مسلمانانِ ہند

اس  کے بعد ١٨٦٧ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد پڑتی ہے۔ کیا یہ فقط درس وتدریس اور تعلیم وتعلم کا ایک مرکز تھا؟ جی نہیں، بلکہ اسے ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کی تلافی کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ چنانچہ اس کے سب سے پہلے طالب علم شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمةاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند کی بنیاد میرے سامنے پڑی، اس کا مقصد یہ تھا کہ ١٨٥٧ءمیں ناکامی کے نتیجے میں مجاہدین کی جو جماعت ختم ہو گئی ہے، اور ملک کی آزادی کا ولولہ سرد پڑچکا ہے، اس کو دوبارہ زندہ کیا جاسکے، اور مجاہدین کی نئی نسل تیار کی جا سکے۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ دارالعلوم کے فرزندوں نے تحریک آزادی میں قائدانہ کردار ادا کیا اور اس وقت تک کرتے رہے جب تک انگریز یہاں سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر واپس انگلستان نہیں چلا گیا۔ یہیں سے وہ مشہورِ زمانہ تحریک ریشمی رومال چلی، جس کے ڈانڈے ایک طرف اندرونِ ملک ہوتے ہوئے آزاد قبائل اور افغانستان کی اسلامی حکومت سے ملتے تھے، وہیں دوسری طرف خلافتِ عثمانیہ ترکی سے بھی اس کا گہرا تعلق تھا اور پلان یہ تھا کہ ایک مقررہ تاریخ پر اندرونِ ملک بغاوت برپا کرکے باہر سے ترک، افغان اور آزاد قبائل کی متحدہ افواج کے ذریعے حملہ کردیا جائے۔ نتیجتًا انگریز چکی کے دو پاٹوں میں پس کر رہ جائے گا اور وطنِ عزیز بہت آسانی سے آزاد ہوجائے گا مگر شاید قسمت کو ابھی بھی ہندوستان کی آزادی منظور نہیں تھی۔ چنانچہ عین وقت پر ایک غدار رب نواز خان کی مخبری کی وجہ سے راز فاش ہوگیااور پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔ خود شیخ الہند اور ان کے رفقاء کو مکہ المکرمہ سے گرفتار کرکے مالٹا پہنچادیاگیا۔
١٣ اپریل ١٩١٩ء کو جلیاں والا باغ کا عظیم سانحہ پیش آیا، اس میں جان بحق ہونے والوں میں برادرانِ وطن کےساتھ ساتھ مسلمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد تھی جو جنرل ڈائر کی گولیوں کا نشانہ بن کر ملک کی خاطر قربان ہوئے۔ اس کے بعد  ٥ جولائ ١٩١٩ء میں تحریک ِخلافت چلی، اس تحریک نے سوئے ہوئے جذبات جگادئے اور افسردہ دلوں کے اندر آزادی کا شعلۂ جوّالہ پیدا کردیا، قائدین ِخلافت بالخصوص جوہر برادران نے اس سلسلے میں پورے ملک کا دورہ کیااور ہندوستانیوں کے دلوں سے احساسِ مرعوبیت کو ختم کرکے وہ جرأت وہمت پیدا کی جس سے وہ انگریزوں سے اپنے جائز مطالبات منواسکیں۔ پھر خلافت وفد کی انگلستان سے ناکام واپسی اور معاہدہ ٔ سیورے کی ذلت آمیز شرائط کے خلاف تحریک ِخلافت کے رہنماؤں نے تحریکِ ترکِ موالات کا فیصلہ کیا اور ہندو مسلم اتحاد کے پیش نظر حضرت شیخ الہند کے اشارے پر گاندھی جی کو رہنما بنا کر آگے بڑھایا تاکہ برادرانِ وطن کو جو اب تک تحریک ِآزادی میں بہت پیچھے تھے، وہ بھی شانہ بہ شانہ چل کر وطن عزیز کو برطانوی استعمار سے آزاد کرانے میں اپنا رول ادا کریں۔ چنانچہ مولانا عبدالباری فرنگی محلی نے خلافت فنڈ سے گاندھی جی کو پورے ملک کا دورہ کرایااور ہندو مسلم اتحاد کا چہرہ بناکر ملک کے سامنے پیش کیا۔اب آزادی کی یہ تحریک تدریجًا اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھی، مسلمانوں سمیت باشندگان ہند کا جذبۂ آزادی اپنے شباب پر تھا، وہ پھانسی کے پھندوں سمیت قید و بند کی تمام تر صعوبتیں برداشت کرنے کے لئے ذہنی طور پر اب بھی تیار تھے۔ اسی ماحول میں ٨ اگست ١٩٤٢ء کو انڈین نیشنل کانگریس اور اس کے قائد گاندھی جی نے’’ ہندوستان چھوڑو‘‘ کا وہ نعرہ دیا جو مسلمان اس سے بہت پہلے دے چکے تھے۔ کانگریس کی یہ تحریک گرچہ بوجوہ ایک ناکام تحریک ثابت ہوئی لیکن اس میں بھی قوم پرور مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔الغرض آزادی کے ابتدائی سو سال تک تنِ تنہا صرف مسلمان برطانوی سامراج سے ٹکرا کر ہر طرح کی قربانی دیتے رہے، پھر برادران وطن ساتھ آئےمگر ١٩٢٠ء تک ان کا کوئی قابل ذکر مرکزی کردار سامنے نہیں آتا۔ پھر١٩٢٠ء  کے بعد آزادی کے تیسرے اور آخری دور میں پورے جوش وخروش سے انہوں نے بھی حصہ لیامگر مسلمان اب بھی کسی سے پیچھے نہیں تھا۔ ان کی متعدد جماعتیں اور تنظیمیں : مثلا جمعیتہ علماء ہند، جماعت احرار، اور سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان کی خدائی خدمت گار وغیرہم سرگرم عمل تھیں۔ ان کے قائدین اور کارکنان قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے اور حصولِ آزادی تک قربانیاں پیش کرتے رہے۔ پھر چاہے سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج میں جنرل محمد زماں کیانی، جنرل شاہ نواز خان اور کرنل حبیب الرحمن خان کا کردار ہو، یا ١٩٤٦ء میں ممبئی اور کراچی کے بحری بیڑوں کی بغاوت میں کرنل محمد خان کا رول، جنگ ِآزادی کی تقریبادو سو سالہ تاریخ میں مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز سے سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ ہر موڑ اور ہر منزل پر اس کے توسیعی عزائم میں حائل رہے اور اس کے ناپاک چنگل سے وطن عزیز کو آزاد کرانے کے لئے ہر طرح کوشاں اور ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ۔ بقول مورخ میو راؤ گپت پوری جنگ آزادی میں پانچ لاکھ مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔الغرض ہر طرح کی قربانی دے کر ہم نےاس ملک کو آزاد کرایا، لیکن شو مئی قسمت کہ جب آزادی کا وقت قریب آیا تو وہ قومیں جو ہزاروں سال سے باہم شیر و شکر تھیں، ایک منظم سازش کے تحت انہیں آپس میں ٹکرادیاگیا اور فرقہ وارانہ فسادات کی اس آگ کو اتنا زیادہ بھڑکایا گیا کہ بظاہر یہ محسوس ہونے لگا کہ اب اس ملک میں ہندو مسلم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ پھر تقسیم کا فارمولا سامنے رکھا گیا، یہاں ہزار سالہ باہمی پیار و محبت کی تاریخ ہار گئی اور مفاد پرستی غالب آگئی اور ملک دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ بظاہر یہ ملک کی تقسیم تھی لیکن در حقیقت یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی تقسیم تھی(جیسا کہ آگے چل کر تقسیمِ پاکستان سے اس مفروضے کو اور تقویت ملی) تاکہ سیاسی طور پر برّصغیر میں مسلمانوں کو بے وزن کر دیا جائے۔ تقسیم وطن کےمذکورہ فارمولے پر گرچہ کانگر یس اور مسل لیگ کے زعمائے ہند نے اپنی دستخطوں سے مہر تصدیق ثبت کردیاتھا، تاہم مسلمانوں کی ایک معتدبہ تعداد نے مذہب کے نام پر بنائے گئے اس الگ ملک کو قبول نہیں کیا اور ہندوستان ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔ ہندوستانی آئین نے بھی ان کے حقوق کی مکمل ضمانت دی، انہیں مساوات کا حق دیا اور پھلنے پھولنے اور ترقی کرنے کا یکساں موقع فراہم کیا لیکن المیہ یہ ہے کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور ان کی ٹیم کا تیار کردہ آئین (جس کے بنانے میں ہمارے اکابر بھی شریک تھے) نے ہمیں جو حقوق عطا کئے تھے، آزادی کے بعد سے ہی اس کی پامالی لگاتار جاری ہے۔ سب سے پہلے اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دے کر اس پر شب خون مارا گیا اور اسے دیش نکالا دیا گیا۔حالانکہ اردو خالصتًا ہندوستانی زبان تھی جو یہیں پیدا ہوئی، یہیں پلی بڑھی اور پروان چڑھی اور آزادئ وطن میں قائدانہ کردار ادا کیالیکن فرقہ پرست ذہنیت کو مسلمانوں سے اس کی قربت برداشت نہیں ہوئی اور اس کو مٹانے کی ہر ممکن سعی کی گئی۔ پھر ١٩٥٠ءمیں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے دلت مسلمانوں کو ریزرویشن سے یک لخت محروم کردیا گیا۔ ایک پلاننگ کے تحت فوج، پولیس، عدلیہ، مقننہ اور دوسرے سرکاری اداروں سے ریٹائر ہونے والے مسلم اہل کاروں کی جگہ مسلم نوجوانوں کو خدمت کا موقع فراہم نہیں کیا گیا، جس سے حکومتی اداروں میں ان کا تناسب آٹے میں نمک کے برابر ہوگیا۔ بابری مسجد میں مورتی رکھ کر پہلے اسے مقفل کیا گیا، پھر ١٩٩٢ءمیں فرقہ پرست طاقتوں نے آئین و قانون کا سرِ عام مذاق اُڑاتے ہوئے دن کے اُجالے میں اُسے شہید کرکے یہاں کے مسلمانوں کو واضح طور پر یہ پیغام دے دیا کہ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ آزادی کے بعد سے فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے، ہندوستان کے جس حصے میں بھی مسلمان معاشی و اقتصادی طور پر اُبھرے، منظم طریقے پر فسادات کی آگ بھڑکاکران کی معیشت کو تباہ کر دیا گیا، عصمتوں پر ڈاکے ڈالے گئےاور قتل و خون ریزی کا ننگا رقص کیا گیا، باقی کسر ہماری بہادر پولیس مظلوم مسلمانوں کو جیلوں میں ڈال کر اور طرح طرح کے مقدمات میں پھنساکرپوری کرتی رہی، جس پر مختلف کمیشنوں کی رپورٹیں شاہد ہیں۔ تعلیم یافتہ اور برسرروزگار مسلم نوجوانوں کے مورال کو ڈاؤن کرنے کے لئے ان کی گرفتاریاں اور دہشت گردی کے فرضی مقدمات قائم کرکے دس دس سال پندرہ پندرہ سال جیلوں میں ڈال کر ان کے کیریئر کو تباہ کرنے کا مذموم سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ یہ حادثات ہی کیا کم تھے کہ ٢٠١٤ء میں بی جے پی کے مسند اقتدار پر فائز ہونے کے بعد فرقہ پرست طاقتوں نے موب لنچنگ کے عنوان سے ظلم وستم کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا، جنونی عناصر عوامی بھیڑ کے ذریعے جس کو چاہا پیٹ پیٹ کر قتل کردیا۔ دادری کے اخلاق سے لے کر حافظ جنید، پہلو خان ، فیروزل ، جے این یو کے نجیب اور اکبر خان سمیت کتنے ایسے معصوم ہیں، جو ان کے ظلم کا نشانہ بنے۔ طرّہ یہ کہ علا نیہ طور پر یہ لوگ اپنے ان مذموم کرتوتوں کا ویڈیو بنا کر سوشل سائیٹس پر ڈال دیتے ہیں۔ ان کے دلوں میں قانون کا کوئی خوف نہیں اور ہو بھی کیوں؟ جب فرقہ پرست لوگوں کے مضبوط اور بااختیار ہاتھ ان کی پشت پر ہیں، پھر خواہ گھر واپسی کا مسئلہ ہو یا طلاق ثلاثہ کا، یکساں سول کوڈ یا علی گڈھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ کے اقلیتی کردار کا معاملہ ہو، یا دھارمک تعصب پر مبنی آسام میں نافذ کیا گیا شہریت کا رجسٹر ہو، فرقہ پرستوں کی ان تمام مسائل میں گہری دلچسپی ہے ،جس سے کمیونل پولرائیزیشن ہو سکے اور وہ اقتدار کے بل پر ما بقیہ پر یواری یا ہندوتو مقاصد کی تکمیل کرسکے۔
خلاصہ یہ کہ آزادی میں مسلمانوں کی عدیم المثال قربانیوں اور پیش قیمت ایثار کا صلہ آزاد ہندوستان میں یہ ملا کہ عملًا وہ دو نمبر کے شہری بنادئے گئے ہیں اور سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ان کی حالت دلتوں سے بھی بدتر ہو چکی ہے۔ اور آج حقیقت یہ ہے کہ خوف کا ایک ماحول ہے جس میں مسلمان جی رہا ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان کیا کریں جس سے ان کا مستقبل روشن ہو؟اور وہ ایسی باوقار زندگی بسر کر سکیں جس میں ان کا مذہبی تشخص، ملی وقار اور تجارت ومعیشت محفوظ رہےاور برادران وطن کے شانہ بہ شانہ ترقی کی شاہراہ پر وہ بھی بلا خوف و ہراس دوڑ سکیں اور ہندوستان کو دوبارہ سونے کی چڑیا بنانے میں اپنا ایک کلیدی کردار ادا کر سکیں ؟ اس سلسلے میں ہمیں دنیا کی سب سے سچی کتاب قرآن سے رجوع ہونا پڑےگا، خالقِ کائنات نے بہت صاف الفاظ میں آج سے چودہ سو سال پہلے ہی اعلان کردیا تھا: ’’اگر مومن کامل بن کر رہے تو تم ہی سر بلند اور کامیاب و کامراں رہوگے۔‘‘ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مقام جابیہ میں اپنے کمانڈروں کو مخاطب کرتے ہوئے اسی نکتے کی طرف اشارہ کیا تھاکہ دنیا میں ہم سب سے زیادہ ذلیل تھے، پس اسلام نے ہمیں عزت و سربلندی عطا فرمائی، پس جب بھی اس چیز کے علاوہ میں عزت تلاش کریں گے جس کے ذریعے اللہ نے ہمیں عزت دی، اللہ تعالیٰ ہمیں ذلیل و رسوا کر دے گا۔ہماری پوری چودہ سو سالہ تاریخ ایک کھلی کتاب کی مانند ہمارے سامنے ہے۔ تاریخ کے جس دور میں بھی ہم نے مذکورہ بالا ہدایات سے سرتابی کی ذلیل و رسوا ہوئےاور جب بھی ہم اس پر عمل پیرا ہوئے، گرچہ ہماری تعداد تھوڑی رہی ہو، اسباب ووسائل کا فقدان رہا ہو، لیکن نصرتِ خداوندی کی بدولت کامیابی نے بڑھ کر ہمارے قدم چومے۔ ہم ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ہماری یہ روشن تاریخ ایک رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ ا س وقت جب نریندر مودی نے دوسری بار وزرات اعظمیٰ کا منصب سنبھالا ،انہوں نے پارٹی اراکینِ پارلیمان سے اپنےاولین بھاشن میں ایک اچھا پیغام دیا : سب کا ساتھ، سب کا وکاس ،سب کا وشواس۔اس پیغام میں پوری قوم اور ملک کی ا قلیتوں کے لئے ایک بہت ہی مفید لائحہ عمل پوشیدہ ہے بشرطیکہ اسے ریاستی پالیسیوں کی عملی روح بنایا جائے۔ اب وقت کا مورخ دیکھے گا کہ اگلے پانچ سال میں سب کا وشواس جیتنے کی کاوشیں مودی سرکار نے کہاں تک کیں ۔ 
آج ملکی یا عالمی سطح پر مسلم بیزار لہروں کے بیچ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کی آفاقی تعلیمات کو مکمل طور پر اپناکر دین کامل کا جیتا جاگتانمونہ بنیں اور اپنے عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق کو صد فیصد اسلامی تعلیمات کے مطابق بنائیں۔ برادران وطن کو بھی اس قرآنی حکم کے تحت :بلاؤ راہِ خدا کی طرف دانائی اور دل سوز انہ نصائح کے ساتھ ‘‘۔ انہیںنرم خوئی کے ساتھ ،پیار محبت کے ساتھ اور اَحسن طریقے پر اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں، اپنے معاملات کی سچائی اور اخلاق کی بلندی کا گرویدہ بنائیں، پڑوسیوں کےساتھ حسن سلوک کا معاملہ کریں، اپنی صفوں میں کلمے کی بنیاد پر اتحاد پیدا کریں، مسلکی نزاع میں بالکل نہ پڑیںبلکہ مسلکی نزاع کھڑا کرنے والوں کا سوشل بائیکاٹ کر کے انتشار وافتراق کی حوصلہ شکنی کریں، کیونکہ یہ مسلکی تنازعات اسلام کے خلاف عَلم بغاوت ہی نہیں بلکہ یہ ملت کے وقار کے لئے زہر ہلاہل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اپنے نونہالوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی ترقی کی واحد شاہِ کلید ہے۔ ہمارے صاحبِ ثروت حضرات بھی آگے آئیںاور جامع منصوبہ بندی کے ساتھ خدمت اور بزنس کے اعلیٰ وارفع مقصد سے مسلم علاقوں میں جا بہ جا معیاری اسکول اور کالجز قائم کرکے نسلِ نو کے مستقبل کو سنوارنے کا کام کریں۔ بیاہ شادی جیسی تقریبات میں فضول خرچی سے کلیةًاحتراز کرتے ہوئے سادگی اختیار کی جائے، خدمتِ خلق اللہ اور رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے اور انفرادی واجتماعی سطح پر ہر وہ بہتر کام کیا جائے جس سے ملت کے وقار میں اضافہ ہو اور ہر اس کام سے بچا جائے جس سے اس ملّی کاز کو یا جتماعی وقومی مفاد کو ٹھیس پہنچے۔ جہدِ مسلسل اور عملِ پیہم کو اپنا شعار بنایا جائے۔ یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جنہیں اگر ہم اپنا لیں تو انشاءاللہ تنزل وانحطاط کا یہ تاریک دور ختم ہوجائے گا اور ہم اپنے آباؤ اجداد کی طرح ہندوستان میں ایک باوقار ملت کی حیثیت سے سر اُٹھاکر رہ سکیں گے۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ (ختم شد)