فکر انگیز
محمد پالن پوری
آج کی دنیا اپنی تیز رفتار ترقی اور چمکتی اسکرینوں کے ساتھ ایک ایسا نیا دامِ ہم رنگِ زمیں بن چکی ہے جہاں پرانی زنجیروں اور پابندیوں کے بجائے آزاد خیالی، رومان پرستی اور خود ساختہ محبت کے نئے نعروں کے ذریعے بیٹیوں کے دل و دماغ کو مسحور کیا جا رہا ہے۔ کبھی ڈراموں کی پرکیف داستانیں اور فلموں کی مصنوعی عشق بازی، کبھی ناولوں کی جھوٹی قربانیاں اور جھوٹی وفائیں، کبھی سوشل میڈیا کی لامتناہی چیٹ باکس اور فالوورز کے تبصرے یہ سب دراصل ایسے دلفریب جال ہیں جنہیں ریشمی دھاگوں کی طرح پیش کیا جاتا ہے، مگر اندر سے وہی زہر ہے جو کبھی یونانی داستانوں کے افسانوی جادو میں تھا اور کبھی یورپی تہذیب کے اندھے تعاقب میں۔یہ جال اتنا مہلک ہے کہ بیٹیاں جو کبھی پردہ و حیا کا سنگھاسن تھیں، اب کھلے عام اپنی معصومیت اور عفت کو محبت کے نام پر سستی مسکراہٹوں میں بیچ رہی ہیں۔ وہ محبت جو اصل میں عبادت تھی، جو اطاعتِ خدا اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع تھی، اب محض جسمانی کشش اور جذباتی دھوکہ بن کر رہ گئی ہے۔دشمن نے میدانِ جنگ بدل دیا ہے، اب وہ تلوار نہیں اٹھاتا بلکہ ایک موبائل اسکرین، ایک رومانوی ڈائیلاگ اور ایک جھوٹی تصویر ہی کافی ہے کہ مسلمان بیٹیوںکو اپنی ہی عصمت کی بنیادوں سے محروم کر دے اور سب کچھ محبت کے نام پر ہو رہا ہے۔ محبت جسے کبھی حضرت خدیجہ ؓنے حضوراکرمؐ کی اطاعت
میں قربانی بنا کر دکھایا تھا، محبت جسے حضرت فاطمہؓ نے تقویٰ اور ایثار کے ساتھ زندہ کیا تھا، محبت جسے سیدہ زینبؓ نے دین کے وقار کی حفاظت میں قربانی کے رنگوں سے رنگا تھا، آج اسی مقدس محبت کو دنیاوی جذبات کے دھندلکوں میں دفن کیا جا رہا ہے۔یہ نئے جال دراصل ایک خاموش استعمار ہے جو ایمان کی جڑوں کو کاٹ رہا ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ مسلم بیٹیاںخود ہی ان جالوں کو خوشبو سمجھ کر قریب جاتی ہیں حالانکہ وہ کانٹوں کا بستر ہیں، وہ خوشبو نہیں بلکہ زہر ہے جو رگوں میں دوڑتا ہے اور پھر دل کو خدا کے ذکر سے خالی کر دیتا ہے۔اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ بیٹیوں کو بتایا جائے محبت گناہ نہیں مگر محبت کا پیمانہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، محبت کا رشتہ نکاح کے پاکیزہ معاہدے سے ہے نہ کہ سوشل میڈیا کے دو الفاظ اور خالی وعدوں سے۔ اصل محبت وہ ہے جو جنت کی طرف لے جائے، جو عزت و عفت کا حصار بنے نہ کہ ذلت و پستی کی کھائی۔اے دخترانِ اسلام! تمہارا وقار بازار کے قہقہوں میں نہیں، نہ فیس بک کے لائیکس میں، نہ رومانوی ڈراموں کی لذت میں ہے بلکہ تمہارا وقار تو اس دن ہے جب فرشتے تمہارے پاکیزہ حجاب پر فخر کریں، جب اللہ تمہارے عفت بھرے دل کو اپنی رحمت کے قریب کر لے۔ محبت کے ان نئے جالوں کو پہچانو ورنہ یہی محبت کل قیامت کے دن ایک آگ بن کر تمہارے گریبان میں لپٹ جائے گی۔
[email protected]