ڈاکٹر فلک فیروز
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں
میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا
نک ٹرنٹن ایک امریکی مصنف ہے جنہوں نے علم معاشیات اور علم نفسیات بالخصوص اعصابی اور رویاتی نفسیات پر اچھا خاصا کام کیا ہے ۔انہوں نے چند مشہور کتابیں لکھی ہے جن میں سٹاپ اوور تھنکنگ اور آرٹ آف لیٹنگ گو خاص طور سے قابل قدر کارنامے ہیں ۔اس کے علاوہ ان کی مختلف تحقیقی تحریریں بھی مشہور ہیں۔انہوں نے انسانی نفسیات اور انسانی رویوں کے ان عام فہم ،سیدھے سادے،روز مرہ زندگی میں پیش انے والے چھوٹے چھوٹے معمولی واقعات پر کام کیا ہے، جنہیں انسان بقدر آسانی چھوڑ سکتا ہے لیکن چھوڑ نہیں پاتا ہے بلکہ ایک معمولی واقعے کو غیر معمولی واقعہ بنا کر اپنی ذہنی اور روحانی زندگی پر بوجھ بنا کر رکھتا ہے، جس سے ایک انسان ذہنی روحانی جسمانی نفسیاتی سطح پر دباؤ شکار مرض کشمکش پریشانی اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے ۔ان کی تصانیف میں یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ وہ انسان کو یہ سمجھاتے ہوئے نظر اتے ہیں کہ اپنے ذہن کو کس طرح غیر ضروری باتوں سے صاف پاک رکھا جا سکتا ہے۔ کس طرح سے ان باتوں کو چھوڑا جا سکتا ہے جو ایک انسان کے ذہن پر غیر ضروری سطح پر سوار ہو جاتے ہیں۔
کتاب آرٹ آف لیٹنگ گو کا بنیادی متن ہمیں ان تمام چیزوں سے واقف کراتا ہے جو ہمیں زندگی کے مختلف موڑ پر اس لیے پریشان کرتے ہیں کیونکہ ہم ان چیزوں پر ان خیالات پر ان نظریات پر اپنی تمام ذہنی قوت صرف کر دیتے ہیں۔ جنہیں ہمیں اپنی ذاتی زندگی سے نکالنا چاہیے تھا یا جن کے بارے میں ہم اپنا رویہ مختلف طریقے سے پیش کر سکتے ہیں یا جن کو ڈیل کرنے کے دوران ہمیں اپنے مزاج کو ایک نئے طریقے سے تیار کرنا ہوتا ہے یا جن کو دوسرے طریقے سے سمجھنے جاننے پرکھنے دیکھنے کے بعد خود بخود ٹھیک ہونے کے امکانات واضح ایام اور درست ہو جاتے ہیں۔ لیکن انسانی زندگی میں یہ مراحل انتہائی سخت اور کٹھن ہوتے ہیں ان چیزوں سے نمٹنے کے لیے ایک انسان کو ذہنی سطح پر بہت مضبوطی اور بالغ ذہن کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے جو کہ انتہائی صبر آزما اور مہارت طلب مسئلہ ہے۔یہ کتابیں ذہنی انتشار کو خاموش کرنے، بے جا سوچوں اور اضطراب کے دائرے سے باہر نکلنے اور نقطۂ نظر میں تبدیلی کے ذریعے جذباتی آزادی حاصل کرنے کا ایک عملی ذہنی اوزار یا سامان فراہم کرتی ہیں۔ نئی ذہنی عادات اپنانے سے انسان اندرونی سکون، توازن اور ایک زیادہ پُرامن اور بھرپور زندگی کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔مصنف نے سٹوسزم فلسفہ کے نظریات کی تایید کرتے ہوئے اپنی کتاب میں خاموشی اور چھوڑ دینے کے ہنر کو آزماتے ہوے ذہنی صحت پر بحث کی ہے ۔رواقی فلسفہ سٹوسزم یونان کا ایک قدیم مکتبِ فکر ہے جو مشکل حالات میں پرسکون رہنے، جذبات پر قابو پانے اور فطرت کے مطابق زندگی گزارنے پر زور دیتا ہے، جس کا مقصد نیکی، عقل اور فرض کی ادائیگی کے ذریعے حقیقی آزادی اور خوشی حاصل کرنا ہے۔ اس فلسفے کی بنیاد زینو نے رکھی اور اسے طبیعیات، منطق اور اخلاقیات میں تقسیم کیا گیا، جس میں انسان کو کائنات کے نظام کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے اور اپنی عقل و جذبات کو کنٹرول کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔
In Stoicism, the Dichotomy of Control teaches us to categorize things into two distinct spheres: those within our control and those outside it.
کتاب دی آرٹ آف لیٹنگ گو کے مطالعہ کے بعد جو اسباق حاصل ہوتے ہیں ان کو درج ذیل نکات میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے ۔
۱ ۔تقسیمِ اختیار ایک بنیادی اصول ہے۔ اس کے مطابق ذہنی سکون اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اپنی توجہ اور کوشش صرف اُن چیزوں تک محدود رکھے جو اس کے اختیار میں ہیں جیسے اس کے اپنے خیالات، فیصلے اور اعمال نیز اُن امور کو قبول کر کے چھوڑ دیے جانے چاہیے جو آپ کے اختیار سے باہر ہیں، مثلاً دوسروں کے رویّے، افعال اور آرا۔یہ اصول انسان کو بے جا فکروں سے آزاد کر کے داخلی اطمینان اور توازن کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
۲۔غیر جانبدار سوچ وہ لمحہ ہے جہاں خیال پر فیصلہ ٹھہر جاتا ہے اور دل میں سکون اتر آتا ہے۔۳۔ خود سے فاصلہ وہ فن ہے جس میں انسان اپنی ذات کو پردۂ اسکرین پر رکھ کر دیکھتا ہے، اور جذبات کے شور میں بھی سمجھ اور سکون کی سرگوشی سن لیتا ہے۔ یہ کتاب ایک عملی رہنما ہے جو انسان کو منفی خیالات اور پریشانیوں پر قابو پانے، ماضی اور مستقبل کے بارے میں زیادہ سوچنے سے بچنے اور اندرونی سکون حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے، جس میں خود سے بات چیت کو مثبت بنانا اور کنٹرول چھوڑنا سکھایا جاتا ہے۔ یہ کتاب ہمیں سوچوں کے اندھا دھند چکر سے نکلنے اور ذہن کو صاف رکھنے کے طریقے سکھاتی ہے۔ اس کتاب سے سیکھا جاسکتا ہے کہ منفی خیالات کو چھوڑ کر مثبت بننا اور خود کو مضبوط بنانا اہم ہے۔کتاب کے مصنف کہتے ہیں کہ جن چیزوں کو آپ کنٹرول نہیں کر سکتے، انہیں چھوڑ کر آگے بڑھنا اور خود پر اعتماد کرنا ضروری ہے ۔ مصنف کے مطابق اپنے اندر کی آواز کو دشمن کی بجائے دوست بنانا اور اسے صحیح سمت میں استعمال کرنا چاہئے ۔ اس کتاب سے یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ ماضی کے غم اور مستقبل کے وہم سے نکل کر حال پر توجہ دینا اور یہ یقین رکھنا کہ چیزیں ٹھیک ہو جائیں گی۔ یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنی زندگی میں سکون اور آزادی لانے کے لیے ہمیں کس طرح اپنی سوچوں کو درست کرنا ہے، دوسروں کے رویوں سے متاثر نہیں ہونا اور وہ چیزیں چھوڑ دینی ہیں جو اب ہمارے حق میں نہیں ہیں، تاکہ ہم ایک پرسکون اور مطمئن زندگی گزار سکیں۔
بہت سے لوگ اس لئے زیادہ سوچنے کے عادی ہو جاتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے وہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی اپنی صحت کے بارے میں فکر مند ہے ۔تو وہ بیماریوں کی ممکنہ وجوہات اور حل پر بار بار سوچتا ہے۔ اس سے عارضی طور پر یہ تسلی ملتی ہے کہ وہ کچھ کر رہا ہے۔لیکن حقیقت میں یہ سوچ اسے کسی نتیجے تک نہیں پہنچاتی، کیونکہ وہ مسلسل امکانات کا تجزیہ کرتا، انہیں رد کرتا اور پھر نئے امکانات پر غور شروع کر دیتا ہے۔ یوں وہ ایک نہ ختم ہونے والے ذہنی چکر میں پھنس جاتا ہے۔ یہ کتاب ذہنی سکون، جذباتی آزادی اور زندگی میں آگے بڑھنے کے عملی اصول پیش کرتی ہے۔ مصنف کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسان کی زیادہ تر ذہنی پریشانیاں چیزوں کو پکڑ کر رکھنےتوقعات اور دوسروں کی رائےکی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔’’چھوڑ دینا‘‘ کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی اور خود اختیاری ہے۔ ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہوتی۔ جن باتوں پر ہمارا بس نہیں، انہیں چھوڑ دینا ذہنی بوجھ کم کرتا ہے۔ پچھتاوے، ناکامیاں اور پرانے زخم حال کو خراب کرتے ہیں۔ ماضی کو سیکھنے کا ذریعہ بنائیں ۔حد سے زیادہ وابستگی دکھ، حسد اور خوف کو جنم دیتی ہے۔ توازن اور فاصلہ جذباتی صحت کے لیے ضروری ہے۔ہر کسی کو خوش کرنا ناممکن ہے۔ اپنی قدروں کے مطابق جینا سیکھیں، نہ کہ لوگوں کی توقعات کے مطابق۔
حقیقت کو جیسا ہے ویسا قبول کرنا اندرونی سکون کی بنیاد ہے۔ مزاحمت درد بڑھاتی ہے، قبولیت طاقت دیتی ہے۔مستقبل کی فکر اور ماضی کی یادیں حال کی خوشی چھین لیتی ہیں۔ توجہ حال پر مرکوز رکھنا سکون کی کنجی ہے۔کتاب میں خود کلامی بدلنے، منفی خیالات کو چیلنج کرنے اور ذہنی حدود قائم کرنے کی سادہ تکنیکیں دی گئی ہیں۔
The Art of Letting Go ہمیں سکھاتی ہے کہ چھوڑ دینا دراصل اپنی ذات کو بچانا ہے۔ جب ہم غیر ضروری بوجھ چھوڑ دیتے ہیں تو ذہن ہلکا، فیصلے واضح اور زندگی بامعنی ہو جاتی ہے۔
بربادیوں کا سوگ منانا فضول تھا
بربادیوں کا جشن مناتا چلا گیا
رابطہ ۔8825001337.