میر شوکت
رات جب پہاڑوں سے اتر کر میدانوں میں پھیلتی ہے تو وہ صرف اندھیرا نہیں لاتی، اپنے ساتھ ایک سرد اور بوجھل خاموشی بھی لاتی ہے۔ ہمالیہ کی برفانی ہوائیں اُتراکھنڈ کی وادیوں میں اترتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صدیوں کی تھکن اپنے کندھوں پر اٹھائے چل رہی ہوں۔ انہی ہواؤں کے درمیان وہ لوگ بھی چلتے ہیں جو کشمیر کی برف سے نکل کر شالوں کی گرمی بیچنے آتے ہیں۔ ان کے تھیلوں میں اون کی حرارت ہوتی ہے، مگر راستوں میں جو نگاہیں ان کا استقبال کرتی ہیں، وہ اکثر سرد اور نوکیلی ہوتی ہیں۔ بازاروں میں شالوں کے رنگ بکھرے ہوتے ہیں۔سفید برف جیسے، نیلے آسمان جیسے، سرخ شام جیسے۔مگر ان رنگوں پر شک کا سایہ پڑ جاتا ہے۔ سوال اٹھتا ہے۔ ’’کہاں سے ہو؟‘‘ اور جواب کے ساتھ ہی فضا بدل جاتی ہے، جیسے ہوا نے اپنا رخ موڑ لیا ہو۔یہ محض ایک واقعہ نہیں، یہ ایک سلسلہ ہے۔ کہیں شال فروشوں کو گھیر لیا جاتا ہے، کہیں ان کے تھیلے الٹ دیے جاتے ہیں، کہیں ان کے نام کو جرم بنا دیا جاتا ہے۔ ان کے چہروں پر وہی حیرت ہوتی ہے جو کسی مسافر کو پہلی بار اندھیری سرنگ میں داخل ہوتے وقت ہوتی ہے۔’’ ہم تو صرف روزی کمانے آئے تھے، ہم کس جنگ میں شامل ہو گئے؟‘‘ ان کی زبان میں سیاست نہیں ہوتی، صرف سودا ہوتا ہے؛ ان کے ہاتھ میں جھنڈا نہیں ہوتا، صرف کپڑا ہوتا ہے، مگر ان کے حصے میں وہی خوف آتا ہے جو میدانوں کی بڑی تقریروں سے جنم لیتا ہے۔
اسی فضا میں کبھی کبھی کوئی ایسا لمحہ بھی جنم لیتا ہے جو اندھیرے میں چراغ کی طرح جل اٹھتا ہے۔بزرگ کو دکان سے بابا نام ہٹانے پر ایک بازار میں، شور اور شک کے بیچ، ایک آواز بلند ہوتی ہے۔’’میرا نام محمد دیپک ہے۔‘‘ یہ جملہ نہ نعرہ تھا نہ تقریر۔بس ایک سادہ سا اعلان کہ نام انسان کو الگ نہیں کرتا، انسان نام کو معنی دیتا ہے۔ اس ایک جملے نے ہجوم کو لمحہ بھر کے لیے آئینہ دکھا دیا، جیسے کسی نے شور کے بیچ سکوت رکھ دیا ہو۔ یہی وہ لمحہ تھا جسے لوگوں نے امید کہا، جسے خبروں نے سرخی بنایا اور جسے نفرت نے خاموش کرنے کی کوشش کی۔ مگر لفظ ایک بار نکل آئے تو واپس نہیں جاتے؛ وہ فضا میں تیرتے رہتے ہیں، کسی نہ کسی دل میں اتر جاتے ہیں۔
یہ سب کچھ کسی خلا میں نہیں ہو رہا۔ یہ اسی روزمرہ سیاست کا تسلسل ہے جس میں ہر صبح سرخیاں آگ کی طرح پھیلتی ہیں۔ ’’خطرہ‘‘ ،’’دشمن‘‘،’’غداری‘‘،’’سازش‘‘ یہ الفاظ اب معنی نہیں رکھتے، یہ صرف اشارے ہیں۔ سکرینوں پر چہرے بدلتے ہیں، مگر لہجہ ایک سا رہتا ہے۔ اتحاد کے نام پر بات شروع ہوتی ہے اور تقسیم پر ختم ہوتی ہے۔ جملوں میں امن کی خوشبو کم اور بارود کی بو زیادہ ہوتی ہے۔ یہی بو بازاروں تک پہنچتی ہے، سکولوں تک پہنچتی ہے، پہاڑی راستوں تک پہنچتی ہے، جہاں ایک شال فروش بھی اس سیاست کی زد میں آ جاتا ہے۔
ہمالیہ کی ڈھلوانوں پر جب شام اترتی ہے تو روشنی پتھروں سے ٹکرا کر بکھر جاتی ہے۔ انہی راستوں پر چلتے ہوئے وہ مسافر جو اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور ہیں، آسمان کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ کیا یہی آسمان ان کے گاؤں پر بھی پھیلا ہے؟ مگر زمین پر کھنچی ہوئی لکیریں آسمان کی وسعت کو جھوٹا ثابت کر دیتی ہیں۔ یہاں انسان کو اس کی محنت سے نہیں، اس کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست ایک ذاتی سانحہ بن جاتی ہے۔اسی دوران شہروں میں اور بھی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ کہیں کسی دکان کے بورڈ پر لکھا نام مسئلہ بن جاتا ہے، کہیں کسی طالب علم کی زبان یا چہرہ اس کے خلاف گواہی دے دیتا ہے، کہیں شمال مشرق سے آئے ہوئے نوجوان کو اجنبی سمجھ کر دھکیل دیا جاتا ہے، کہیں کسی مسافر کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر روکا جاتا ہے۔ یہ سب ایک ہی دھارے کے قطرے ہیں، جو مختلف جگہوں پر ٹپکتے ہیں مگر ایک ہی بادل سے برستے ہیں۔
میڈیا ان واقعات کو کبھی سنسنی بنا کر دکھاتا ہے، کبھی چند لمحوں کی خبر بنا کر چھوڑ دیتا ہے۔ سکرین پر چیخیں ہوتی ہیں، مگر گلیوں میں خاموشی رہتی ہے۔ اصل خبر وہ ہوتی ہے جو نہیں دکھائی جاتی ۔ وہ آنکھیں جو خوف سے جھکی ہوتی ہیں، وہ ہاتھ جو کانپتے ہوئے شال پکڑے ہوتے ہیں، وہ قدم جو ہچکچاتے ہوئے بازار میں پڑتے ہیں۔ یہ سب وہ مناظر ہیں جو کیمرے سے باہر رہ جاتے ہیں مگر زندگی کے اندر بس جاتے ہیں۔
شہر کے بیچوں بیچ کھڑے مجسمے اب بھی خاموش ہیں۔ ان کے پتھریلے چہروں پر گرد جمی ہے، مگر ان کی آنکھوں میں سوال زندہ ہے۔’’کیا انسان کو انسان رہنے کے لیے کسی اجازت نامے کی ضرورت ہے؟‘‘ دیواروں پر پوسٹر لگے ہیں جن میں مسکراتے چہرے وعدے کرتے ہیں، مگر زمین پر کھنچی لکیر ہر وعدے کو کاٹ دیتی ہے۔’’یہ ادھر، وہ ادھر۔‘‘ یہ جملہ اب صرف زمین پر نہیں، ذہنوں میں لکھا جا چکا ہے۔پھر بھی تاریخ کا مزاج عجیب ہے۔ وہ صرف اندھیروں کو محفوظ نہیں رکھتی، چراغوں کو بھی سنبھال لیتی ہے۔ محمد دیپک جیسے لمحے اسی تاریخ کے روشن نقطے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ بھی جو شال فروشوں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، جو بازار میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں۔’’یہ ہمارا بھائی ہے، یہ ہمارا مہمان ہے، یہ ہمارا آئینہ ہے۔‘‘ یہ آوازیں کم ہیں، مگر ان کی گونج لمبی ہوتی ہے۔
اور شاید یہی اصل لڑائی ہے۔ شور اور سوال کے درمیان، نفرت اور پہچان کے درمیان۔ سیاست شور کو پسند کرتی ہے، کیونکہ شور میں سوال دب جاتا ہے۔ انسان سوال کو پسند کرتا ہے، کیونکہ سوال میں راستہ نکلتا ہے۔ جب کوئی پوچھتا ہے۔’’ہم کیوں لڑتے ہیں؟‘‘ تو وہ دراصل یہ بھی پوچھتا ہے۔’’ہم کیوں نہیں مل سکتے؟‘‘
ہمالیہ کی چوٹیوں پر سورج نکلتا ہے تو برف پر سنہری لکیر کھنچ جاتی ہے۔ وہ لکیر نہ کسی مذہب کی ہوتی ہے، نہ کسی جماعت کی۔وہ صرف روشنی کی ہوتی ہے۔ شاید یہی وہ تصویر ہے جو ہمیں یاد رکھنی چا ہئے۔ کہ روشنی تقسیم نہیں ہوتی، وہ بس پھیلتی ہے۔ مگر ہم نے روشنی کو بھی جھنڈوں میں قید کر دیا ہے۔
تب تک یہ منظر جاری رہے گا۔ سرخیاں، شور اور خاموشی کا ملغوبہ۔ اتراکھنڈ کی وادیوں میں شال فروشوں کی ہچکچاہٹ، بازار میں محمد دیپک کا جملہ، شہروں میں ناموں پر جھگڑے، اسکرینوں پر چیخیں۔یہ سب ایک ہی کہانی کے ابواب ہیں۔ اس کہانی کا عنوان ہے۔’’پھوٹ ڈالو اور راج کرو۔‘‘مگر ہر کہانی کا ایک موڑ ہوتا ہے۔ وہ موڑ شاید کسی بڑے انقلاب میں نہیں آئے گا، بلکہ کسی چھوٹے جملے میں آئے گا۔’’ہم انسان ہیں۔‘‘ جب یہ جملہ دیواروں پر لکھا جائے گا، جب یہ بازاروں میں گونجے گا، جب یہ پہاڑوں کی ہوا میں گھلے گا، تب شاید شال فروش کی شال صرف کپڑا نہیں رہے گی، وہ ایک علامت بن جائے گی۔اس گرمی کی جو نفرت کی سردی کو پگھلا سکتی ہے۔اس دن تخت خود بخود خالی ہو جائیں گے، تاج گرد میں مل جائیں گے اور گلیاں پھر سے آوازیں پہچاننے لگیں گی۔چائے کی سیٹی کی آواز، قدموں کی نرم چاپ اور دلوں کے کھلنے کی آواز۔ تب شہر کو یاد آ جائے گا کہ اس کا اصل نام نفرت نہیں تھا۔ اس کا اصل نام زندگی تھا۔