سبدر شبیر
انسانی زندگی کی سب سے پہلی اور سب سے خالص حقیقت ماں اور باپ کا وجود ہے۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جو ہمارے لیے ایک ایسے باغ کی مانند ہیں جہاں محبت پروان چڑھتی ہے، خلوص مہکتا ہے اور ایثار سایہ بن کر ہمیں ڈھانپ لیتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے ہماری زندگی کا آغاز ہوتا ہے اور جہاں سے ہمیں جینے کا ہنر ملتا ہے۔ یہ صرف رشتہ نہیں بلکہ ایک ایسی بنیاد ہے جس پر انسان کی پوری شخصیت تعمیر ہوتی ہے۔
بچہ جب پہلی بار آنکھ کھولتا ہے تو اسے دنیا کی وسعتوں کا نہیں بلکہ ماں کی آغوش کا احساس ہوتا ہے۔ ماں اس باغ کی زرخیز مٹی ہے نرم، محفوظ اور زندگی بخش۔ اس کی گود میں ایسا سکون ہوتا ہے جو کسی اور جگہ میسر نہیں آتا۔ وہ اپنی نیند، اپنی راحت، حتیٰ کہ اپنی خواہشات تک قربان کر دیتی ہے، مگر بچے کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتی۔ اس کی محبت بے لوث ہوتی ہے، خاموش مگر گہری، جیسے کسی خوشبو کا احساس جو نظر تو نہیں آتی مگر ہر طرف پھیل جاتی ہے۔
ماں کی شفقت صرف بچپن تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ زندگی کے ہر مرحلے میں ہمارے ساتھ رہتی ہے۔ ہم کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہو جائیں، اس کے لیے ہم ہمیشہ وہی ننھے بچے رہتے ہیں۔ اس کی دعائیں ہمیں ہر مصیبت سے بچاتی ہیںاور اس کی فکر ہمیں ہر لمحہ اپنے حصار میں رکھتی ہے۔ وہ ہمیں گرنے نہیں دیتی اور اگر ہم گر بھی جائیں تو سب سے پہلے ہمیں اٹھانے کے لیے موجود ہوتی ہے۔باپ اس باغ کا وہ مضبوط ستون ہے جو ہر آندھی اور طوفان کے مقابل ڈٹا رہتا ہے۔ وہ اپنے جذبات کو اکثر چھپا لیتا ہے، مگر اس کی ہر کوشش میں اولاد کا مستقبل پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس کی محنت، اس کی فکر اور اس کی ذمہ داری یہ سب مل کر ایک ایسا حصار بناتے ہیں جس کے اندر بچہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ اس کی ڈانٹ محض سختی نہیں بلکہ ایک سمت دینے کی کوشش ہوتی ہے۔
باپ کی زندگی اکثر قربانیوں کی ایک خاموش داستان ہوتی ہے۔ وہ اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر اولاد کی ضروریات کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کے خواب اکثر ادھورے رہ جاتے ہیں مگر وہ اپنے بچوں کے خواب پورے کرنے میں لگا رہتا ہے۔ وہ دن رات محنت کرتا ہے، تھکن کو نظر انداز کرتا ہے اور کبھی شکایت نہیں کرتا۔ اس کی خاموشی میں ایک گہری محبت پوشیدہ ہوتی ہے، جو الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی۔زندگی کے مختلف مراحل میں انسان کئی بار گرتا ہے، الجھتا ہے اور راستہ کھو دیتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ہاتھ سہارا دیتا ہے تو وہ ماں باپ کا ہوتا ہے۔ ان کی رہنمائی، ان کے تجربات اور ان کی دعائیں انسان کو دوبارہ سنبھلنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ ان کا ساتھ ایک ایسی روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔
کبھی ہم نے سوچا ہے کہ کتنی بار ہم کسی مشکل سے بچ نکلے؟ کتنی بار حالات ہمارے حق میں ہو گئے؟ اکثر اس کے پیچھے ماں کی دعا اور باپ کی فکر کارفرما ہوتی ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو نظر نہیں آتی مگر اثر ضرور دکھاتی ہے۔ یہی وہ انمول سرمایہ ہے جو کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔مگر جیسے جیسے انسان دنیا میں آگے بڑھتا ہے، وہ اسی بنیاد کو نظر انداز کرنے لگتا ہے جس پر اس کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ مصروفیات، خواہشات اور وقتی کامیابیاں اسے اس قدر الجھا دیتی ہیں کہ وہ ان ہستیوں کے لیے وقت نکالنا بھی مشکل سمجھتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ جس سایے میں وہ سکون محسوس کرتا ہے، وہ ہمیشہ قائم نہیں رہے گا۔
آج کا انسان مادی ترقی کے پیچھے اس قدر دوڑ رہا ہے کہ وہ اپنے رشتوں کو وقت دینا بھولتا جا رہا ہے۔ موبائل، سوشل میڈیا اور دنیاوی مصروفیات نے اسے اپنوں سے دور کر دیا ہے۔ وہ گھر میں موجود ہو کر بھی گھر والوں سے دور ہوتا ہے۔ خاص طور پر ماں باپ، جو خاموشی سے اس کی توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جب تعلق میں خاموش دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ نہ کوئی شور ہوتا ہے، نہ کوئی شکایت مگر فاصلے بڑھتے جاتے ہیں۔ ماں باپ کچھ کہتے نہیں، مگر ان کی آنکھوں میں ایک خاموش انتظار ہوتا ہے۔ وہ انتظار کہ شاید آج ان کا بچہ ان کے پاس بیٹھے، ان سے بات کرے، ان کے حال پوچھے۔
سب سے کڑی حقیقت یہ ہے کہ ماں باپ ہمیشہ ساتھ نہیں رہتے۔ ایک دن یہ سایہ اٹھ جاتا ہے اور انسان ایک ایسی خاموشی میں کھڑا ہوتا ہے جہاں صرف یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔ تب وہ لمحے چبھنے لگتے ہیں جب ہم نے ان کی بات کو ٹال دیا تھا یا ان کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے کسی اور مصروفیت کو ترجیح دی تھی۔افسوس اس وقت شدت اختیار کرتا ہے، مگر وقت واپس نہیں آتا۔ انسان چاہ کر بھی ان لمحات کو دوبارہ نہیں جی سکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ کاش ایک بار پھر ماں کی آواز سن لے، ایک بار پھر باپ کی نصیحت سن لے، مگر یہ خواہش صرف خواہش بن کر رہ جاتی ہے۔لہٰذا دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم اس رشتے کی قدر اس وقت کریں جب یہ ہمارے پاس ہے۔ محبت کا اظہار، خدمت کا جذبہ، اور وقت کی قربانی،یہ چھوٹے چھوٹے عمل اس تعلق کو مضبوط بناتے ہیں۔ ماں باپ کے چہرے پر ایک مسکراہٹ لانا شاید دنیا کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کی باتیں سنیں، ان کے تجربات سے سیکھیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ ہمارے لیے کتنے اہم ہیں۔ ان کے ساتھ گزارا گیا وقت کبھی ضائع نہیں ہوتا، بلکہ یہ وہ سرمایہ ہے جو زندگی بھر ہمارے ساتھ رہتا ہے۔
ماں باپ ہماری جڑیں ہیں۔ اگر جڑیں مضبوط ہوں تو درخت کبھی نہیں گرتا۔ اگر ہم اپنی بنیاد سے جڑے رہیں تو زندگی کے طوفان بھی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ باغ صرف ہمارا ماضی نہیں بلکہ ہماری پہچان بھی ہے، ہماری طاقت بھی ہے، اور ہماری اصل بھی۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ماں باپ واقعی جنت کا وہ باغیچہ ہیں، جس کی خوشبو وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوتی بلکہ یادوں میں اور بھی گہری ہو جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس خوشبو کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اس کی حفاظت کریں اور اس کی قدر کریں،کیونکہ یہی وہ رشتہ ہے جو ہمیں انسان بناتا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جو ہمیں زندگی کا اصل مطلب سکھاتی ہے۔