پونچھ//جموں و کشمیر پردیش یوتھ کانگریس پونچھ نے ایک پریس کانفرنس میں قومی منیٹائزیشن پائپ لائن (این ایم پی) کے تحت 13 شعبوں کی نجکاری کے معاملے پر بی جے پی حکومت پر تنقید کی۔نائب صدر جے کے پی وائی سی اعجاز چودھری اور ضلع یوتھ کانگریس پونچھ کے صدر ادریس گنائی نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی مبینہ عوام دشمن پالیسیوں کی مذمت کی ۔ اعجاز چوہدری نے کہا کہ آج اپوزیشن میں ہونے کے سبب کانگریس کو حق ہے کہ وہ اٹھائے گئے حکومت کے غیر منصفانہ فیصلوں کے خلاف آواز بلند کرے۔ انہوں نے مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ تمام عوامی اثاثے بیچنے کے بعد ریلوے ، بینکوں اور دیگر شعبوں کی نجکاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اٹھایا گیا یہ ایک بالکل غلط قدم ہے جو بی جے پی کے سچے قوم پرست ہونے کے بڑے بڑے دعووں کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے مقامی عوام کی مختلف پریشانیوں کو بھی اٹھایا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ تکلیف میں ہیں ، لیکن حکومت کچھ نہیں کر رہی۔ انہوں نے ڈی ڈی سی ممبرزڈیو لپمنٹ فنڈ کےلئے ٹینڈرنگ کے عمل کےلئے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر زور دیا کہ ٹینڈرنگ کے عمل کو 3 لاکھ سے زیادہ کی رقم تک محدود رکھا جائے۔ادریس گنائی نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس سے زیادہ بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ بی جے پی کے لمبے دعوے والے این ایم پی سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر منیٹائزیشن کی ایک ارب روپے کی صلاحیت پیدا ہو گی۔ مالی سال 2022 سے مالی سال 2025 تک چار سال کی مدت میں مرکزی حکومت کے بنیادی اثاثوں کے ذریعے 6 لاکھ کروڑ کا مطلب ہے کہ مذکورہ قومی اثاثے جو قومی ورثے کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پردیش یوتھ کانگریس کے کارکنان قوم کے اہم اثاثوں کو بیچنے کی بی جے پی کی کوششوں کو ناکام بنانے کےلئے اپنی آخری سانس تک لڑیں گے۔