نئی حد بندی سے قبل پہاڑیوں کو ایس ٹی کا درجہ دینے کی مانگ
جاوید اقبال
مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن سے تعلق رکھنے والے پہاڑی قبائل کے معززین نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیر میں ہونے والی نئی حد بندی سے قبل پہاڑیوں کو ایس ٹی کا درجہ دیا جائے تاکہ آئندہ اس پسماندہ قبائل کی فلاح و بہبود ممکن بنائی جاسکے ۔معززین نے کہاکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پہاڑی قبائل کے لوگوں ایک منفرد شناخت رکھنے کے باوجود بھی ایس ٹی کے درجے سے محروم ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت پہاڑی قبائل کے طلباء اعلیٰ تعلیم کیساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نوکریاں حاصل کرنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں جبکہ مذکورہ قبائل کے لوگ مرکزی حکومت کی جانب سے نکالی جارہی پوسٹوں کے اہل بھی نہیں ہو سکتے ۔انہوں نے سابقہ تمام حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ پہاڑی قبائل کو محض ووٹ بینک کے طورپر استعمال کیا جاتا رہا ہے جبکہ ان کی تعمیر و ترقی کیلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ اگر بھا جپا کی مرکزی حکومت پہاڑی قبائل کی مانگیں پوری کرتی ہے تو آئندہ مذکورہ طبقہ کی حمایت صرف بھاجپا کیلئے ہی ہو گی ۔
درہ سانگلہ میں بیداری کیمپ لگانے کی مانگ
بختیار کاظمی
سرنکوٹ// سرنکوٹ کی دور افتادہ پنچایت درہ سانگلہ کے لوگ مرکزی معاونت سے چلائی جانے والی سکیموں سے محروم ہیں جبکہ مکینوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت کیساتھ ساتھ جموں وکشمیر حکومت کی جانب سے چلائی جارہی فلاحی سکیموں کے بارے میں عوام کو بیداری کرنے کیلئے درہ سانگلہ میں ایک بیداری کیمپ کا اہتمام کیا جائے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ گائوں میں ایک طرف موبائل نیٹ ورک دستیاب نہیں ہے تو دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے عوام کو مختلف سکیموں کیلئے بیدار کرنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھا یا جارہا ہے ۔مقامی معززین نے کہا کہ ہر ایک پنچایت میں فارسٹ رائٹ ایکٹ کے تحت کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں لیکن مذکورہ گائوں میں عوام کو اس ایکٹ کے زمرے میں لانے کیلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کی جائیں تاکہ لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیساتھ ساتھ گائوں میں بیداری کیمپ منعقد کئے جائیں ۔
تھنہ منڈی میں آئی ٹی آئی کالج کھولا جائے :عوام
عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی// سب ڈویژن تھنہ منڈی کی عوام نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ طلباء کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کیلئے تھنہ منڈی میں ایک آئی ٹی آئی کالج کا قیام عمل میں لایا جائے ۔انہوں نے کہاکہ اس ترقی یافتہ دور میں نوجوانوں کو اپنی جدید تعلیم و صنعت و حرفت سے آگاہ کر نے کیلئے علاقہ میں کوئی بھی ٹیکنیکل کالج قائم نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مختلف شعبوں میں دلچسپی رکھنے والے نوجوان راجوری اور جموں وکشمیر کے دیگر حصوں میں در بدر ہونے پر مجبور ہیں ۔مقامی معززین نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ’سکل ڈیولپمنٹ اور سٹینڈ اپ انڈیا ‘جیسے پروگرام شروع کئے ہوئے ہیں تاکہ نوجوان اپنا روز گار خود تیار کرسکیں لیکن اس کے باوجود بھی تھنہ منڈی جیسے پسماندہ علاقہ میں نوجوانوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کے تھنہ منڈی کی غریب عوام بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے تھنہ منڈی میں آئی ٹی آئی کالج کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں نوشہرہ و سندربنی میں عرصہ دراز سے مذکورہ کالج قائم و دائم ہیں تو پھر تھنہ منڈی کے ساتھ یہ سوتیلا سلوک نہیں رواں رکھا جانا چاہئے ۔لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ علاقہ میں ٹیکنیکل کالج کا قیام عمل میں لایا جائے ۔
پونچھ حد متارکہ سے نو عمر لڑکا گرفتار
سمت بھارگو
راجوری //فوج نے پونچھ ضلع کی حد متارکہ پر ایک پاکستانی زیر انتظامیہ جموں وکشمیر کے نو عمر لڑکے کا حراست میں لے لیا ۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر تعینات فوجی دستوں نے ایک نوجوان لڑکے کو حراست میں لیا جس کا تعلق مبینہ طور پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہے اور اس سے مقامی فوجی کیمپ میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔حکا م نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جمعرات کی سہ پہر ایک نوعمر لڑکے کو لائن آف کنٹرول پر پونچھ سیکٹر کے چکا ندا باغ علاقے کے قریب حد متارکہ پر فوجی اہلکاروں نے روک کر اس کو حراست میں لے لیا ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ لڑکا پا کستانی زیر انتظام جموں وکشمیر کا ہے تاہم وہ حد متارکہ عبور کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ نوجوان لڑکے کو قریبی فوجی کیمپ میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ٹیم اس سے پوچھ تاچھ کررہی ہیں ۔لڑکے کی شناخت عماد علی کے طورپر ہوئی ہے جبکہ اس کا تعلق ترنوٹ گائوں سے بتایا جارہا ہے ۔ایس ایس پی پونچھ نے بتایا کہ لڑکا ابھی تک فوج کی تحویل میں ہے تاہم اس کو پولیس کے حوالے کرنا ابھی باقی ہے ۔
نوشہرہ کالج میں آن لائن لیکچر
رمیش کیسر
نوشہرہ //گور نمنٹ ڈگری کالج نوشہرہ کے سنسکرت شعبہ کی جانب سے آزادی کے امرت مہا اتسو کی مناسبت سے ایک آن لان لیکچر کا اہتمام کیا گیا ۔’ویدک سودھاشا سنسکر‘کے عنوان سے منعقدہ آن لائن لیکچر کا اصل مقصد طلباء کو 16 'ویدک سنسکار' سے آشنا کرنا تھا ۔پرنسپل ڈاکٹر سریندر شرما کی سرپرستی میں منعقد ہ پروگرام میں لیکچر ڈاکٹر ممتا شرما اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سنسکرت، جی سی ڈبلیو، پریڈ جموں نے پروگرام کی مناسبت سے تفصیلی روشنی ڈالی ۔انہوں نے تمام 16 ویدک سنسکاروں کی تفصیل سے وضاحت کی اور موجودہ حالات میں ان کی اہمیت بتائی۔ اس نے تمام سنسکاروں جیسے ’گربھدھن‘نامکرن‘منڈن‘اپنائن‘ویواہ' وغیرہ کی وضاحت کی۔ اس تقریب میں بڑی تعداد میں طلباء اور فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ پروگرام کا اہتمام ڈاکٹر گورو شرما، شعبہ سنسکرت نے کیا تھا۔
لورن۔ٹنگمرگ سڑک اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجودتیار نہ ہو سکی
انصاف موومنٹ کے بینر تلے لوگوں کااجلاس، مزید فنڈز وگزار کرنے کی مانگ
حسین محتشم
منڈی//ضلع پونچھ بالخصوص تحصیل منڈی کو وادی کشمیر سے ٹنگمرگ کے راستے جوڑنے والی 42 کلو میٹر شاہرہ، جس کا کام نومبر 2015 میں سابق وزیر اعلی مرحوم مفتی محمد سعید نے کیا تھا تین سال کے وقت کے اندر مکمل کرنی تھی لیکن ابھی تک اس کا ایک کلو میٹرحصہ بھی مکمل نہیں ہو سکا ہے ۔اس سلسلہ میں لوگوں کی جانب سے انصاف موئو منٹ کے بینر تلے ایک اجلاس کا اہتمام کیا گیا ۔جموں و کشمیر انصاف موومنٹ کے بینر تلے منعقدہ اجلاس میں سبکدوش پرنسپل شیخ محمد یوسف، محمد ظفر اور دیگران نے کہا کہ تین سال کے اندر اس سڑک کو مکمل کرنا تھا مگر بد قسمتی سے اس کو چھ سال سے ابھی تک ایک کلو میٹر تک بھی مکمل نہیں کیا جا سکا ہے۔ انہوں نے اس سڑک کے کام کو بند کرنے کی وجہ بتائی جائے کہ آیا اس سڑک کے فنڈز ختم ہو چکے ہیں۔انہوں نے اس سڑک کو دوبارہ شروع کرنے کی مانگ کی۔ اس موقع پر موومنٹ کے چیئر مین جاوید اقبال ریشی نے کہا کہ یہ سڑک پورے ضلع پونچھ کو ایک سو کلو میٹر کے اندر سرینگر شہر تک پہنچایاجاسکتا ہے جبکہ جموں پونچھ سے ڈھائی سو کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ منڈی پہاڑی علاقہ ہے جہاں حادثات، ریچھ کے حملے اور دیگر خطرناک حملے رہتے ہیں تو ایسے میں سرینگر ہسپتال پہنچنے کیلئے یہ شاہرہ سب سے کامیاب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش چند کنال زمینوں پر تھا جہاں سے آلو، راجماش اور مکئی کی فصل اگا کر گھر چلاتے تھے، ان سے ان کا نوالا چھین لیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے اپیل کی کہ جہاں سے یہ سڑک نکلی ہے وہیں سے سڑک کو نکال کر اس کو مذید توسیع دی جائے تاکہ ان کی زمینوں کا نقصان نہ ہو۔ ریشی نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کی مانگ کو ضلع کمشنر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر تک پہنچا کر مسایل ک حل نکالا جائے گا۔ انہوں نے اس سڑک کیلئے مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مزید فنڈز کی واگزاری کی اپیل کی ہے۔
رہبر کھیل اساتذہ کو مستقل کرنے کا مطالبہ
حسین محتشم
پونچھ//رہبر کھیل اساتذہ نے انکی مستقلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی جانب سے ان کی مانگوں کی جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔رہبر کھیل ایسوسی ایشن کے ترجمان پرویز ملک آفریدی نے کہاکہ رہبر کھیل اساتذہ کے ساتھ ناانصافیوں کا بند نہیں کیا جا رہا ہے جس سے وہ تنگ آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ اساتذہ مختلف شہری اور دیہی علاقوں میں کھیل کود کو فروغ دینے میں حکومت کی معاونت کرتے ہیں جن کی ماہانہ تین ہزار روپے اجرت ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر روز سکول پہنچنے کیلئے انکو دو سو روپے کا پیٹرول خرچ ہوتا ہے جبکہ حکومت انکو محض ایک سو روپے یومیہ اجرت دیتی ہے، جو اس پڑھے لکھے طبقہ کے ساتھ بھدا مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ منریگا کے مزدور بھی یومیہ 214 روپے اجرت لیتے ہیں جبکہ دیگر مزدور دن کا پانچ سو سے سات سو روپے تک کماتے ہیں مگر اس تعلیم یافتہ طبقہ کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل برداشت ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے ان اساتذہ کو ادھار مانگ کر جھڑکیں کھانا پڑتی ہیں جس سے وہ پریشان حال ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے گزارش کی ہے کہ ان اساتذہ کو جلد از جلد مستقل کیا جائے تاکہ یہ بھی سماج میں عزت کی زندگی گزار سکیں۔
نیلی پنچایت میں پانی کی پاپئیں بوسیدہ
پرویز خان
منجا کوٹ //تحصیل منجا کوٹ کی پنچایت نیلی میں پانی سپلائی نظام خستہ حال ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کو پانی کی شدید قلت درپیش ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ محکمہ جل شکتی کی جانب سے بچھائی گئی پاپئیں اب بوسیدہ ہو چکی ہیں جبکہ ملازمین کی جانب سے ان بوسیدہ پائپوں کی نہ تو مرمت کی جارہی ہے اور نہ ہی نئی پاپئیں نصب کی جارہی ہیں ۔مکینوں نے بتایا کہ پاپئیں بوسیدہ ہونے کی وجہ سے اب سپلائی ہی بند ہوگئی ہے لیکن ملازمین نہ تو ڈیوٹی پر حاضر ہو رہے ہیں اور نہ متعلقہ آفیسران ان کو ڈیوٹی کیلئے پابند کررہے ہیں جس کے نتیجے میں عوام کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔انہوں نے محکمہ جل شکتی اور مقامی انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم ہی نہیں کی جارہی ہیں ۔مکینوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ بوسیدہ پاپئیں جلدازٹھیک کرکے پانی کی سپلائی بحال کرنے کیساتھ ساتھ لاپرواہ ملازمین کیخلاف بھی کارروائی عمل میںلائی جائے ۔