کڑوا سچ
ڈاکٹر شگفتہ خالدی
وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں بجلی کے محکمے کے لائن مین ایک خاموش جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر عوام تک بجلی کی سہولت پہنچاتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کی اپنی زندگیاں غیر محفوظ رہتی ہیں۔ آئے روز خبریں سامنے آتی ہیں کہ کوئی لائن مین بجلی کے تاروں کی مرمت کے دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا اور اکثر یہ متاثرہ افراد ڈیلی ویجز (عارضی ملازمین) ہوتے ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ محکمے کی لاپرواہی اور ناقص حفاظتی اقدامات ہیں۔ لائن مین کو اکثر مناسب حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا جاتا، جیسے انسولیٹڈ دستانے، ہیلمٹ یا جدید آلات۔ بعض اوقات بجلی بند کیے بغیر ہی مرمت کا کام کروایا جاتا ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک مسلسل نظامی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے۔ڈیلی ویجز ملازمین کا استحصال بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ یہ کارکن سالہا سال کام کرنے کے باوجود مستقل نہیں کیے جاتے، جس کی وجہ سے انہیں نہ تو مکمل تنخواہ ملتی ہے اور نہ ہی دیگر سہولیات، جیسے انشورنس، پنشن یا طبی سہولت۔ جب کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو ان کے اہلِ خانہ کو نہ مناسب معاوضہ دیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سرکاری نوکری فراہم کی جاتی ہے۔ یوں ایک خاندان کا اپنا کفیل کھونے کے بعد معاشی بدحالی کا شکار ہو جاتا ہے۔
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ آخر ان حادثات کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ صرف تقدیر کا کھیل ہے یا اس کے پیچھے ادارہ جاتی غفلت کارفرما ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب تک محکمے میں شفافیت احتساب اور حفاظتی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد نہیں ہوگا، اس طرح کے حادثات ہوتے رہیں گے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تمام ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کیا جائے تاکہ انہیں قانونی تحفظ حاصل ہو۔ دوسرا ہر لائن مین کو جدید حفاظتی سامان فراہم کیا جائے اور اس کے استعمال کو لازمی قرار دیا جائے۔ تیسرا کسی بھی مرمتی کام سے پہلے بجلی کی مکمل بندش کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ حادثے کی صورت میں متاثرہ خاندان کو فوری اور مناسب معاوضہ دیا جائے اور کم از کم ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے۔میڈیا اور عوام کو بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھانا چاہیے تاکہ حکام پر دباؤ بڑھے اور وہ اصلاحات پر مجبور ہوں۔ یہ صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے کیونکہ ہر شخص بجلی کی سہولت سے مستفید ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ ان کی قربانیوں کو وہ قدر نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ تربیت کی کمی بھی ان حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اکثر نئے لائن مین کو مکمل تکنیکی تربیت دیے بغیر ہی خطرناک کاموں پر لگا دیا جاتا ہے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی باقاعدہ ٹریننگ اور سخت حفاظتی قوانین پر عمل کیا جائے تو ان اموات میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور انہیں وہ حقوق دیے جائیں جو ہر محنت کش کا حق ہیں۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے کو نظرانداز کیا تو کل مزید قیمتی جانیں ضائع ہوں گی اور یہ ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔
[email protected]