یوسف شمسی
موجودہ عہد میں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بے شمار سہولتیں عطا کی ہیں، مگر اسی کے ساتھ اس کے کچھ بھیانک اور خطرناک پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں، جو رفتہ رفتہ ہماری سماجی ساخت اور انسانی قدروں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ آن لائن گیمنگ اور مجازی دنیا کی بڑھتی ہوئی لت اب محض تفریح یا وقت گزاری کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک سنگین سماجی المیہ کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، جس سے دل ڈر لگنے لگا ہے۔ ملک میںپیش آنے والے کم عمر طلاب کے خود کشی کے المناک واقعات پورے معاشرے کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔کمسن بچےآن لائن کوریائی گیم کے اس قدر اسیر ہوچکے ہیںکہ حقیقی دُنیا ان کے لئے بے معنی ہوگئی ہےاور جب والدین اِس لت سے چھٹکارا دلانے کے لئے اُن سے موبائل فون چھین لیتے ہیں تو بچے ذہنی دبائو اور مایوسی کا شکار ہوکر اپنی جان کا ہی خاتمہ کربیٹھتے ہیں۔ آن لائن گیمز اور سوشل میڈیا سے جڑی ایسی دل دہلا دینے والی خبریں بھی سامنے آتی ہیںجو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مجازی دُنیا آہستہ آہستہ حقیقی زندگی پر غالب آتی جا رہی ہے، جہاں رشتے، مکالمہ، جذبات اور زندگی کے اصل مقاصد اسکرین کے پیچھے دَب کر رہ گئے ہیں۔اگرچہ آن لائن گیمنگ بذاتِ خود کوئی جرم نہیں، نہ ہی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ دُرست استعمال کی صورت میں آن لائن گیمز ذہنی تیزی، فیصلہ سازی کی صلاحیت، توجہ اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب یہ کھیل تفریح کے دائرے سے نکل کر ایک نشےکی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔جس سےبچے اور نوعمر افراد رفتہ رفتہ سماجی تنہائی، ذہنی دباؤ، چڑچڑے پن اور افسردگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مسلسل اسکرین کے سامنے رہنے سے نیند متاثر ہوتی ہے، تعلیمی کارکردگی گرتی ہے اور خاندانی روابط کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ مجازی تعلقات اس قدر گہرے ہو جاتے ہیں کہ حقیقی رشتے بے معنی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ بعض گیمز میں تشدد، مقابلہ بازی اور خیالی دنیا کی چکاچوند بچوں کے نازک ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے، جس کا نتیجہ بعض اوقات انتہائی خطرناک صورت میں سامنے آتا ہے۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم بطور سماج اس خطرے کو یا تو نظر انداز کر رہے ہیں یا پھر اسے وقتی مسئلہ سمجھ کر ٹال دیتے ہیں۔ والدین اکثر مصروفیات کے سبب بچوں کے ڈیجیٹل رویّوں پر نظر نہیں رکھ پاتے، جبکہ تعلیمی ادارے بھی اس بڑھتے ہوئے مسئلے پر سنجیدہ مکالمہ قائم کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ نتیجتاً بچے اور نوجوان خاموشی سے ایک ایسی دنیا میں قید ہو جاتے ہیں جہاں واپسی کے راستے دھندلا جاتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین محض پابندیوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ بچوں کے ساتھ دوستانہ گفتگو کریں، ان کی دلچسپیوں کو سمجھیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ حقیقی دنیا کی اہمیت مجازی دنیا سے کہیں زیادہ ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نصاب کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہنی صحت پر بھی توجہ دیں اور آن لائن سرگرمیوں کے مثبت و منفی پہلوؤں سے انہیں آگاہ کریں۔
(رابطہ ۔ 9162216560)