فکرو ادراک
تسلیمہ اختر
رمضان کی پہلی اذان کے ساتھ ہی دنیا بدلتی محسوس ہوتی ہے، مساجد آباد ہو جاتی ہیں گھروں میں روحانیت اتر آتی ہے، تلاوتِ قرآن کی آوازیں دلوں کو نرم کرنے لگتی ہیں،فضا میں ایک عجیب سی پاکیزگی گھل جاتی ہے، مگر اسی پاکیزہ فضا کے نیچے ایک ایسا بھی رمضان ہوتا ہے جو صرف امیروں کے گھروں میں اترتا ہے، غریب کے گھر کے دروازے تک نہیں پہنچ پاتا۔ایک طرف افطار کے دسترخوان سجے ہوتے ہیں۔رنگ برنگےپھل، گرم پکوڑے،خوشبودار کھانے،میٹھے مشروبات۔اور دوسری طرف ایک ماں اپنے بچوں کے سامنے خالی برتن رکھ کر کہتی ہے،’’بیٹا آج پانی سے افطار کر لیتے ہیں‘‘اللہ بڑا مہربان ہے۔رمضان آتا ہے تو ہمیں بھوک کا احساس ہوتا ہے مگر غریب کو رمضان سے پہلے بھی بھوک ہوتی ہے اور رمضان کے بعد بھی بھوک رہتی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارا روزہ اذان کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔اس کا صبر ختم نہیں ہوتا۔بھوک جو عبادت کو بھی آزماتی ہے۔ہم سحری میں پیٹ بھر کر کھاتے ہیں، یہ یقین لے کر سوتے ہیں کہ شام کو دسترخوان ضرور سجے گا۔مگر ایک مزدور ایسا بھی ہوتا ہے جو سحری میں صرف پانی پیتا ہے کیونکہ گھر میں آٹا ختم ہو چکا ہوتا ہے۔وہ روزہ رکھتا ہے عبادت کے لیے نہیں، ایمان کے لیے۔کیونکہ اسے معلوم ہے:’’بھوک جسم کو کمزور کرتی ہے،مگر صبر روح کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘افطار کے وقت جب شہر کی گلیوں میں پکوانوں کی خوشبو پھیلتی ہے تو سب سے زیادہ اذیت روزہ نہیں دیتا،وہ خوشبو دیتی ہے جو غریب کے حصے میں نہیں آتی۔
ایک بچہ دروازے پر کھڑا دوسروں کے گھروں کے دسترخوان دیکھتا ہے اور خاموشی سے ماں سے پوچھتا ہے،’’امی! کیا اللہ ہم سے ناراض ہے۔‘‘ماں کی آنکھوں میں آنسو آتے ہیں، مگر وہ مسکرا کر کہتی ہے:’’نہیں بیٹا! اللہ تو ہمیں آزما رہا ہے، شاید ہم اس کے زیادہ قریب ہیں۔‘‘
ہمارا رمضان اور ان کا رمضان : ہم رمضان کو عبادت کا مہینہ کہتے ہیں، وہ رمضان کو برداشت کا مہینہ کہتے ہیں۔ہم کہتے ہیں:’’آج افطار میں کیا بنائیں۔‘‘وہ سوچتے ہیں: ’’آج افطار ہوگا بھی یا نہیں۔‘‘ہم تراویح میں لمبی قرأت سنتے ہیں۔وہ رات کو بچوں کے پیٹ کی آوازیں سنتے ہیں۔ ہم عید کے کپڑے پہلے خرید لیتے ہیں، وہ عید کے دن بھی پرانے کپڑے دھو کر استری کرتے ہیں۔
اصل عبادت کیا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھنا زیادہ تلاوت کرنا ہی سب کچھ ہے۔یقیناً یہ سب عبادت ہے، مگر اسلام صرف سجدوں کا دین نہیں ،دل جوڑنے کا دین ہے۔اگر ہماری عبادت ہمیں دوسروں کی تکلیف محسوس نہ کرا سکے،تو وہ عبادت جسم کی حرکت ہے روح کی نہیں۔نبی کریم ؐ نے فرمایا:’’وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر سو جائے جبکہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔‘‘سوچئے!ہم روزہ رکھ کر بھوکے رہتے ہیں، تاکہ اللہ کو یاد کریں مگر کوئی ہمیشہ بھوکا رہ کر بھی اللہ کو یاد کرتا ہے۔پھر اللہ کے نزدیک زیادہ قریب کون ہوگا۔ ہماری ذمہ داری کہاں شروع ہوتی ہے ۔ہم اکثر صدقہ دیتے ہیں مگر حساب لگا کر دیتے ہیں۔ہم زکوٰۃ دیتے ہیں مگر آخری دنوں میں دیتے ہیں۔ہم افطار کراتے ہیں مگر وہاں جہاں ہمیں دیکھا جائے۔
رمضان دکھاوے کی عبادت کا مہینہ نہیں یہ دل کی نرمی کا مہینہ ہے۔اگر ہمارے محلے میں ایک گھر بھی ایسا ہے جہاں چولہا ٹھنڈا ہے،تو ہمارا دسترخوان مکمل نہیں۔اگر کسی بیوہ کے بچے سحری میں جاگ کر پھر سو جائیں،تو ہماری تراویح ادھوری ہے۔غریب کی دعا سب سے بڑی دولت ہے۔غریب جب ہاتھ اٹھاتا ہے تو الفاظ کم ہوتے ہیں درد زیادہ ہوتا ہے۔اس کی دعا سیدھی آسمان تک جاتی ہے کیونکہ اس میں حساب نہیں ہوتا۔وہ یہ نہیں کہتا:’’یا اللہ مجھے بہت دے‘‘۔وہ کہتا ہے:’’یا اللہ بس بچوں کو بھوکا نہ سلا‘‘اور جس دن کوئی اس کے دروازے پر راشن رکھ جاتا ہے، وہ اس کے لیے نہیں، آپ کے لیے دعا کرتا ہے۔ رمضان کی سب سے بڑی کمائی پیسہ نہیں کسی مظلوم کی دعا ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟رمضان کو صرف اپنے لیے نہ رکھیں،اسے کسی اور کی زندگی بنا دیں۔ایک خاندان کی مکمل سحری اور افطار کی ذمہ داری لیں۔ زکوٰۃ رمضان کے شروع میں دیں تاکہ پورا مہینہ گزرے ۔بچوں کو سکھائیں کہ عید کی خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے، مسجد کے چندے کے ساتھ ساتھ کسی کے گھر کا راشن بھی دیکھیں ،بچا ہوا کھانا ضائع کرنے کے بجائے پہنچائیں۔یاد رکھیں:اللہ کو ہماری بھوک نہیں چاہیے،اللہ کو ہمارا دل چاہیے۔قیامت کے دن ہم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ کتنی بار قرآن ختم کیا؟یہ پوچھا جائے گا کہ
کتنے آنسو پونچھے،کتنے بھوکے کھلائے،کتنے دل بچائے۔رمضان گزر جائے گا مگر کسی کی دی ہوئی دعا ہمیشہ رہے گی۔ آخر میں بس اتنا سمجھ لیں کہ ہم روزہ رکھتے ہیں تاکہ جنت حاصل کریں مگر جنت کا راستہ کسی غریب کے گھر سے گزرتا ہے۔ اس رمضان اپنے دسترخوان کو تھوڑا سا چھوٹا کر لیں۔ کسی اور کا چولہا جل جائے گا۔کیونکہ سب سے میٹھا افطار کھجور نہیں،کسی بھوکے کی مسکراہٹ ہے۔