بانہال// جموں سرینگر شاہراہ پر واقع سب ڈویڑن ہیڈکوارٹر رامسو میں مقامی سول سوسائٹی کی طرف سے ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی بیروز گار نوجوان کو درپیش مشکلات کے بارے میں ایک کمیٹی کو تشکیل دینا مقصود تھا۔ بدھ کے روز رامسو میں منعقد ہوئی سول سوسائٹی کے ممبران کی میٹنگ میں بے روزگار نوجوانوں کو فورلین شاہراہ کی تعمیر کیلئے یہاں آئی نئی تعمیراتی کمپنی میں رامسو سب ڈویژن کے بیروزگاروں اور ہنر مندوں کو روز گار دینے اور فورلین شاہراہ تعمیراتی کمپنیوں میں کام کرنے والے ورکروں کی تنخواہیں اور دیگر پروجیکٹ الاؤنس دلانے اور رامسو کے لوگوں کو اس قومی پروجیکٹ سے ہوئے نقصان کے بعد اس علاقے کی تعمیر و ترقی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں رامسو پنچائت کے سرپنچ سمیت تمام عوامی نمائندوں اور مقامی سول سوسائٹی کے ممبران نے شرکت کی اور با اتفاق رائے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے چیئرمین راجیش گپتا ہوں گے جبکہ کلدیپ سنگھ کو کمیٹی کا صدر ، عبد الرحمان سوہل کو نائب صدر اور عرفان میر کو جنرل سکریٹری کے طور منتخب کیا گیا ہے۔ اس میٹنگ فیصلہ کیا گیا کہ رامسو میں فورلین شاہراہ کی تعمیر اور کشادگی کے دوران جن لوگوں کی دکانیں کاروبار اور مکانات تباہ ہوئے انہیں کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر رام بن اور نئی تعمیراتی کمپنی کے حکام سے اپیل کی ہے کہ فورلین پروجیکٹ کی تعمیر میں رامسو کے مقامی لوگوں کو روزگار دیا جائے اور ضلع اور سب ضلع حکام یہاںآئی نئی فورلین شاہراہ تعمیراتی کمپنی کو مقامی لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے۔ کمیٹی نے حکام کو متنبہ کیا ہے کہ مقامی بیروزگاروں کو نظر انداز کرنے کی صورت میں مقامی لوگ شاہراہ پر احتجاجی مظاہروں کیلئے اتر آئیںگے۔ اس موقع پر کمیٹی کے عہداروں نے کہا کہ ریلوے پروجیکٹ کی طرح فورلین شاہراہ پروجیکٹ میں بھی تعمیراتی کمپنیوں نے غیر ریاستی ورکروں حتی کہ مزدوروں کی براہ راست برتی کرکے مقامی لوگوں کی حق تلفی کی جارہی ہے جبکہ سرکاری اور انتظامی سطح پر ان پروجیکٹوں میں مقامی مقامی بیروزگاروں، ہنر مندوں اور انجیروں کو نوکری دینے کی باتیں کی جاتی ہیں۔اس سلسلے میں ایس ڈی ایم رامسو کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا گیا جس میں عوامی مطالبات درج تھے۔