یواین آئی
لندن/انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ سے قبل نائٹ کلب واقعے پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی غلطی سے نہ صرف ٹیم بلکہ کئی افراد متاثر ہوئے ۔ ٹرینٹ برج میں جمعہ سے شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بین سٹوکس نے اعتراف کیا کہ کرفیو کی خلاف ورزی کے واقعے کے اثرات ٹیم کے متعدد افراد پر پڑے جن میں کپتان جو روٹ بھی شامل تھے ۔بین اسٹوکس نے کہا کہ بطور کپتان سب سے پہلے ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ معذرت کریں کیونکہ اس واقعے سے صرف وہ خود نہیں بلکہ پوری ٹیم اور کرکٹ سے وابستہ دیگر افراد متاثر ہوئے ۔
انہوں نے کہا کہ جو روٹ کو ایک ایسی ذمہ داری سنبھالنا پڑی جس کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کیونکہ وہ پہلے ہی کپتانی چھوڑ چکے تھے ۔اسٹوکس کے مطابق اس صورتحال میں جو روٹ نے نہ صرف ایک عظیم کھلاڑی بلکہ ایک بہترین انسان ہونے کا ثبوت بھی دیا۔انگلش کپتان نے نوجوان کھلاڑیوں جورڈن کاکس، سونی بیکر اور جیمز ریو کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے مشکل حالات میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کے لیے یہ لمحات یادگار ہونے چاہیے تھے لیکن ایک غیر متعلقہ واقعے نے ان کی کامیابیوں کو متاثر کیا۔ بین سٹوکس کا کہنا تھا کہ ایک رہنما کے طور پر ذمہ داری قبول کرنا ضروری ہوتا ہے ، خاص طور پر جب معاملات درست نہ چل رہے ہوں۔انہوں نے کہا کہ متاثر ہونے والے تمام افراد سے معافی مانگنا میرا فرض تھا اور میں نے ایسا کیا۔35 سالہ آل راؤنڈر بین اسٹوکس نے کہا کہ اب میری تمام تر توجہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز جیتنے پر مرکوز ہے ۔