاہرے پر امن رہے لیکن پھر امریکا اور صیہونی حکومت کے زرخرید عناصر نے ان مظاہروں کو ہائی جیک کرلیا اور پر امن مظاہروں کو بلووں میں تبدیل کردیا۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ حالیہ بلووں میں 3117افراد مارے گئے جن میں 2ہزار427عام شہری اور سیکورٹی اہلکار اور 690 دہشت گرد تھے اور 300سے زائد ایمبولنسیں اور بسیں، 24پیٹرول پمپ، 700دکانیں، 300رہا ئشی مکانات، 750بینک، 414سرکاری عمارتیں، 749پولیس سٹیشن، عوامی رضاکار فورس بسیج کے 120مراکز، 200اسکول اور کالج ،350مساجد، 2چرچ، 253بس اسٹاپس،600اے ٹی ایم مشینیں اور 800پرائیویٹ گاڑیاں نذر آتش کردی گئیں۔ایران نے بلووں پر قابوپانے کے بعد سیکڑوں اسرائیلی ایجنٹوں کو گرفتار اور ان کے درجنوں گروہوں کو تہس نہس کرنے کا دعوی کیا ہے۔
اب ایران کی تیاری
ایران سے امریکا اور اسرائیل کی دشمنی اور ریشہ دوانیوں کا سلسلہ چالیس سال سے جاری ہے۔ اس درمیان انھوں نے ایران کے اندر درجنوں کارروائیاں انجام دیں جن میں بے شمار عام شہری، سیاسی و مذہبی رہنما اور سائنسداں جاں بحق ہوئے ۔گزشتہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ میں ایران کے کئی سینیئر فوجی کمانڈر، اہم سائنسداں اور خواتین نیزبچوں سمیت تقریبا بارہ سو عام شہری جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا جس کو ایران نے اسرائیل کے آخری حملے کا جواب دینے کے بعد قبول کرلیا۔
ظاہر ہے کہ اس جارحیت کے بعد ایران کی مسلح افواج نے اپنی دفاعی توانائی مزید بہتر اور مضبوط بنانے کی کوشش کی ہوگی ۔ایران نے اپنے دیرینہ دشمنوں کے جارحانہ عزائم کے پیش نظر زمینی اور فضائی دفاع کے ساتھ ہی میزائلی اور بحری توانائی پر بھی کافی کام کیا ہے۔ ایران کی میزائلی دفاعی توانائیوں کا مشاہدہ دنیاگزشتہ 12روزہ جنگ میں کرچکی ہے اور گزشتہ دنوں دو میزائلی تجربات کے ذریعے دشمنوں کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ملک و قوم کا دفاع اس کی اولین ترجیح ہے۔
اس کے علاوہ ایران نے بحریہ کی طاقت پربھی کافی توجہ دی ہے اور گزشتہ دنوں صاف اور واضح لفظوں میں اعلان کیا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن دشمنوں کی ہر جارحیت کے مقابلے کے لئے پوری طرح تیار ہیں جس کا واضح پیغام یہ ہے کہ امریکی جنگ بحری بیڑے ایران کے خلاف کوئي بھی جارحیت کرکے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے محفوظ نہیں نکل سکیں گے۔ایران بارہا اپنے دشمنوں کو یہ پیغام دے چکا ہے کہ مار کے بھاگ نکلنے کا زمانہ ختم ہوچکا ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت ایرانی عوام کے خلاف جارحیت کے بعد بھاگ نکلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی۔
(مضمون نگارسحر اردو ٹی وی ،تہران کےسینئر چیف ایڈییٹرنیوز ہیں)