سی آئی آئی کی سپیکر کو مبارک باد
جموں //کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کا ایک وفد آج یہاں جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر ڈاکٹر نرمل سنگھ سے ملاقی ہو ااور انہیں سپیکر کا قلمدان سنبھالنے پر مبارک باد دی۔ وفد کی قیادت چیئرمین سی آئی آئی، جے اینڈ کے سٹیٹ کونسل اور ایم ڈی ریلائبل پلاسٹکس پرائیویٹ لمٹیڈ راہو ل سہائے کر رہے تھے۔
۔ انڈیا سکل کمپی ٹیشن2018
20 سکلڈنوجوان ریاست کی نمائندگی کریںگے
سرینگر //ریاست جموں وکشمیر کے20 سکلڈ نوجوان انڈیا سکل کمپی ٹیشن۔2018 کے لئے منتخب کئے گئے ہیں۔ اس بات کا اظہاراعلیٰ و تکنیکی تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر مولوی عمران رضا انصاری نے یہاں کیا۔اس سے قبل وزیر موصوف نے ریجنل سطح کے سکل کمپی ٹیشن میں شریک ہونے والے اُمیدواروں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔شرکاء اُمیدوار قومی سطح کے کمپی ٹیشن میں حصہ لیں گے جو جولائی2018 میں منعقد ہوگا۔ اس کے بعد یہ اُمیدوار ورلڈ سکلز کمپی ٹیشن۔ روس 2019 میں شرکت کریں گے۔وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت نے اس سلسلے میں ریاست میں ایک دو روزہ سکل اور انٹرپرنیور شِپ کنکلیو منعقد کیا جس کا نام تلاش رکھا گیا تھا ۔ انہوں نے جے کے ایس ڈی ایم کی ان کوششوں کو سراہا جو انہوں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ابھارنے اور ان کے اندر ہُنر کی نشاندہی کرنے کے لئے انجام دیں۔مولوی عمران رضا نے کہا کہ حکومت آئی ٹی آئیزاور سکل سے وابستہ دیگر اقدامات کو فروغ دینے پر غورکر رہی ہے تا ہم انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے سامنے ایک بڑا چیلنج اور حکومت گریجویشن، ماسٹرز اور ڈاکٹورل سطحوں پر طُلاب کو مختلف ہُنروں سے جانکاری فراہم کرنے جارہی ہے۔مشن ڈائریکٹر جے کے سکل مشن ڈاکٹر پیر غلام نبی سہیل کے مطابق ریاست کے طُلاب کی ایک ٹیم لکھنؤ اُتر پردیش میں منعقد ہونے والے ریجنل سطح کے سکل مقابلوں میں حصہ لے گی جو ورلڈ سکلز انڈیا کے تحت31 مئی سے2 جون2018 تک منعقد ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کے علاوہ اس مقابلہ میں یو پی، اترا کھنڈ، چنڈی گڑھ اور پنجاب بھی حصہ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان مقابلوں میں باصلاحیت پائے جانے والے نوجوانوں کو روس میں منعقدہ ورلڈ سکلز کمپی ٹیشن میں حصہ لینے کے لئے بھیجا جائے گا جو سال2019 میں منعقد ہوگا۔
۔25 کلوگرام بھکی ضبط، سمگلرگرفتار
جموں//ایس ایس پی جموں وویک گپتا(آئی پی ایس) کی طرف سے منشیات مخالف کے تحت گنگیال پولیس نے ایک منشیات سمگلرکے قبضے سے 25کلوگرام بھکی ضبط کرکے اسے گرفتارکرلیاہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق گنگیال پولیس کی طرف سے معمول کی طرح کنجوانی چوک میں لگائے گئے ناکے پرایک ٹرک زیرنمبرJK21-5695 کوروکاگیاجونروال سے بڑی براہمناں کی طرف جارہاتھالیکن ڈرائیورنے پولیس کودیکھتے ہی بھاگنے کی کوشش کی ،ا س پرپولیس نے ٹرک کاپیچھاکرکے ڈرائیورکودبوچ لیا۔دوران تلاشی ٹرک سے 25کلوگرام بھکی برٓامدکی گئی پولیس نے ٹرک ڈرائیورکوگرفتارکرکے اس کے خلاف ایف آئی آرنمبر 48/2018 زیردفعہ 8/15 ، این ڈی پی ایس ایکٹ معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کرد ی ہے۔ پولیس کے مطابق سمگلرکی شناخت سیٹھی رام ولدگھاری رام ساکن بلوال تحصیل رام نگرضلع سانبہ کے طورپرہوئی ہے۔ پولیس نے یہ کامیابی ایس آئی نائت علی ایس ایچ او گنگیال، اورایس ڈی پی اوسٹی سائوتھ جموں محمدرفیق منہاس اورایس پی سٹی سائوتھ جموں سندیپ چودھری کے تعاون سے حاصل کی۔
آنگن واڑی ورکروں وہیلپروں کی کام چھوڑہڑتال کا112واں دن
عظمیٰ نیوز
جموں//محکمہ سماجی بہبودکے آئی سی ڈی ایس پروجیکٹ کے تحت تعینات آنگن واڑی ورکر اورہیلپراپنے مطالبات کولے کرکام چھوڑہڑتال کے 112واں دن بھی شدومدسے جاری رہی ۔تفصیلات کے مطابق منگل کے روزآنگن واڑی ورکرز اینڈہیلپرس یونین جموں کے پرچم تلے سمن سوری کی قیادت میں پریس کلب کے باہراحتجاجی دھرنادیا۔اس دوران یہ ورکر اپنے مطالبات جن میں آنگن واڑی ورکروں کی ماہانہ اجرت میں اضافہ اورواجب الادامشاہروں کی ادائیگی سرفہرست ہیں کی حمایت اورریاستی حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہی تھیں۔اس دوران میڈیاسے بات کرتے ہوئے سمن سوری نے کہاکہ ہم اپنے مطالبات کولے کرلگ بھگ گذشتہ سودنوںسے احتجاجی ریلیاں اوردھرنے دے رہی ہیں لیکن اس کے باوجودسرکارہماری مانگوں پرکوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کوچاہیئے کہ وہ آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی جائزاوردیرینہ مانگوں کوپوراکرنے کی منظوری دیں ۔انہوں نے کہاکہ اگرحکومت نے ہماری مانگیں پوری نہ کیں توہم اپنے احتجاج میں شدت لانے کیلئے مجبورہوجائیں گے ۔سمن سوری نے مزیدکہاکہ آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کوبالترتیب 3600اور1800روپے ماہانہ معمولی سا مشاہرہ دیاجاتاہے لیکن دہلی ودیگرریاستوں میں آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی تنخواہ بالترتیب 10ہزاراور6ہزارروپے ماہانہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ جوکام یہاں پرآنگن واڑی ورکرس کرتی ہیں ،وہی کام دہلی ودیگرریاستوں کی ورکرس بھی کرتی ہیں توپھرتنخواہ میں تفاوت اورناانصافی کیوں ؟۔انہوں نے کہاکہ تاحال ہم ریاستی حکومت سے مایوس ہیں لیکن وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے امیدکرتی ہیں کہ بحیثیت خاتون ہمارے جذبات کی قدرکریںاورہماری مانگوں کوپوراکرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہماری ہڑتال کی وجہ سے گذشتہ 100دنوں سے پورے خطے کے آنگن واڑی مراکزبندہیں۔آنگن واڑی ورکروہیلپر احتجاجی مظاہرے کے دوران مشاہرے میں اضافہ اورواجب الادا مشاہروں کی ادائیگی کے علاوہ سینارٹی فہرستیں جاری کرنے ، پنشن سکیم لاگوکرنے اورریٹائرمنٹ کے وقت آنگن ورکروں اورہیلپروں کے حق میں بالترتیب دولاکھ اورایک لاکھ گریجویٹی منظورکرنے کی مانگیں کررہی تھیں۔قابل ذکرہے کہ ریاست جموں وکشمیرمیں لگ بھگ 28ہزارآنگن واڑی ورکراورہیلپرس کام کررہی ہیں۔