۔33788 شکایات موصول
۔ 36834 کو حل کیلئے بھیج دیا گیا
جموں//ریاست میں 20 جون سے گورنر راج کے نفاذ سے لیکر 30 نومبر 2018 تک گریوونس سیل کو کُل 33788 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 32672 شکایات متعلقہ کوارٹروں کو بھیج دی گئیں تا کہ انہیں حل کیا جا سکے ۔ اس کے علاوہ 724 شکایات زیر عمل ہیں ۔ اسی طرح گورنر کی ہدایات کے مطابق گورنر کے چاروں مشیر لگاتار میٹنگوں اور عوامی دربار کا انعقاد کر کے وفود اور افراد کے مسائل کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ مشیر اپنے اپنے ماتحت محکموں سے جُڑے مسائل کا بھی متواتر جائیزہ لیتے ہیں ۔ ان مشیروں نے 16 نومبر 2018 تک 2180 وفود اور 1982 افراد کے مسائل سُنے ۔ اس مدت کے دوران یوں 37950 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 36834 شکایات متعلقہ افسروں کو حل کرنے کیلئے بھیج دی گئیں جبکہ 1116 شکایات زیر عمل ہیں ۔
’سواست بھارت یاترا ‘کٹھوعہ پہنچی
کٹھوعہ //خوراک کے عالمی دن کے موقعہ پر 16اکتوبر کو لیہہ سے شروع کی گئی ’سواست بھارت یاترا ‘کٹھوعہ پہنچ گئی ۔اس موقعہ پر ضلع میں فوڈ سیفٹی کی ٹیم کی طرف سے یاترا کا شاندار استقبال کیا گیا ۔’مناسب خوراک کے عنوان سے شروع کی گئی اس یاتراکا اصل مقصد ملکی عوام کو صاف ستھری اور صحت مند خوراک سے متعلق بیدار کرنا ہے ۔اس موقعہ پر جوائنٹ ڈائریکٹر فوڈ سیفٹی جوکہ یاترا کے ہمراہ موجود ہیں ،نے بولتے ہوئے کہاکہ اس یاترا کا مقصد عوام کو کھانے سے متعلق بیدار کرنا ہے ۔انہوں نے مزیدکہا کہ حالیہ تین برسوں سے معیاری خوراک سے عوام کو بیدار کیا گیا ہے جس کی وجہ سے متعدد بیماریوں کی شرح میں بھی کمی آئی ہے ۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق کٹھوعہ میں اس یاترا کے تحت 2دسمبر تک متعدد پروگراموں کا اہتمام کیا جائے گا ۔
ڈی آئی پی آر نے رام لال کو گرمجوشی کے ساتھ الوداعیہ دیا
جموں//ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ( ڈی آئی پی آر ) نے ایک تقریب کے دوران محکمہ کے ایک ملازم رام لال کو اُن کی سبکدوشی کے سلسلے میں گرمجوشی کے ساتھ الوداعیہ دی۔رام لال نے محکمہ میں تین دہائیوں تک اپنی خدمات انتہائی محنت ، لگن ، تن دہی اور خوش اسلوبی سے انجام دیں۔ناظم اطلاعات طارق احمد زرگر ، جوائنٹ ڈائریکٹر انفارمیشن جموں نریش کمار ، ڈپٹی ڈائریکٹر پی آر ( ہیڈ کوارٹر) شیخ ظہور ، ڈپٹی ڈائریکٹر پی آر جموں میناکشی وید ، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ہیڈ کوارٹر جموں پرینکا بھٹ و دیگر اعلیٰ افسران اور محکمہ کا عملہ اس موقعہ پر موجود تھے۔ناظم اطلاعات نے رام لال کو ایک محنتی اور ایماندار ملازم قرار دیا جس نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا۔افسران اور ڈی آئی پی آر کے عملے نے سبکدوش ہوئے ملازم کو روشن مستقبل اور خوشحال و صحت مند زندگی کی دعا کی۔اس موقعہ پر ناظم اطلاعات و دیگر افسران نے رام لال کواُن کی حوصلہ افزائی کے لئے ایک شال ، مومنٹو اور گلدستہ پیش کیا۔
کرچی ادہم پور میں بلاک سطحی کھیل مقابلے
ادہم پور //ضلع ادہم پور میں انتظامیہ کی طرف سے کھیلو انڈیا پروگرام کے تحت کرچی پنچایت میں بلاک سطحی کھیل مقابلوں کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ان مقابلوں میں بلاک کے تمام سرکاری سکولوں کے لڑکے او ر لڑکیاں مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر نے کیلئے شرکت کر رہے ہیں ۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے منیجر سپورٹس کونسل ادہم پور ستیش چوپڑہ نے طلباء کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ وہ ان مقابلوں کو منعقد کرنے کا اصل مقصد نوجوانوں کھلاڑیوں کو ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکیں ۔اس موقعہ پر سپورٹس کونسل کے ممبران کے علا وہ بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر اور معززین بھی موجود تھے۔
میں آئی آئی ٹی ممبئی کا آن لائن ٹیوٹوریل پروجیکٹ شروعYCET
جموں //YCETکالج میں بی ای کورس کیلئے آئی آئی ٹی ممبئی کا آن لائن ٹیوٹوریل پروجیکٹ شروع کر دیا گیا ہے ۔کالج کے الیکٹریکل، کمپیوٹر، آئی ٹی، میکینکل اور سیول انجینئرنگ شعبوں کیلئے اس آن لائن پروجیکٹ کو شروع کیا گیا ہے ۔کالج میں اس پروجیکٹ کے تحت آن لائن امتحان میں 60فیصد طلباء نے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔اس موقعہ پر کالج کے ڈائریکٹر ارویند دیوا گن نے کالج کے طلباء کی تعریف کرتے ہوئے ان شعبوں کے سٹاف ممبران کو مبارکباد پیش کی ۔یاد رہے مذکورہ امتخان تیسرے ،پانچویں اور ساتویں سمسٹر کے طلباء کیلئے منعقد کیاگیا تھا ۔
پنچایتی انتخابات 2018
۔275پولنگ پارٹیاں مراکز کیلئے روانہ
سانبہ //پنچایتی انتخابات 2018کے تحت ضلع سانبہ میں 6ویں مرحلے کیلئے ہونے والے انتخابات کے سلسلہ میں 275پولنگ پارٹیوں کو منتخب سنٹروں پر روانہ کردیا گیا ہے ۔ضلع میں 6ویں مرحلے کے تحت وجے پور ،بڑی براہمنان اور پر منڈل بلاکوں میں انتخابات کروائے جائینگے ۔اس مرحلے کے تحت ہو نے والے پنچایتی انتخابات کیلئے ڈسٹر کٹ الیکشن آفیسر سشما چوہان نے ذاتی طور پر تمام بلاکوں کا دورہ کر کے الیکشن تیاریوں کا جائیزہ لیا تاکہ صاف اور شفاف انتخابات کروائے جا سکیں ۔ضلع میں 6ویں مرحلے کے تحت ہونے والے انتخابات میں 149سرپنچوں اور 649پنچ نشستوں کو پُر کیا جائے گا۔
محکموں کے کام کاج میں نمایاں بہتری آئی ہے : بی بی ویاس
جموں//گورنر کے مشیر بی بی ویاس نے کہا ہے کہ ہر ایک محکمہ کے کام کاج میں بہتری اور جدت لائی جا رہی ہے تا کہ ایک طرف لوگوں کے مسائل جلد از جلد حل ہو سکیں اور دوسری طرف مختلف فلاحی سکیموں اور بہبودی پروگراموں کی عمل آوری میں سرعت لائی جا سکے ۔ مشیر موصوف نے ان باتوں کا اظہار آج یہاں گورنررز گریونس سیل میں جموں صوبے کے مختلف ضلعوں سے تعلق رکھنے والے وفود کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا ۔ اس عوامی دربار میں ضلع انتظامیہ ، مال ، زراعت ، باغبانی اور دیگر محکموں کے افسروں نے شرکت کی ۔ مشیر موصوف نے کہا کہ لوگوں کے مسائل وقت پر حل کرنے کیلئے ایک فعال لایحہ عمل اختیار کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افسروں کو لوگوں کی طرف سے ابھارے گئے معاملات کو حل کرنے کیلئے ایک اثر دار رویہ اختیار کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے افسروں پر زور دیا کہ وہ متواتر طور فیلڈ کا دورہ کریں تا کہ پروگراموں کی عمل آوری کے تعلق سے فیڈ بیک حاصل کیا جا سکے ۔ اس موقعہ پر 150 افراد پر مشتمل 15 وفود نے مشیر کے ساتھ ملاقات کی اور اپنے اپنے مسائل حل کرنے میں اُن کی مداخلت طلب کی ۔ مشیر موصوف نے مال محکمہ کے افسروں پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی طرف سے ابھارے گئے معاملات کی طرف خصوصی توجہ دیں ۔ انہوں نے کئی دیگر محکموں سے جُڑے مسائل کو بھی غور سے سُنا اور وفود کو یقین دلایا کہ ان مسائل پر فوری کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ دی گئی ہدایات کی عمل آوری پر بعد میں بھی نظر گذر رکھی جانی چاہئیے تا کہ عام لوگوں کو دقعتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور زمینی سطح پر خدمات کی دستیابی میں بہتری لائی جا سکے۔
روشنی ایکٹ جموں کیخلاف سازش تھی
ایک مخصوص مذہب کے پیروکاروں کو بسایا گیا : انکور شرما
یو این آئی
جموں//’ایک جٹ جموں ‘نامی تنظیم کے سربراہ اور وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل واقعہ کے ملزمان کے وکیل انکور شرما نے ریاستی انتظامیہ کونسل کی جانب سے روشنی ایکٹ کو واپس لینے کی منظوری دینے کے فیصلہ پر مسرت کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلہ سے جموں کے خلاف کی گئی سازش کو نیست و نابود کیا گیا ہے ۔انکور شرما نے گزشتہ روز جموں میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کہا ’میں جموں کے لوگوں کو مبارک باد دیتا ہوں کہ جموں کے خلاف کی گئی سازش کو نیست ونابود کیا جا چکاہے ،گو رنر صاحب نے روشنی ایکٹ کو واپس لینے کی منظور دے دی ہے ،ریاستی انتظامیہ کونسل نے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر مہرلگادی ہے ‘۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں مفاد عامہ عرضی پر ہم نے روشنی ایکٹ کو سٹے کروا دیا تھا اور ایک ہفتے قبل ہائی کورٹ جموں سے فیصلہ کروایا تھاکہ روشنی ایکٹ کے تحت جن لوگو ں کو زمینیں دی گئی ہیں وہ ان زمینوں پر نہ ہی تعمیر کرسکتے ہیں اور نہ ہی زمینیں فروخت کرسکتے ہیں ۔انہوں نے روشنی ایکٹ کو جموں کے خلاف ایک بڑی سازش قر اردیتے ہوئے کہا کہ ’اس قانون کے پیچھے جو سازش تھی وہ یہ تھی کہ ’ آج کی تاریخ میں اسلامی اور فسطایت طاقتیں جو طریقے اپنا رہی ہیں کہ جمہوری معاشرے میں جمہوری اداروں پر قبضہ کر کے ،اپنے ایجنڈے کو استعمال کریں ،اگر اپ اسمبلی میں جائے تو ایسے قانون واضع کریں جو آپ کے اسلامی ایجنڈے کو آگے بڑھا ئے اورسیکولر اداروں کا استعمال کر کے اپنے مقصد کوحاصل کر و ،اسی سوچ سے متاثر ہوکر یہ قانوں بنایا گیا تھا ۔اس کا مقصد یہ تھا کہ روشنی ایکٹ کا استعمال کر جموں کے 10اضلاح میں آبادیاتی اور مذہبی تناسب کو تبدیل کر کے جموں میں قبضہ کیا جائے ،ایک مخصوص مذہب کے لوگوں کو زمینیں فراہم کی جائے اور ہر جگہ مخصوص مذہب کے لوگوں کو بسایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ’ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ جموں کے جوحقیقی باشندے ہیں جوکسان ہیں ،اپنے روزی روٹی کمانے کے لئے ان زمینوں پر کئی دہائیوں سے کاشتکاری کرتے آرہے ہیں ، ان کی روشنی ایکٹ کے تحت آج بھی عرضیاں التوا میں پڑی ہوئی ہیں ۔روشنی ایکٹ کے تحت دی گئی عرضیوں میںسے 98 فیصد ایک مخصوص مذہب کی عرضیوں پر کام کیا گیا ہے ۔جموں میں روشنی ایکٹ کا استعمال کرکے صرف و صرف ایک مخصوص مذہب کے لوگوں کو بسایا گیا ہے ‘۔انہوں نے کہا’ جموں میںسابق وزیرِعلیٰ ،نائب وزیر علیٰ،ریاستی وزراء نے جو زمینیں ہڑپ کی تھیں ان زمینوں پر ان کو مالکانہ حقوق دئے گئے ہیں ،مجھے لگتاہے کہ اس لئے ریاستی انتظامیہ کونسل نے روشنی ایکٹ کے متعلق فیصلے میں یہ نہیں کہا کہ جن لوگوں کو اس ایکٹ کے تحت زمینیں فراہم کی گئی ہیں ان کو واپس لیا جائے گا ‘۔ انہوں نے کہا ’ لیجسلیٹوروٹ سے جو جہادی کا م کیا گیا ہے تھا اس کو ختم کر دیا ہے اور اس ایکٹ کے تحت جن لوگوں کو فائدہ پہنچاہے ان سے زمین واپس لینے کے لئے ابھی ہائی کورٹ میں معاملہ زیرِسماعت ہے ‘۔انہوں نے کہا ’ روشنی ایکٹ کے متعلق ریاستی انتظامیہ کونسل کے فیصلہ سے ہمیں جزوی راحت ملی گئی ہے ،یہ قانون ختم ہو چکا ہے۔
سائیں خان سرپنچ اورمحمدصدیق ٹھیکریاپنچ منتخب
طارق ابرار
جموں//تحصیل بھلوال کی بلاک متھوارکی پنچایتوں میں پانچویں مرحلے کے تحت منعقدہوئے پنچایتی انتخابات میں لوگوں نے جوش وجذبے کے ساتھ حق رائے دہی کااستعمال کیااوراپنی پسندکے پنچوں اورسرپنچوں کاانتخاب عمل میں لایاگیا۔ پنچایت دھنوں میں سرپنچ اُمیدوارسائیں خان نے جیت درج کی جبکہ پنچایت بگانی میں شریفابی بی نے بی جے پی اُمیدوارکوہرایا۔وارڈنمبر6پنچایت دھنوں میں رشیدہ بی بی ،وارڈنمبر4 سے بشیراحمد ، وارڈنمبر3سے مشتاق احمد دیگروارڈوں میں جمیل احمد، بشن سنگھ ،نازیہ اخترنے پنچ کے طورپرکامیابی حاصل کی ۔اسی طرح پنچایت بگانی سے شام سنگھ ،چمپارینہ نے پنچ کے طورپرجیت درج کی ۔اسی طرح اگرپنچایت کیری کی بات کی جائے تواس پنچایت پنچایت حلقہ کے سرپنچ کاانتخاب بلامقابلہ عوام نے مشاورتی میٹنگ کے دوران نچھترسنگھ کواپنانمائندہ چن لیاتھا ۔وارڈنمبر7سے جمیل احمد نے پنچ کے طورپرکامیابی حاصل کی اوراسی طرح پنچایت سروٹ کی وارڈنمبر3سے محمدصدیق ٹھیکریانے مخالف اُمیدوارکوہرایا۔ذرائع نے بتایاکہ پنچایت سروٹ کے وارڈنمبر ،موہڑہ گلالی سے محمدصدیق ٹھیکریا نے 89 ووٹوں کی لیڈسے جیت درج کی اوراپنے حریف اُمیدواربہاری لال کوہرایا۔ذرائع نے بتایاکہ لوگوں نے آپسی بھائی چارے کوبرقراررکھااوربلالحاظ مذہب وملت اُمیدوارکوووٹ دے کرکامیاب کیا۔اس وارڈکے 264 ووٹ پول ہوئے جن میں سے 87ووٹ بہاری لال نے حاصل کیے جبکہ 176 ووٹ محمدصدیق ٹھیکریانے حاصل کرکے 87 ووٹوں کی لیڈسے کامیابی حاصل کی۔محمدصدیق نے وارڈکے تمام لوگوں کاتعاون دینے کیلئے شکریہ اداکیاہے۔ذرائع کے مطابق اُمیدواروں کے درمیان کانٹے کی ٹکررہی تاہم پنچایت دھنوں کی وارڈنمبر5کے نتیجے پر لوگوں نے اعتراضات اُبھارے ہیں اورمعاملہ ڈی سی جموں کے پاس پیش کیاگیاہے۔
سکل ڈیولپمنٹ پروگراموں کی پیش رفت کا جائزہ لیاگیا
جموں//مرکزی وزارت برائے سکل ڈیولپمنٹ اینڈ انٹر پرنیور شِپ کے جوائنٹ سیکرٹری راجیش اگروال نے یہاں منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران ریاست میں سکل ڈیولپمنٹ پروگراموں بشمول فلیگ شِپ سکل ڈیولپمنٹ سکیم پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا( پی ایم کے وی وائی) کی پیش رفت کا جائیزہ لیا۔اس سکل سرٹیفکیشن سکیم کا مقصد ریاست کے نوجوانوں کو صنعتوں کے قیام سے متعلق جانکاری فراہم کرنے کے علاوہ انہیں بہتر روز گار کے حصول میں مدد کرنا ہے۔سکیم کے تحت ریاست جموں وکشمیر کے47 ہزار نوجوانوں کو اگلے تین برسوں کے دوران سکل ڈیولپمنٹ کی تربیت فراہم کی جائے گی۔میٹنگ میں ڈائریکٹر (پی ایم کے وی وائی) ایم ایس ڈی ای، رجنیش کمار گپتا، سیکرٹری سکول ایجوکیشن اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن اجیت کمار ساہو، ڈائریکٹر تکنیکی تعلیم انو ملہوترہ، مشن ڈائریکٹر جے اینڈ کے سکل ڈیولپمنٹ مشن( جے کے ایس ڈی ایم) ڈاکٹر پیر جی این سہیل، اعلیٰ سرکاری افسران، این ایس ڈی سی کے نمائندے، سکل تربیت فراہم کرنے والوں و دیگر شراکت داروں نے شرکت کی۔مشن ڈائریکٹر نے اس موقعہ پر جے کے ایس ڈی ایم کی طرف سے چلائی جارہی سکیموں و سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی خاکہ پیش کیا۔انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی ضروریات کی فہرست بھی پیش کی۔جوائنٹ سیکرٹری نے اس موقعہ پر نوجوانوں کو ضروری رہبری فراہم کرنے اور سکل و انٹر پرنیور شِپ ڈیولپمنٹ سے متعلق جانکاری فراہم کرنے پر زور دیا۔راجیش اگروال نے تربیت فراہم کرنے والوں کو یقینی دلایا کہ انہیں مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے مکمل تعاون دیا جائے گا۔
کمشنر سیکرٹری جنگلات نے این بی ایم کی عمل آوری کا جائزہ لیا
جموں//کمشنر سیکرٹری جنگلات منوج کمار دویدی نے منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران ریاست میں نیشنل بامبو مشن( این بی ایم) کی عمل آوری کا جائیزہ کا جائیزہ لیا۔پرنسپل چیف کنزرویٹر فارسٹس اور چیف وائلڈ لائف وارڈن سریش چُگ، ڈائریکٹر سوشل فارسٹری ایس کے گپتا، سپیشل سیکرٹری( ٹیکنیکل) کے رمیش کمار، ایڈیشنل سیکرٹری جنگلات رام سیوک اور دیگر متعلقہ افسران نے میٹنگ میں شرکت کی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ لینڈ ٹرانسپورٹ قوانین کے تحت نجی اراضی پر بانس اُگانے کے لئے کسانوں کو رعائت فراہم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ سماج کا یہ طبقہ خوشحالی کی جانب گامزن ہوسکے۔اس سلسلے میں ریاستی انتظامی کونسل نے حال ہی میں بانس کولکڑی قرار دینے کے دائرے سے باہر رکھنے کو منظوری دی ہے۔میٹنگ کے دوران بانس کی پیداوار بڑھانے کے سلسلے میں سرکاری و نجی اراضی کو استعمال کرنے کا فیصلہ لیا گیا ۔میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈائریکٹر سوشل فارسٹری جے اینڈ کے نیشنل بامبو مشن کے تحت عملائے جارہے پروگرام کے نوڈل افسر ہوں گے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت ہند نے این بی ایم کو سال2018-19 اور2019-20 کے لئے این ایم ایس اے کے تحت منظوری دی۔یہ سکیم کسانوں اور مقامی ہُنر مندوں جو بانس کی صنعت سے وابستہ لوگوں کو کو بلاواسطہ اور بلواسطہ فائدہ پہنچائے گی۔
قبائلی امور محکمہ میں ریکورٹمنٹ رولز پر تبادلہ خیال
جموں//کمشنر سیکرٹری انتظامی اصلاحات ، ٹریننگ اینڈ انسپیکشنز ایم کے دویدی کی صدارت میں ایک سٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں قبائلی امور محکمہ کے ریکروٹمنٹ رولز پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقعہ پر محکمہ میں تقرریوں ، تعیناتیوں اور ملازمین کی پرموشن کے حوالے سے امور کو زیر بحث لایا گیا ۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ چھ ضلعوں میں اچھی خاصی قبائلی آبادی پائی جاتی ہے اور ان میں کرگل ، لیہہ ، راجوری ، ریاسی اور گاندر بل شامل ہیں اور ان اضلاع میں قبائلی ویلفیئر آفیسر موجود ہونے چاہئیں ۔ محکمہ کو مزید مستحکم بنانے سے جُڑے معاملات پر بھی سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا ۔
کپوڑاہ تک ریل لائین بچھانا خوش آئند :میر
جموں //مرکزی حکومت کی طرف سے شمالی کشمیر کے ضلع کپوڑاہ تک ریل لائین بچھانے کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پردیش کا نگریس کمیٹی کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کہاہے کہ اس عمل سے عوام کو فائدہ پہنچے گا ۔یہاں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کے اس عمل سے شمالی کشمیرمیں بھی تجارت اور سیاحت کو زیادہ سے زیادہ فروغ مل سکتا ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ خطہ پیر پنچال اور چناب کو بھی ریل لنک سے جوڑے تاکہ عوام کو آمد ورفت کے دوران مسائل کا سامنا نہ کر نا پڑے ۔
پنچاری میں ڈگری کالج کا قیام عمل میں لایا جائے :لال چند مسافر
ادہم پور //نیشنل کا نفرس کے سنیئر لیڈر اور صوبائی سیکرٹری لال چند مسافر نے ریاستی انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ضلع ادہم پور کے دور افتادہ علا قہ پنچاری میں ڈگری کالج قاہم کیا جائے تاکہ طلباء اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں انہوں نے کہاکہ ضلع کے پہاڑی خطہ لاندر بھماگ جوکہ سنکھ پال پہاڑ ،لدھا دھار اور سرولی دھار سے لیکر دریائے چناب کے کنارے تک ہے اور اس علا قے میں درجنوں دیہاتوں اور ایک لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ ن تمام علاقوں کا مرکز پنچاری ہے لیکن ان علا قوں میں کالج نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔لال چند مسافر نے مزیدکہاکہ ضلعی ہیڈ کواٹر سے 40کلومیٹر کی دوری پر واقع پنچاری کے متعدد گائوں کا فاصلہ ضلعی ہیڈ کواٹر سے 10کلومیٹر تک بھی ہے لیکن ان دشوار ور پسماندہ علا قوں کے طلباء کو کالج کی پڑھائی کیلئے شہروں کا رخ کر نا پڑتا ہے جوکہ کافی مشکل عمل ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ عمر عبداللہ نے اپنی حکومت کے دور میں عوامی مانگ کو اصولی طورپر مانتے ہو ئے پنچاری میں کالج کی تعمیر کیلئے جگہ کی نشاندہی کرلی تھی لیکن بعد میں آنے والی حکومت نے اس طرف کو ئی توجہ نہیں دی ۔انہوں نے کہاکہ ریاستی انتظامیہ کو چائیے کہ وہ عوامی مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے پنچاری میں کالج تعمیر کر کے طلباء کے مسائل کو حل کر ئے۔