فکرو فہم
گلفام بارجی
مادری زبان کسی بھی قوم کی پہچان، تہذیب اور ثقافتی ورثے کی امین ہوتی ہے۔ یہ صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا مضبوط رشتہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے اور دلوں کو جوڑتا ہے۔ انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے اپنی ماں کی آواز سنتا ہے اور وہی آواز اس کے لیے پہلی درسگاہ بن جاتی ہے۔ اسی زبان میں وہ محبت، شفقت، تربیت اور اقدار کا سبق سیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مادری زبان کو انسان کی فطری اور جذباتی شناخت قرار دیا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں ہر سال 21فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد لسانی تنوع کو فروغ دینا اور معدوم ہوتی زبانوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس دن کا اعلان UNESCO نے 17 نومبر 1999کو کیا جبکہ 2002میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ اس دن کو منانے کی تجویز بنگلہ دیش کی جانب سے پیش کی گئی جہاں 1952کی لسانی تحریک میں بے شمار افراد نے اپنی زبان کے تحفظ کے لیے قربانیاں دیں۔ یہ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ قوموں کی آزادی، غیرت اور خودداری کی علامت بھی ہوتی ہے۔
اگر ہم اپنے ملک کی طرف نظر ڈالیں تو یہاں لسانی تنوع کی ایک خوبصورت تصویر دکھائی دیتی ہے۔ مختلف ریاستوں اور علاقوں میں الگ الگ زبانیں بولی جاتی ہیں جو اپنے اندر صدیوں کی تاریخ اور تہذیب سموئے ہوئے ہیں۔جب ہم اپنے جموں و کشمیر کی بات کرتے ہیں تو جموں میں ڈوگری زبان بولی جاتی ہے جبکہ وادی کشمیر میں کشمیری زبان اکثریت کی مادری زبان ہے۔ اسی طرح ملک کے دیگر حصوں میں پنجابی، بنگالی، مراٹھی، گجراتی اور متعدد زبانیں رائج ہیں۔ یہ تمام زبانیں ہماری اجتماعی ثقافت کا حصہ ہیں اور ہمارے قومی ورثے کو مالا کی طرح پروئے ہوئے ہیں تاہم افسوس کا مقام یہ ہے کہ جدید دور کی چکاچوند میں بعض لوگ اپنی مادری زبان بولنے میں شرم محسوس کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ دوسری زبان خصوصاً انگریزی بولنا ترقی اور شائستگی کی علامت ہے۔ بلاشبہ عالمی زبانوں کا سیکھنا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ آج کی دنیا میں تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی روابط کے لیے دیگر زبانوں سے واقفیت ضروری ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنی مادری زبان کو پسِ پشت ڈال دیں۔
تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جو بچے اپنی مادری زبان میں مضبوط بنیاد رکھتے ہیں وہ دیگر زبانیں بھی بہتر انداز میں سیکھ سکتے ہیں اور بول سکتے ہیں۔ مادری زبان ذہنی نشوونما، تخلیقی صلاحیت اور اعتماد میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر بچہ اپنی ابتدائی تعلیم مادری زبان میں حاصل کرے تو وہ مضامین کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے اور اس کی سیکھنے کی رفتار بھی تیز ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر اسے ابتدا ہی سے کسی اجنبی زبان میں تعلیم دی جائے تو وہ نہ مکمل طور پر مادری زبان پر عبور حاصل کر پاتا ہے اور نہ دوسری زبان میں مہارت پیدا کر پاتا ہے۔گھر کا ماحول مادری زبان کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں سے مادری زبان میں گفتگو کریں تو بچے فطری طور پر اس زبان سے جڑ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کل بعض والدین اپنے بچوں سے غیر ملکی زبان میں بات کرنے کو فخر سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً بچے اپنے بزرگوں سے کٹ جاتے ہیں کیونکہ دادا دادی یا نانا نانی اکثر دوسری زبان سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے اس طرح خاندانی رشتوں کی مٹھاس متاثر ہوتی ہے اور نسلوں کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔مادری زبان ادب، شاعری اور لوک روایتوں کا خزانہ ہوتی ہے۔ کسی بھی زبان کا ادب اس قوم کے جذبات، خوابوں اور تجربات کی عکاسی کرتا ہے۔ کشمیری زبان میں صوفیانہ کلام، لوک گیت اور داستانیں ہماری تہذیبی شناخت کا حصہ ہیں۔ اگر ہم اپنی زبان کو نظر انداز کریں گے تو یہ قیمتی ورثہ بھی بتدریج ختم ہوتا جائے گا۔ زبان کے زوال کا مطلب ثقافت کے زوال کے مترادف ہے۔آج دنیا بھر میں کئی زبانیں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی صدی میں سینکڑوں زبانیں ہمیشہ کے لئے ختم ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال میں ہماری ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم اپنی مادری زبان کے تحفظ کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں۔ یہ کام صرف حکومت یا اداروں کا نہیں بلکہ ہر فرد کا فرض ہے۔تعلیمی اداروں میں مادری زبان کو مناسب مقام دیا جانا چاہئے۔ نصاب میں مقامی زبانوں کو شامل کیا جائے اور بچوں کو اپنی زبان میں تخلیقی اظہار کا موقع فراہم کیا جائے۔ میڈیا کو بھی چاہئے کہ وہ مقامی زبانوں میں معیاری پروگرام نشر کرے تاکہ نوجوان نسل اپنی زبان سے وابستہ رہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں نوجوان اگر اپنی مادری زبان میں تحریریں، شاعری اور ویڈیوز شیئر کریں تو یہ زبان کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دوسری زبان سیکھنا ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں، مگر اپنی زبان کو ترک کرنا نقصان دہ ہے۔ ترقی اور شناخت ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ ہم بیک وقت عالمی شہری بھی بن سکتے ہیں اور اپنی ثقافتی جڑوں سے جڑے بھی رہ سکتے ہیں۔ یہی توازن ہمیں ایک باوقار اور مضبوط معاشرہ بنا سکتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ 21 فروری کو محض رسمی تقاریب تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ پورے سال اپنی مادری زبان کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ہم اپنے گھروں میں، تعلیمی اداروں میں اور سماجی تقریبات میں اپنی زبان کو رواج دیں۔ اپنے بچوں کو اس پر فخر کرنا سکھائیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ مادری زبان کسی کمزوری کی نہیں بلکہ عزت اور وقار کی علامت ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مادری زبان ہماری پہچان، ہماری تاریخ اور ہماری روح کی آواز ہے۔ اگر ہم نے اسے سنبھال کر نہ رکھا تو ہم اپنی شناخت کھوبیٹھیں گے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی مادری زبان کو زندہ رکھیں گے، اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کریں گے اور اسے اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں گے۔ کیونکہ مادری زبان کا تحفظ دراصل اپنی شناخت کا تحفظ ہے اور یہی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کیونکہ مادری زبان ہم سب کی پہچان ہے۔