ڈوڈہ //مدرسہ عربیہ اسلامیہ فیض العلوم ٹانٹا کاہرہ میں ایک روزہ سالانہ جلسہ و دستار بندی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں 13 حفاظ کرام کی دستار بندی عمل میں لائی گئی۔تقریب کی صدارت الحاج نیاز اللہ قاضی سابق امام جامع نے انجام دی جبکہ امام و خطیب مرکزی جامع مسجد تالاب کھٹیکاں جموں مفتی عنائت اللہ قاسمی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جبکہ مدرسہ ہذا کے طلاب نے نعتیہ کلام، حمد باری تعالیٰ و تقریریں بھی کیں۔اس موقع پر بولتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ دین اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اور قرآن عالم انسانیت کے لئے ہدائت کا ذریعہ ہے۔ مفتی محمد عنائت اللہ نے کہا کہ حضور علیہ السلام کے طریقوں کے مطابق و قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا رہنے میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی مضمر ہے۔ انہوں نے وسیم رضوی کی طرف سے قرآن پاک کی توہین کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام دشمن طاقتوں نے دنیا کی تاریخ میں متعدد بار سازشیں کیں ہیں لیکن ناکامی کے سواکچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کو چاہیے کہ وہ ملک کی سالمیت و اتحاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں جو قرآن پاک جیسی مقدس کتاب کی توہین کرکے سماج میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے امت مسلمہ پر زور دیا کہ وہ مسلکی و فقیہی مسائل سے بالاتر ہو کر اللہ، رسول و قرآن کی اطاعت کریں اور ایک صاف و ستھرا ماحول قائم کریں۔تقریب کے آخر پر 13 فارغ حفاظ کی دستار بندی کی گئی۔مہتمم مدرسہ مولانا شوکت بٹ نے ادارے کی کارکردگی، اخراجات و ضروریات کا خلاصہ کیا اور تقریب میں شرکت کرنے پر سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔