عبد الرشید خان
مرنے کا نام سنتے ہی اکثر لوگ گھبرا جاتے ہیں اور ڈرکےمارےچہر زرد اور ہاتھ پائوں کانپنے لگتے ہیں، اندر ہی اندر اللہ میاں سے دعا گو ہوجاتے ہیں کہ اے اللہ! ہم نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے، زندگی کی ستر اَسی بہاریں اور وہ بھی خزاں رسیدہ۔ ہم مرنا نہیں چاہتے ہیں ،ہاں خود زندہ رہنے کے لئے دوسروں کا جینا حرام کر سکتے ہیں۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ مرنا آسان ہے اور جینا مشکل ۔یہ کسی حد تک سہی ہے۔دور ِجدید کے انسان نے اپنے لئے مرنا بڑا آسان بنا دیا ہے، روز مرہ کی پریشانیاں اور تکالیف ۔الگ سو گیا تو جاگنے کی فکر، دفتر پہنچ گیا تو گھر واپسی کا چکر، کام کاج میں ذرہ بھر کوتاہی تو ڈانٹ ،گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنس کر بے قراری، بیوی بچوں کی نت نئی فرمائش اوپر سے گراں بازاری کی مار۔ رشتہ داروں کا روز روز کا آنا اور پھر واپس جانے کا نام نہ لینا، بجلی کے بغیر ہی بجلی بل ادا کر نا، عمر بھر گدھے کی طرح کمائی کر کے آخر میں انکم ٹیکس والوں کے حوالے کر نا، ایسے حالات میں مرنا نہ صرف ہر درد کی دوا ہے بلکہ نیک بختی کی علامت بھی ۔رہی بات شاعر لوگوں کی، ان کے نزدیک مرنا بڑا مشکل ہے جینا ہے بہت آسان ۔دیکھا جائے تو آدمی مرنے کے لئے ہی زندہ رہتا ہے، اس لئے کہ جو رتبہ آدمی کو سال ہا سال زندہ رہ کر حاصل نہیں ہوتا، وہ آنکھ بند ہو تے ہی بلا کسی محنت اور مشقت کے مل جاتا ہے۔ گھر والے ہوں یا قریبی رشتہ دار (یاد رہے گھر والے آدمی کو ہرگز بھائو نہیں دیتے ( ،دوست ہوں یا دشمن ،سبھوں کی نظر میں مرنے والا بڑا بن جاتا ہے، جن لوگوں نے اسے وقت سے پہلے مرنے پر مجبور کردیا ہو گا، وہ فوراً اس کی اچھائیاں گنوانے لگتے ہیں، گھونگے کو لحن ِداؤدی اور شیریں کلام ،دیوہیکل بد صورت کو ماہ ِجیبن، نا قابل کو ہونہار ،جور ڈاکو کو پارسا، رشوت خور کو پر ہیزگار، بےغیرت اور نا اہل کو جان باز، شرابی کو زاہد اور اگر خدا نخواستہ سچ میں زاہد نکلا، تو ولی اللہ یعنی لوگوں کی عقیدت کا مرکز، ہر سال یوم وصال منانا ۔غرض یہ سب القاب مرنے کے بعد ہی حاصل ہوتے ہیں۔اٹھانا خود ہی پڑ تا ہے تھکا ٹو ٹا وجود اپنا ،جب تک سانس چلتی ہے کوئی کندھا نہیں دیتا۔ دیکھا جائے تو اس زندگی میں رکھا ہی کیا ہے، بچپن کے چند بےفکرے سال۔ اس پربھی سکول ٹیچروں کی مار پیٹ، کالج پروفیسر وں کی تانا شاہی، عشق میں ناکامی، غم ِروزگار ،نااہل اور متکبر انسانوں کی حقارت آمیز مسکراہٹ ،بادل ناخواستہ اور خلاف توقع شادی اور پھر عمر بھر نبھا کرنا، رشوت اور لوٹ کھسوٹ کرکے بال بچوں کے نا ز نخرے اٹھا نا اور آخر میں مرنے کے لیے اولڈایج ہوم میں داخلہ لینا ۔زندگی کے ساٹھ ستر سالوں میں آدمی کو یہی فکر ستاے رکھتی ہے کہ کوئی بندۂ خدا اُس کی بات سن لے(اس لئے کہ یہاں کوئی کسی کا سُننے کے لیے تیار نہیں ،ہر کوئی سُنانے کے لئےکھڑا ہو جاتا ہے ) اپنی بات سُنانے کے لیے، نہ کہ منوانے کے لیے ۔کوئی شاعری کا سہارا لیتا ہے اور کوئی ادیب بن جاتا ہے ،کوئی اداکار بن کر خود کو تماشا بنا کر اوروں کو اپنے آپ پر ہنسنے کی دعوت دیتا ہے، لیکن مرنا ہے کہ سب اس کی طرف متوجہ ہو جا تے ہیں، مرنے والے کی باتوں کو تعویذ بنا کر رکھ دیا جاتا ہے، اسکے اشاروں کنایوں پر بڑی بڑی جائیدادیں تقسیم ہو جاتی ہیں، وہ اور بات ہے کہ بعد میں بڑے بڑے جھگڑے جنم لیتے ہیں اور سال ہا سال عدالتوں کا رُخ کر نا پڑتا ہے اور سارا الزام مرنے والے کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔ اخبار والے تو دور گھر والے نہایت ہی خوبصورت فوٹو چھاپ کر مرنے والے کو صوم و صلوۃ کا پابند قرار دیکر اِسی خوشی میں بڑے پکوان کا اہتمام کرتے ہیں، دیکھا جائے تو آدمی کی شخصیت مرنے کے بعد ہی نکھر کر سامنے آتی ہے۔ بقول شاعر؎ زندگی چشم جہاں میں خوار رکھتی ہے واللہ۔ دوش پر سب نے لیا آدمی جب بے دم ہوا۔ مرنے کے بعد وہ تمام رقابتیں رنجشیں اور رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں جن سے مرنے والے کا قافیہ حیات تنگ ہوا تھا ،زمین جائیداد کے ساتھ ساتھ آدمی کی شخصیت بھی کئی خانوں میں بٹ جاتی ہے ،جسے بعد میں اکھٹا کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہوتاہے۔
(عبدالرشید خان۔ چھانپورہ سرینگر)
[email protected]