نئی دہلی//وراٹ کوہلی کا کہنا ہے کہ لمبے عرصے تک بائیو سیکیور ببل میں رہنا ناممکن ہوتا جارہا ہے کیوںکہ اس سے کھلاڑیوں کی ذہنی تندرستی پر خطرہ ہوتا ہے۔32 سالہ کوہلی نے کوویڈ 19 کے پیش نظر بنائے گئے کرکٹ کیلنڈر کے شیڈول میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔ کوہلی نے انگلینڈ کیخلاف تیسرے ون ڈے میچ کے بعد پریزنٹیشن تقریب میں کہا کہ جیسا کہ میں نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ شیڈولنگ ایک ایسی چیز ہے جس پر مستقبل میں بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ 2،3 ماہ تک بائیو سیکیور ماحول میں کھیلنا اور آگے بڑھنا بہت مشکل ہے۔کوہلی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی کھلاڑی 2 ماہ تک انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کیلئے ایک اور بائیو سیکیور ببل میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔بھارتی کھلاڑی ستمبر 2020ء میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والی آئی پی ایل کے وقت سے ہی ایک کے بعد ایک جگہ بائیو سیکیور ببل کا حصہ بن رہے ہیں۔ آئی پی ایس ایل کے بعد بھارتی کھلاڑیوں نے آسٹریلیا میں 3 ماہ بائیو سیکیور ببل میں وقت گزارا اور اس کے بعد انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز تھی جو 2 ماہ تک جاری رہی۔اس کے بعد وہ 9 اپریل سے 30 مئی تک 8 ٹیموں کے ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کیلئے اپنی اپنی فرنچائزز کو جوائن کریں گے۔ آئی پی ایل کے بعد بھارتی ٹیم انگلینڈ کیخلاف 4 اگست سے شروع ہونے والی 5 ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے قبل نیوزی لینڈ کیخلاف 18-22 جون تک ساؤتھمپٹن میں ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ فائنل کیلئے انگلینڈ کا سفر کرے گا۔اگرچہ غیرملکی کھلاڑیوں کو آرام کی ضرورت ہے اور وہ ڈالرز سے مالا مال آئی پی ایل چھوڑ سکتے ہیں لیکن بھارتی کھلاڑیوں کو یہ آفر میسر نہیں ہے اور ان سے یہ توقع ہے کہ وہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام ٹورنامنٹ کیلئے دستیاب ہوں گے۔آئی پی ایل میں رائل چیلنجرز بنگلور کی قیادت کرنے والے کوہلی نے کہا کہ آپ ہر ایک کی ذہنی مضبوطی ایک ہی سطح پر ہونے کی توقع نہیں کرسکتے ہیں،کبھی کبھی آپ شدید اکتا جاتے ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ اب تھوڑی بہت تبدیلی ہونی چاہیئے، مجھے یقین ہے کہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور مستقبل میں بھی چیزیں تبدیل ہوجائیں گی۔