بے روز گاری سے نوجوان طبقہ پریشان
پولیس بھرتی میں عمر کی حد 34برس کرنے کا مطالبہ
عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی // جموں و کشمیر میں یوٹی میں بے روزگاری عروج پر پہنچ چکی ہے جس کے نتیجے میں اعلی تعلیم یافتہ نوجوان کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ بے روز گاری کو دیکھتے ہوئے جموں وکشمیر پولیس میں سب انسپکٹروں کی بھرتی کےلئے عمر کی آخری حد کو 28برس سے بڑھا کر 34برس کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اپنی قسمت آزمائی کا موقعہ مل سکے ۔ سماجی کارکن انجینئر ارشد اعجاز خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھرتی کی عمر 28 سال سے بڑھا کر 34 سال کی جائے تاکہ پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کو اس سے فائدہ پہنچے۔ ارشد خان نے مزید کہا کہ 2010 میں گریجویشن کرنے والے امیدواروں کو بطور پولیس سب انسپکٹر صرف ایک موقع ملا جبکہ یہاں کے پڑھے لکھے ہزاروں نوجوانوں کو اس طرح کے لاتعداد مواقع کی تلاش ہے کیونکہ بےروزگاری حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور آسمان چھوتی مہنگائی نے مزدور پیشہ افراد کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی باقی ریاستوں کی طرح یو ٹی جموں کشمیر کے نوجوانوں کو بھی تمام طرح کی سہولیات بہم پہنچائی جائیں تاکہ ان کی پریشانیوں کا ازالہ ہوسکے۔
ڈگری کالج منڈی عمارت کے بغیر
طلباء4برسوں سے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور
عشرت حسین بٹ
منڈی// ضلع پونچھ کے سرحدی علاقہ تحصیل منڈی کا گورنمنٹ ڈگری کالج 4 برسوں سے دو کمروں اور ایک دفتر میں چلایا جا رہا ہے اگر چہ سرکار کی جانب سے کالج عمارت کےلئے مختلف مقام پر اراضی بھی دیکھی جا رہی ہیں مگر ابھی تک یہ نہیں طے ہو پایا کہ کالج کی عمارت کہاں تعمیر کی جائے گی۔ واضح رہے کہ چار برس قبل سرکار کی جانب سے جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں ڈگری کالجز دینے کا اعلان کیا گیا تھا جس دوران منڈی تحصیل کو بھی سرکار کی جانب سے ڈگری کالج دیا گیا تھا جس کی وجہ سے تحصیل منڈی کے طلباءو طالبات نے اپنی اعلی تعلیم کے حوالے سے راحت کی سانس لی تھی اگر چہ اس وقت ڈگری کالج میں تدریسی نظام چلایا جا رہا ہے مگر جس عمارت میں یہ سلسلہ چلایا جا رہا ہے وہ عمارت محض تین کمروں پر مشتمل ہے جس میں 150سے زاید طلباءو طالبات اپنی تعلیم حاصل کر رہے ہیں یہ عمارت محکمہ دیہی ترقی کی پرانی عمارت ہے جس میں گزشتہ چار برسوں سے کالج کا کام کاج چلایا جا رہا ہے اور چار برس گزر جانے کے بعد بھی کالج کی عمارت تعمیر نہ ہو سکی ۔جگہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے صاف موسم میں بھی طلباءکو کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے اور بارشوں کے دنوں میں یا تو طلباءکالج کا رخ ہی نہیں کرتے یا تو ایک ہی کمرے میں پرائمری اسکول کے بچوں کی طرح تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے ۔کالج کے متعدد طلباءنے بتایا کہ کالج عمارت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں 3برس سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم یا تو کھلے اسمان تلے تعلیم حاصل کرتے ہیں یا بارشوں کی وجہ سے ایک ہی کمرے میں بیٹھتے ہیں ۔ محمد اشفاق نامی ایک طالب علم نے بتایا کہ کالج کےلئے مختلف مقامات پر اراضی دیکھی گئی لیکن ابھی تک کالج کی عمارت کےلئے زمین کا تعین نہیں ہو پایا جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے ۔ڈگری کالج منڈی کے انچارج اور پروفیسر اورنگزیب نے بتایا کہ کالج کی تعمیر کےلئے اعظم آباد علاقہ میں زمین کا تعین کیا گیا تھا مگر اس پر زمین ماکلان نے نوکری اور زمین معاوضہ نے ملنے پر عدالت سے کام پرروک لگا دی ہے جس کی وجہ سے کالج کی عمارت کا تعمیری کام شروع نہیں کیا گیا ان کا کہنا تھا کہ سرکار نے راجپورہ کے مقام پر اب زمین کا معاینہ کیا ہے ۔
سرنکوٹ میں سبزیوں کی قیمتیں آسماں چھونے لگی
بختیار کاظمی
سرنکوٹ//سرنکوٹ قصبہ میں سبزیوں کی قیمتیں آسمان چھونے لگی ہیں تاہم سبزی فروشوں کی جانب سے انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ریٹ لسٹوں کو کوئی عمل ہی نہیں کیا جارہا ہے ۔قصبہ کے مکینوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ حکام کی لاپرواہی کی وجہ سے دکانداروں کی جانب سے ان کو لوٹا جارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سرنکوٹ میں مہنگائی بالخصوص سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں حکام پوری طرح سے ناکام ہو گئے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ سبزی فروشوں کی جانب سے جان بوجھ کر سبزیاں اضافی قیمتوں پر فروخت کی جارہی ہیں جبکہ قیمتوں کے سلسلہ میں شکایت کرنے پر دکانداروں کی جانب سے ان کےساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے ۔دوسری جانب سبزی فروشوں نے بتایا کہ سبزیاں جموں سے لائی جارہی ہیں جبکہ منڈی میں ریٹ زیادہ ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کو بھی مہنگے داموں پر سبزیا ں فروخت کرنا پڑرہی ہے ۔مقامی لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سبزیوں کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے ۔
خواص میں بجلی نظام انتہائی غیر معیاری
ترسیلی لائنیں درختوں کےساتھ لٹکی ہوئی
محمد بشارت
کوٹرنکہ //سب ڈویژن کوٹرنکہ کی تحصیل خواص میں میں بجلی کے غیر معیاری ترسیلی نظام کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔صارفین نے بتایا کہ تحصیل کی پنچایت بڈھال میں بجلی کی ترسیلی لائنیں سبز درختوں کےساتھ ساتھ لکڑی کے کھمبوں کےساتھ آویزاں ہیں جس کی وجہ سے صارفین و مویشیوں کےلئے ہر وقت خطرہ لائق رہتا ہے ۔صارفین نے بتایا کہ کئی جگہوں پر بجلی کی لائنوں کی زمین سے اونچائی صرف پانچ فٹ تک ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو گزرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔انہوں نے محکمہ کے ملازمین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ متعدد مرتبہ رجوع کرنے کے باوجود بھی اس جانب کوئی دھیان نہیں دیاجارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بجلی کے کھمبے ا ب بوسیدہ ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے اکثر دیہات میں بجلی کی سپلائی بھی متاثر رہتی ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ بجلی سپلائی کو معیاری بنانے کےلئے محکمہ کو ہدایت جاری کی جائیں تاکہ نئے اور پختہ کھمبوں کو نصب کیا جائے ۔
ماسٹر عبدالاحد نائیک وفات پا گئے
عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی // سب ڈویژن تھنہ منڈی کے رہائشی ماسٹر عبد الاحد مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ اٹھارہ دنوں سے جموں میڈیکل کالج میں زیر علاج تھے جہاں ہفتہ کے روز صبح پانچ بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ان کی عمر 60 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔عبدالاحد نائیک گزشتہ سال محکمہ تعلیم سے سینئر استاد کے باوقار وقار عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے۔ مرحوم کی نماز جنازہ ہفتہ کے روز ساڑھے تین بجے راجدھانی میں ادا کی گئی جس میں کئی سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مرحوم نہایت ہی آسودہ خصائل، نرم دل اور انسان دوست شخصیت کے ساتھ ساتھ نہایت ہی شریف النفس اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ علاقہ بھر سے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے مرحوم کے اچانک انتقال کو پورے علاقے کےلئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔اس موقع پر تھنہ منڈی کی کئی دینی سیاسی اور سماجی شخصیات نے پسماندگان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی حتمی بخشش و مغفرت اور جنت نشینی کےلئے خصوصی دعا کی ہے۔