ماجد مجید
احادیث مبارکہ میں قرب قیامت کےزمانے کے حالات و واقعات کی جو تفاصیل ملتی ہے۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بہت خوفناک جنگ ہوگی، جس میں یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے مقابل ہوں گے۔ احادیث میں اس کا نام الملحمتہ العظمی اور عیسائی روایات میں Armageddon بتایا گیا ہے۔شام فلسطین اور مشرق وسطی کا علاقہ بنیادی طور پر میدان جنگ بنے گا ،جس کی وجہ سے اس علاقے میں بہت بڑی تباہی پھیلے گی۔ اس جنگ کے کئی مراحل ہوں گے،مسلمانوں کو اس میں بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن اللہ کی خصوصی مدد مسلمانوں کے شامل حال ہوگی ۔اللہ کی یہ مدد ظاہری اور مادی اسباب کی صورت میں بھی سامنے آئے گی ۔انہی اسباب میں سے ایک سبب سر زمین عرب میں ایک مجدد امام مہدی کا ظہور بھی ہوگا اور اُسی زمانے میں حضرت مسیح علیہ السلام کا بھی نزول ہوگا، تو مسلمان حضرت مسیح علیہ السلام اور امام مہدی کی قیادت میں عیسائیوں اور یہودیوں کے اتحاد کا مقابلہ کریں گے۔اس سے پہلے خراسان اور افغانستان کے علاقوں میں اسلامی حکومت قائم ہوچکی ہوگی اور اس حکومت کی طرف سے مذکورہ جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لئے افواج بھیجی جائیں گی۔اس جنگ میں بالآخر مسلمان فتح یاب ہوں گے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ کی معجزانہ تائید ہوگی، جس سے آپ یہودیوں کو ختم کردیں گے۔ آپ علیہ السلام کی آنکھوں میں ایک خاص تاثیر ہوگی، جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کی نگاہ پڑتے ہی یہودی پگھلتے چلے جائیں گے۔پھر آپ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے ۔احادیث میں آیا ہے کہ دجال بھاگنے کی کوشش میں ہوگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس کو مقام لد(Lydda اسرائیل کا سب سے بڑا ایئر بیس )پر جالیں گے اور قتل کردیں گے۔ ان سب واقعات کے بعد یاجوج اور ماجوج کے سیلاب کی شکل میں ایک دفعہ پھر دنیا پر مصیبت ٹوٹ پڑے گی ۔وہ ہر ٹیلے سے دوڑتے ہوئے آئیں گے ،شہروں کو روند ڈالیں گے، ہر چیز کو تباہ و برباد کردیں گے، جس پانی سے گزریں گے، اسے پی جائیں گے۔ پھر لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس شکایت لے کر آئیں گے تو وہ اللہ سے دعا کریں گے ۔اللہ ان کی گردنوں میں کیڑے پیدا کرکے انہیں آن ِ واحد میں ایک نفس کی موت کی طرح ہلاک کردیں گے۔ زمین پر ہر جگہ ان کی سرانڈ اور بدبو پھیلی ہوگی، پھر اللہ کے حکم سے بختی اونٹوں کی گردن برابر پرندے ان کی لاشوں کو وہاں لے جا پھینکیں گے، جہاں اللہ کا حکم ہوگا۔ پھر اللہ کے حکم سے بارش برسے گی، زمین پھر سے پاک صاف ہوجائے گی۔ زمین کو حکم ہوگا کہ پھل اُگا، برکتیں نکال ۔اس دن ایک انار پوری جماعت کھا سکے گی، حاملہ گائے کا دودھ ایک قبیلے کے لئے ،بکری کا دودھ خاندان کے لئے کافی ہوگا ۔لوگ اس حال میں ہوں گے کہ اچانک اللہ ایک ہوا بھیجے گا، جس سے ہر مومن مسلم فوت ہوجائے گا ،صرف بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے اور قیامت انہی پر قائم ہوگی۔ (قرب قیامت سے پہلے کتاب سے ماخوذ )
( ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی سرینگر )